اسلام اورحقوق العباد(9) از۔۔شمس جیلانی

0
130

ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ جب آپ ہجرت کے لیے کسی ملک کا انتخاب کرنے لگیں تو کیا کیا دیکھیں۔ اب آگے بڑھتے ہیں ۔ یہاں کوئی کسی کے نہ مذہبی عقائد کو پوچھتا ہے نہ ہی دلچسپی لیتا ہے ۔آپ اپنی حدود کے اندر بالکل محفوظ ہیں۔ بشرطِ کے دوسروں کے حقوق کو آپ پامال کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ا گر عملی طور پر وہاں سے مسلمان آئے ہیں تو عمل جاری رکھئے۔ لیکن اگر نہیں تو کوشش کیجئے کہ اس پر عامل ہوجائیں کیونکہ عافیت اسی میں ہے کہ آپ خود بھی پکے مسلمان بن جائیں اور بطور سربراہ خاندان بیوی بچوں کو بھی صحیح راستہ پر رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر میری بات آپ کی سمجھ میں نہ آئے تو تھوڑا وہیں چل پھر کر دیکھ لیں کہ جہاں مقیم ہیں کہ آپ کو ایسے مسلمان بھی مل جائیں گے، جن میں سوائے مسلمان نامواور کچھ نہیں ملے گا اور وہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ ہمارے باپ داد مسلمان تھے۔ یعنی یہ موقعہ آپ نے ہاتھ سے کھودیا تو سب کچھ آگے چلکر کھودیںگے؟ اس لیے لیے کہ یہاں وہ ماحول نہیں ہے جو وہاں تھا۔ وہاں رویہ ریاکارانہ سہی، لیکن نام کے وہ مسلمان تو تھے۔ اگر آپ بچوں کوہدایت نہ دے سکے تو وہ اپنے ساتھیوں سے ہدایت لینا چاہیں گے پھرا ن سے متاثر ہو جائیں گے۔ اوراسلام سے بہت دورچلے جائیں گے یا پھر شدت پسندوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ جو بچوں کو بہکانے کے لیئے چاروں طرف گھوم رہے ہوتے ہیں۔

اس تفصیل میں میرے جانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کسی وقت بھی بچوں کی طرف سے غافل نہ ہوں، اگر ان میں آپ کوئی بھی تبدیلی دیکھیں تو ہوشیار ہو جائیں ۔ ورنہ پھر دیر ہو جائے گی۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جن کے یہاں حلال اور حرام کی پہچان رکھی جاتی ہے۔وہ بچے اکثر محفوظ رہتے ہیں ۔ کیونکہ یہ تمیزاس معاشرے کے رنگ میں پوری طرح رنگ جانے میں رکاوٹ کا کام کرتی ہے۔ لہذا آپ کبھی اس کی ہمت افزائی نہ کریں جو اور کھا رہے ہیں جو اور پہن رہے ہیں وہ بھی پہنیں!مثلاً اچھے بھلے کپڑوں کو پھاڑ کر اپنے اوپر چتھڑے سجا لیں ۔ یاد رکھئے مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں اور جس پوزیشن پر ہیںوہ ا پنی بہترین صلاحیتوں کو کام میں لانے کے لیے پابند ہیں ۔ جو پیغام ہمیں بار بار ہر جمعہ خطبے میں دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عدل اوراحسان کاحکم دیتا ہے “ اس میں دولفظوں پر زور دیا گیا ہے وہ ہیں “عدل “ اور “احسان “ اس میں سے عدل کے معنی تو سب سمجھتے ہیں مگر احسان کے اردو میں دوسرے معنی بھی ہیں ۔ مگر ہم فائدہ ان دونوں لفظوں سے نہیں اٹھاتے جوکہ اصل میں ہماری بد قسمتی ہے کہ قرآن میں ا لفاظ کی شکل ہماری لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے موتی بکھیرے ہوئے ہیں مگر ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اوراس پر بجائے عمل کرنے کہ جذدان میں لپیٹ کر طاق میں اسے رکھ دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہم میں بہت سی خرابیا ں آچکی ہیں ۔

اگر ہم صرف ایک لفظ عدل پر کاربند ہو جائیں تو دنیا میں ہم سے بہتر کوئی قوم نہیں ہوسکتی۔ جب کہ آجکل صورت ِ حال قطعی مختلف ہے۔ صرف اس ایک لفظ پر عامل نہ ہونے کی وجہ سے صورتِ حال یہ پیدا ہوچکی کہ ہر ہم سے معاملہ کرتے ہوئے ہر ایک ڈرتا ہے۔ کیونکہ ہم جوکہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں ۔ کہیں بھی وقت پر پہونچتے نہیں ہیں۔ جو وعدہ کریں گے اسے پورا نہیں کریں گے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ان چیزوں سے عدل کا کیا واسطہ ؟ اسے پرکھنے کے لیے حضور (ص) کی یہ حدیث یاد کرلیں کہ جو اپنے چاہو وہی اپنے بھا ئی کے لیے بھی چاہو! تو بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی۔ کیونکہ قرآن صرف حقیقی بھائیوں اور مذہبی بھائیوں کی بات نہیں کرتا وہ ہمیشہ پوری انسانیت کی بات کرتاہے۔اب ہر ایک کو اپنی جگہ رکھ کر دیکھئے کہ آپ کیا یہ اپنے لیےپسند کریں گےکہ آپ ساتھ کوئی وعدہ خلافی کرے۔ وقت کی پابندی نہ کرے ۔ کم تولے۔جب آپ یہ اپنے لیے پسند کرتے تو دوسرے کے لیے بھی پسند نہیں کریں گےااوروہ سارے جھگڑے ختم ہوجائیں گے جو چاروں طرف دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔کیونکہ یہ سب پیدا ہی بے انصافی کی وجہ سے ہوتے ہیں حتیٰ کہ سگا بھائی دشمن ہو جاتا ہے۔ اسی طرح “حسن “کا معاملہ ہے کہ یہ انسان کو مجبورکرتا کہ جہاں اور جس حیثیت میں ہو اپنی بہترین صلاحتیں صرف کرے؟ پھر اسکی ہر صفت سدھر جائیگی ، مثلا ً لین دین میں “حسن سلوک “آجائے تو کم تولنے کے بجائے گراہک کو زیادہ تولکر دیگا۔ اگر اس کی تحریر میں حسن آجائے تو تحریر سدھر جا ئیگی ۔ تقریر میں حسن لگ جا ئے۔تو وہ بھی بلندیوں کو چھوئے گی ۔ وغیرہ وغیرہ اور یہ نہ ہو تو لوگ آپ کے گھر آتے ہوئے کراہیت کریں گے۔ آپ کے ساتھ اٹھتے بیٹھے ہوئے کراہیت کریں گے۔ اور آپ کو کوئی ملازمت نہیں دے گا اور کوئی بھی ذمہ داری کا کام نہیں دیگا۔ جبکہ کسی بھی صفت کے ساتھ حسن لگ جانے۔ انسان میں چارچاند لگ جاتے ہیں ۔ اور اس کی دنیا اور دین بنانے کاباعث ہوتے ہیں ۔ لہذا سب سے پہلے آپ گھر والوں سے عد ل اور احسان برت کر دیکھئے ۔ پھر اس کے نتائج آپ کو اپنے چاروں طرف نظر آئیں گے۔ کیونکہ اچھائی کی خوشبو اللہ تعالیٰ خود ظاہر فرما دیتا ہے ۔ جبکہ برائی پردہ ڈالتا ہے کہ وہ ستار ہے اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے۔ باقی آ ئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY