ہم گزشتہ مضمون میں مہمان اور میز بان کے حقوق پر بات کر رہے تھے۔اب آگے بڑھتے ہیں اور جو خواتین کے حقوق اور ان کے سلسلہ میں جو تاریخ ہے اور جو ہدایات ملتی ہیں ان پر بات کر تے ہیں؟ پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ اسلام سے پہلے نہ تو معاشرے میں خواتین کی کوئی اہمیت تھی نہ ان کا کوئی مقام تھا۔حتیٰ کے وراثت میں جہاں اور چیزیں بیٹے کو باپ کی پہنچتی تھیں اسی طرح وہ اس کے ورثے میں آتی تھیں جن پر پورا اسے اختیار تھاکچھ احترام تھا تو سگی ماں اور بہنوں کا تھا اگر بہنیں باپ چھوڑجاتا تو۔ کیونکہ لڑکیوں کو زندہ دفن کا عام رواج تھا اس قسم کے قبرستان کو میں نے خود بھی دیکھا جو کہ مکہ معظمہ میں واقع تھا اور اس ذکر قر آن میں بار آیا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا اگر کسی ہاں لڑکی پیدا ہو جا ئے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور کفار کی جرائت تو دیکھو وہ فرشتوں ں کو میری بیٹیا ں بتاتے ہیں اور بیٹے اپنے رکھتے ہیں اور انکی اور دولت کی تعداد پرناز کرتے ہیں جبکہ سوتیلی ماں کو اپنے استعمال میں لا نے کا رواج توعام تھا۔جسے بعد میں قرآن میں ایک آیت کے ذر یعہ اسے ختم کیا “کہ اب تک جو ہوچکا آئندہ یہ نہ کریں۔ بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہ تھی کہ کوئی مرد کتنی بیویں رکھ سکتا۔ اسرا ئیلات کے مطابق حضرت داود ؑکی ۹۹ \بیویاں تھیں جبکہ ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان ؑ کی بھی ایک ہزارتھیں۔ اسلام نے آکر خواتین کے حقوق مقرر کیئے۔ بیویوں کی تعداد چار تک محدود کردی وہ اس شرط کے سا تھ کہ نہ کرو تو بہتر ہے کیونکہ اجازت مشروت ہے بشرط کہ “تم ِ انصاف کر سکو اور جہاں اجازت دی وہیں یہ بھی بتا دیا مگر تم انصاف نہیں کرسکوگے؟لہذا ایک ہی پر اکتفا کرو تو بہتر ہے؟البتہ عرب میں جو لونڈیاں پہلے سے چلی آرہی تھیں وہ مالکان کی ملکیت ہوتی تھیں اور ان سے جنسی تعلقلات وہ رکھ سکتے تھے؟ دوسروں کو تحفہ میں دے سکتے اور لے سکتے تھے۔ ان کی تعداد بہت بڑی تھی فوری طور پر انکی آباد کاری نامکن تھی اگر یونہیں چھوڑ دیتے تو بہت سی بھو کی مر جاتیں یا پھر غلط کاموں میں پڑ جاتیں اس پر قابو پانا ناممکن ہو جاتا؟ معاشرہ جو اسلام زنا سے پاک بنا نا چاہتا تھا وہ تباہ ہو جاتا لہذا غلاموں اور کنیزوں کے مسئلہ کوجو ں کا توں رہنے دیا گیا۔ البتہ ان کو ان کے مالکوں سے آزادی دلانے پر اتنا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اتنا بڑا ثواب رکھا کہ تھوڑے ہی عرصے کے بعد نہ غلام رہے نہ لو نڈیاں اس وقت سارا عرب، قیصر وکسریٰ سب ختم ہوچکا تھا مسلمانوں کی تعداد چند ہزار سے نکل کر ڑو میں پہنچ چکی تھی ۔ خواتین کی دو قسمیں بن گئیں ایک با قائدہ شادی شدہ تھیں وہ محصنات کے لقب سے پکاری جانے لگیں۔ جبکہ لونڈیا ں،لونڈیا ں ہی رہیں جب تک سب آزاد ہوکر محصنات میں شامل نہ ہو گئیں۔ یہ میں نے یہاں بات اس لیئے کی جو لوگ مسلمانوں کو مطعون کرتے ہیں ہیں کہ تمہارے ہاں چار بیویوں کی اجازت ہے۔ اور مسلمان سن کر شر ما جاتے ہیں؟ وہ جان سکیں کہ صورت حال کیا تھی۔ محصنات کو وہ حقوق اسی وقت مل گئے تھے جیسے ہی مدینہ منورہ کو اسلامی ریاست کا درجہ ملا۔اس قانون کے تحت پہلی مرتبہ خواتین کو یہ رتبہ ملا کہ انہیں مسلمان مردو کے ساتھ شامل کیا گیا۔ یہ آیت نازل ہو ئی جس میں حکم ہوا کے کسی مومن مرد اور مومن خاتون کے لیئے گنجائش نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولﷺ کسی کام کے لیئے حکم دیں تو اس کام میں اس کا کوئی اختیار باقی رہے جو شخص اللہ اور رسول ﷺ کاکہا نہیں مانے گا وہ صریحاً گمراہ ہوگیا“ اس سے پہلے ابتدا میں خواتین سے بیت لینے تک کےالفاظ الگ تھے جن کا عہدلیا جاتا تھا اس میں حٹیٰ المقدور کی انہیں سہولت تھی۔ ام المونیں حضرت ام سلمہؓ کے یہ فرمانے پر کہ مردوں ذکر قرآن میں ہر کہیں ہے ۔ خواتین کا کہیںنہیں ہے؟تب وہ آیتیں نازل ہو ئیں جن میں دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ ہے۔رتبہ میں۔ سوائے گھر کےجس میں مرد کع بر تری حاصل ہے۔کہ کماکے وہ لاتا ہے کھلانا بیوی اور بچوں کواس کی ذمہ داری ہے حتیٰ کہ بچے کو دوھ پلانا بیوی کی نہیںہے اس کی زمہ داری ہے۔ بیوی دودھ پلا ئے یا نہ پلا ئے اس کی مرضی ہے۔ اسی طرح اس کا اپنا کوئی ذریعہ آمدنی ہے تو اس کی مرضی ہے جس کو چاہے دے۔ چاہے تو بچوں اور گھر پر خرچ کرےتب اس کا دہرا ثواب ہے ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا راہ خدا میں خرچ کر نے کا۔ ایک حدیث ہے جس میں یہ حضور ﷺکا فیصلہ ہے۔ وہ حدیث اس طرح کہ ایک دن حضور ﷺ نےنراہ خدا میں خرچ کر نے کی بڑی فضیلت بیان فر مائی تو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی بیگم صاحبہ جوکہ چار ہنر جانتی تھیں اس سے انکا گھر چلتا تھا۔ انکو بڑا افسوس ہوا کہ میں تو اپنی ساری آ مدنی گھر اور بچوں پر خرچ کردیتی ہو ں اتنا بچتا ہی نہیں کہ راہِ خدا میں دوں۔چونکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود(رض) تو ہر وقت دربار رسالتﷺ میں رہ کر دین کی خد مت کر تے تھے؟انہوں یہ بات ان کے سامنے کی تو انہوں نے فرما یا کہ تم مجھے آج سے کچھ دینا بند کردو میرا مالک اللہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بند نہیںکرونگی آپ جا کر حضورﷺ سے پوچھ ّ کرآئیں تو انہوں نے فر مایا کہ نہیں تم ہی جاؤ میں نہیں جا ؤنگا وہ تشریف لے گئیں تو حضورﷺ زنان خانے میں تھے اور وہاں ایک اور اصار کی خاتون پہلے سے موجود تھیں جو یہ ہی سوال لے کر آئی تھیں اتنے میں حضرت بلال ؓ تشریف لے آئے تو انہوں نے ان دونوں آنے کی وجہ پو چھی تو انہوںنے جا کر حضور ﷺ کے سامنے معاملہ پیش کیا۔ تو حضورﷺ نے فرما یا کہ انہیں دہراثواب ملے گا ایک صلہ رحمی کا اور دوسرااللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا۔ٓ













