قسط چھتیس
آدھی رات کو ابو عبداللہ الحسین نے
اطراف میں واقع پہاڑیوں اور دروں کا معائنہ کرنے کے لئے باہر نکلے
تو
نافع بن ہلال جملی کو معلوم ہوا
اور وہ امام حسین علیہ السلام کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے
خیام کے اطراف کا معائنہ کرنے کے بعد
امام حسین ع اپنی بہن زینب کبری(س) کے خیمے میں داخل ہوئے
نافع بن ہلال خیمے کے باہر منتظر بیٹھے تھے
اور سن رہے تھے
کہ
زینب(س) نے بھائی سے عرض کیا
کیا آپ نے اپنے اصحاب کو آزمایا ہے؟
مجھے ڈر ہے
کہ
کہیں یہ لوگ بھی ہم سے منہ پھیر لیں
اور جنگ کے دوران آپ کو دشمن کے حوالے کر دیں”
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
“خدا کی قسم!
میں نے انہیں آزما لیا ہے
اور
انہیں سینہ سپر ہو کر جنگ کیلئے اس طرح آمادہ پایا ہے
کہ
گویا
یہ لوگ میری رکاب میں جنگ کرنے کو
شیرخوار بچے کی اپنی ماں کے ساتھ رکھنے والی انسیت کی طرح انس رکھتے ہیں
نافع نے جب محسوس کیا
کہ
اہل بیتِ امام حسین علیہ السلام
آپ کے اصحاب کی وفاداری کے سلسلے میں فکرمند ہیں
چنانچہ وہ
حبیب بن مظاہر اسدی سے مشورہ کرنے گئے
اور دونوں نے آپس کے مشورے سے فیصلہ کیا
کہ
دوسرے اصحاب کے ساتھ مل کر
امام حسین علیہ السلام کے اہل بیتِ کو یقین دلائیں
کہ
اپنے خون کے آخری قطرے تک امام حسین ع کا دفاع کریں گے
حبیب بن مظاہر نے اصحاب امام حسین ع کو بلایا
بنی ہاشم کو خیموں میں واپس بھیج دیا
پھر اصحاب سے مخاطب ہو کر
جو کچھ نافع نے امام حسین ع اور حضرت زینب سے سنا تھا، پھر دہرایا
تمام اصحاب نے کہا:
” اس خدا کی قسم
جس نے ہمارے اوپر احسان کرکے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے
اگر
امام حسین ع کے حکم کی انتظار میں نہ ہوتا
تو ابھی ان (دشمنوں) پر حملہ کرتے
اور اپنے جانوں کو امام پر قربان کرنے کے ذریعے پاک کر تے
اور اپنی آنکھوں کو بہشت کی دیدار سے منور کرتے ”
حبیب ابن مظاہر
دوسرے اصحاب کے ہمراہ ننگی تلواروں کے ساتھ
حرم اہل بیت کے قریب گئے
اور بلند آواز سے کہا
“اے حریم رسول خدا
یہ آپ کے جوانوں اور جوانمردوں کی شمشیریں ہیں
جو کبھی بھی نیام میں واپس نہ جائيں
یہاں تک
کہ
آپ کے بدخواہوں کی گردنوں پر اتر آئیں
یہ آپ کے فرزندوں کے نیزے ہیں
اور انھوں نے قسم اٹھا رکھی ہیں
انہیں صرف اور صرف ان لوگوں کے سینوں میں گھونپ دیں
جنہوں نے آپ کی دعوت سے روگردانی کی ہیں
امام حسین علیہ السلام نے
اپنے اہل بیعت علیہ اسلام اور اصحاب عنہم کے جذبات سن کر
ان کی معیت میں رات بھر نوافل ادا کئے
اور بارگاہِ ایزدی میں عاجزی و انکساری کے ساتھ مغفرت کی دعائیں مانگیں
امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں
“ اے پروردگار !
جس نے تجھے کھو دیا اس نے کیا پایا؟
اور جس نے تجھے پا لیا اس نے کیا کھویا؟
جس کو دنیا مل گئی
مگر
اس نے
خدا کو کھو دیا
اس کی یہ دنیا کسی کام کی نہیں ہے
اور جس نے پروردگار کو پا لیا
اگر پوری دنیا بھی اسے چھوڑ جائے
تو
اسے کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہیے
کیونکہ پرودگار عالم اس کے ساتھ ہے“
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
“ اے پروردگار !
وہ چیز کیسے تیری رہنمائی کرسکتی ہے
جو اپنے وجود میں ہی تیری محتاج ہے؟
آیا تیرے سوا
کسی اور شے کے لئے ایسا ظہور ہے
جو تیرے لئے نہیں ہے
یہاں تک
کہ
وہ تجھے ظاہر کرنے والی بن جائے؟
تو کب غائب تھا
کہ
کسی ایسے نشان کی حاجت ہوجو تیری دلیل ٹھہرے؟
تو کب دور تھا
کہ
آثار اور نشان تجھ تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ بنیں؟
پروردگار!
میں تو جہاں بھی دیکھتا ہوں وہاں تیری ہی ضیاء افشانی ہے
پروردگار!
