اس لطافت کو تھام آنکھوں سے ۔نقاش عابدی

0
875

آج دل کا پیام, آنکھوں سے
مل گیا ہے تمام, آنکھوں سے

بزمِ یاراں میں بیٹھ کر اس نے
لکھ دیا میرا نام, آنکھوں سے

اس کے جذبوں کو چھیڑنے کے لئے
آج لینا ہے کام, آنکھوں سے

جیتنا ہے, تو پھر بدل ڈالو
میرے دل کا نظام, آنکھوں سے

جھک گئی ہے نگاہ کیوں تیری
گر گیا کیا مقام, آنکھوں سے

خود کو اس کی نگاہ میں جڑ کر
لے لیا انتقام, آنکھوں سے

تم گئے ہو تو جیسے روٹھ گیا
شوخیوں کا قیام, آنکھوں سے

وعدۂ وصل آج ہے شاید
یوں جھلکتی ہے شام آنکھوں سے

دل نے بھیجا ہے پیار کا تحفہ
اس لطافت کو تھام آنکھوں سے
(نقاش عابدی )

SHARE

LEAVE A REPLY