سکونِ قلب کا راز۔۔۔ شمس جیلانی

0
1116

آجکل پاکستان کے ٹی وی پرو گراموں میں جہاں لوگ کارونا سے پریشان ہیں تو وہیں وہ سکون قلب کے لئے بھی پریشان ہیں۔ تیسرے اس رویہ سے پریشان ہیں کہ جہاں بدل گیا ہے۔ دل پہلے ہوس زر نے اتنے بدل دیئے تھے کہ لوگ اس کوشش میں تھے کہ ملاوٹ کرنا پڑے یا دو نمبر کے کام کرنا پڑیں یا جعلی انجکشن بنا نا پڑیں کچھ بھی کریں مگر مال کمائیں اس سے لوگم مرتے ہیں تو انہیں مرنے دیں، مگرمال بنا لو جو کہ بچوں کے کام آئے۔ یہ صورت حال تھی جبکہ کارونا کی شکل میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عزاب بھیجدیا۔ یہ کوئی غیر متوقعہ بات نہیں تھی۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کو بہت پہلے خبر دار کردیا گیا تھا کہ دیکھو ان بلا ؤں کو دعوت نہ دیناکہ گناہ گاروں اور نکو کاروں دونوں پر عذاب آ جائے؟ مگرہم انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں لہذا محاورے بھی انگریزی ہی استعمال کرتے ہیں۔یہ ہی کہتے رہے کہ who cares کہ فکر مت کروکیا دقیا نوسی با تیں لے بیٹھے ہو؟ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا کیونکہ ہم حضور ﷺ کی امت ہیں۔ ہم نے ملک میں اتنے دستر خوان بنا دیئے ہیں ،بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لئے۔دنیا کی سب سے بڑی مسجد بنا دی ہے جس کا امام کعبہ نے آکر اپنے دست مبارک سے افتتاح فرمایا ہے۔ ہم سے زیادہ مخیر کوئی نہیں ہے۔یہ سب کچھ اللہ کو راضی کر نے کے ہی لئیے کیا ہے، وہاں کام کیوں نہیں آئے گا۔ مگر یہ شرط شیطان نے انہیں بھلادی کہ“ جو کچھ بھی میری راہ میں دو وہ حلا ل اور طیب ہونا چا ہیئے۔ چونکہ اللہ سبحانہ تعالی صرف اور صرف حلال اور طیب مال قبول کرتا ہے۔ دونمبر کی کمائی ہر دینے والے کے منہ پر مار دی جا ئے گی اور کسی کی ایک انچ زمین پر بھی کسی نے نا جا ئز قبضہ کیا ہے تو وہ اس کے گلے میں ڈال دیجا ئے گی۔ یہ سب کچھ کرنے والوں نے یہ قر آنی آیتیں نہیں پڑھیں جو سورہ انفعال کی 25اور 26ہیں۔ جنکا مفہوم یہ ہے کہ “ ایسے وبال سے بچو جو تم سب کو گھیر لے اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ پوری تفسیر ابنِ کثیرؒ میں دیکھ لیں جوکہ بہت طویل ہے۔ وہاں آپ کو اس سلسلہ کی بہت سی احادیث مل جا ئیں گی۔ان میں ایک کی راوی حضرت عا ئیشہ صدیقہؓ ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے دریافت کیا تو فرمایا کہ جب صاحب اقتدار لوگ ہر طرف سے آنکھیں بند کرلیں تو ایسا عذاب آئے گا۔ کہ اس میں گناہ گار اورنیکو کار دونوں نہیں بچیں گے۔ وہ اچانک آگیا اور کسی خبر بھی نہیں ہوئی۔ پتہ جب چلا جبکہ تمام پیش بندیاں اور گروہ بندیا ں نا کام ہوگئیں جدید ایجادات سب دھریکی دھری رہ گئیں۔
ابو لہب کے بارے مشہور ہے کہ اسے کوئی ایسی ہی بیماری ہوگئی تھی کہ کوئی اس کی تہجیز اور تد فین کرنے کو بھی تیار نہیں تھا۔اسے مزدوروں کے ذریعہ ایک گڑھے میں پھنکوادیا گیا تھا۔ اب اپنے چاروں طرف مشاہدہ فر ما لیجیئے کہ وہ جن کے ابا جی جا ئز اور نا جا ئز طریقہ سے مال بنا رہے بچوں کے لئے۔ وہ ابا حضور کے جنازے میں بھی شریک ہونے کو تیار نہیں کہ انہیں کہیں بیماری نہ لگ جا ئے۔ بہانہ یہ ہے کہ قبر ستان میں دس سے زیادہ لوگ نہیں جا سکتے، جن میں مزدور بھی شامل ہیں؟ اس سے پہلے کا جو مرحلہ گزرتا ہے وہ بھی سب کے لئے باعثِ عبرت ہے۔ کہ اپنے پیارے ہی ان کے کمروں میں جھانکنے کو تیار نہیں تھے۔ اس میں سعادتمند اور غیر سعادتمند دونوں ہی شامل تھے۔ سعادتمندو ں کی سوچ یہ تھی کہ کہیں کو ئی ابا سے اگر ملنے آ یا ہم کہیں سے کارونا لیکر آگئے تو انہیں لگ نہ جائے۔ مسئلہ وہی ہے چاہے خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر کٹنا خربوزے کو ہی ہے۔ یہ نتیجہ تھا قر آن نہ پڑھنے کا جبکہ ابھی وہاں کا عذاب بھگتنا باقی ہے۔
دوسرا دور یہ ہے کہ لوگ نفسیاتی مریض ہوتے جا رہے ہیں تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں خودکشیوں تناسب بڑ ھ جا ئے گا۔ مسلمان اور ڈپریشن اور خود کشی حیرت کی بات ہے۔ جبکہ قرآن کی آیت بتا رہی ہے کہ اللہ کے ذکرسے دل کو سکون حاصل ہو تا ہے۔وہ ہمیں کیوں نہیں ہورہا ہے اس لئے کہ ہم ذکر کرتے ہی نہیں قرآن کو کھول کر دیکھتے ہی نہیں ہیں۔ ہم کاروبارِ دنیا میں اسے بالکل غیر ضروری سمجھ تے ہیں۔ جبکہ مسلمانو ں کی دنیا، دین کے تابع ہے۔ پھر وہ ہمیں فائدہ کیسے پہنچا سکتا ہے جس نسخہ پر ہمیں یقین نہ ہو؟ وہ دوا ہمیں کیسے فا ئدہ پہنچا سکتی ہے جس میں طبیب کی شرط اول ہو کہ پہلے میرے اوپر ایمان لا ئیں پھر قرآن سے شفع حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ سورہ رعد کی آیت نمبر28 جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو تسلی ہوتی ہے(٢٨) تو جس طرح دوا کی شیشی کو لا کر طاق میں رکھدینے سے کوئی فائدہ ہوتا۔ یہاں بھی ایمان کے بغیراللہ کتاب ہمارے کسی کام نہیں آسکتی۔ اگر اس سے فا ئدہ اٹھانا ہے تو پہلے ایمان لانا ہوگا؟ تب اس سے کہیں جا کر فا ئدہ پہنچ سکتا ہے۔ بشرطِ اس سمت کوشش کریں اور اللہ ہمیں رحم کھا کر تو فیق وعطا فرمادے۔

SHARE

LEAVE A REPLY