اندھی ہے وہ آنکھ جو تجھ کو اپنا نگہبان نہیں پاتی
اے معبود !
کوئی شخص کسی طرف مائل ہوا
کوئی کسی طرف مائل ہوا
میں تیری طرف مائل ہوں
اور کوئی
کسی کی پناہ میں جاتا ہے میں تیری پناہ لیتا ہوں
اے معبود رحمت
نازل فرما محمد و آل محمد ص پر
اور میری آواز سن
اور میری دعا قبول فرما
میری بازگشت اور ٹھکانہ اپنے ہاں قرار دے
میری نگہبانی کر
سخت آزمائشوں مشکل وقت
اور شیطان کی دخل اندازیوں میں
اپنی عظمت کے ذریعے
جس میں نفس کی خواہش کا شائبہ نہیں
نہ بدگمانی کے کسی خیال کا گزرہو
اور نہ مدہوشی کا خطرہ
تاآنکہ
تومجھے
اپنی طرف پلٹائے
اپنے ارادے سے
بدگمانی اور نہ تہمت کے ساتھ
نہ شک و شبہ کی حالت میں
یقینا
تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
اے پروردگار !
قرآن اور یسین کے وسیلہ سے
طہ اور قرآن عظیم کے وسیلہ سے
اے سوال کرنے والوں کی حاجتیں پوری کرنے والے
اے وہ جو دلوں میں موجود کو جاننے والے
اے وہ جو کرب میں مبتلا لوگوں کو کرب سے نجات دیتے ہو
اے جو پریشانیوں میں مبتلا لوگوں کی پریشانیوں کو دور کرتے ہو
اے وہ جو بزرگوں پر رحم کرتے ہو
اے وہ جو چھوٹے بچوں کو رزق عطا کرتے ہو
اے جو تفسیر کے محتاج نہیں ہو
محمد صلی اللہ وآلہ واسلم و آل محمدص پر اربوں درود پیش ہے
اور میرے ساتھ ایسا سلوک کر جو تمہارے شایان شان ہے “
دشمنوں میں گھر جانے پر
امام حسین علیہ السلام اللہ پاک کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں
“پروردگار!!
تیری جگہ بلند ہے
تو عظیم الشان قدرت والا ہے
سخت قہر و غضب والا ہے
مخلوقات سے بے نیازہے
وسیع قدرت والا ہے
جس پر چاہتا ہے قدرت رکھتا ہے
بہت نزدیک ، رحمت والا ہے
سچے وعدے والا ہے
زیادہ نعمتوں والا اور اچھی آزمائش والا ہے
جب پکارا جائے
تو
تو بہت نزدیک ہے
اپنی مخلوقات پر محیط ہے
جو تیری طرف آئے، تو اس کی توبہ قبول کرتا ہے
اپنے ارادے پر قادر ہے ، جسے چاہے پالیتا ہے
جب تیرا شکرادا کیا جائے تو شکر قبول کرتا ہے
اور جب تجھے یاد کیا جائے تو یاد آتا ہے
تیری طرف نیاز مند ہوکر تجھے پکار رہا ہوں
ایک فقیر اور خالی ہاتھ تیری طرف آیا ہوں
خوف اور ڈر سے تیری بارگاہ میں آیا ہوں
دکھوں سے تیرے حضور میں گریہ کناں ہوں
ضعف و ناتوانی کی صورت میں تجھ سے مدد کا طلبگار ہوں
تجھے اپنے لئے کافی سمجھتے ہوئے توکل کرتا ہوں
پروردگارا!
ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق سے فیصلہ فرما
سچ یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں فریب دیا
دھوکہ دے کر ہمیں قتل کر رہے ہیں
جبکہ
ہم تیرے نبی ص کی اولاد ہیں
کہ
جنہیں تو نے
رسالت جیسے عظیم منصب کیلئے منتخب فرمایا
انہیں اپنی وحی پر امین قرار دیا
پروردگارا!
ہمارے لئے کوئی راہ نکال دے
اے بہترین رحمت کرنے والے
اے اللہ!
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
تو پناہ کے متلاشیوں کی پناہ گاہ ہے
خوفزدہ تیری طرف پلٹتے ہیں
اے پکارنے والوں کی پکار سننے والے
اے پرودگار !
میں تجھ سے
تیرے عرش
تیری کتاب سے
تیری رحمت اور تیرے اسماء عظیم
اعظم،کبیر،اکبر،طاہر،مطہر ، قدوس، مبارک کے ذریعے سوال کرتا ہوں“
امام حسین ع کی دعائیں
خدا شناسی کا عظیم مجموعہ ہیں
ان دعاؤں میں اللہ کے اختیارات اور بندے کی ناتوانی کا زکر ہے
ان میں بظاہر امام حسین علیہ السلام دعا فرما رہے ہیں
مگر وہ دعا کے ساتھ ساتھ
ایک عظیم الشان دینی خزانے سے بھی آشنا کروا رہے ہیں
شب عاشور دھیرے دھیرے صبح میں بدل رہی تھی
جاری ہے













