سقراط اور کمسِن سقراط, آنِس معین: ظفر علی راجا

0
968

آنس معین کمسن سقر اط ہے۔
یہ متذکرہ بالاجملہ مر حو م جو ش ملیح آبا دی نے آنس معین کے با رے میں کہا تھا ۔ لیکن میرے خیا ل میں سقراط اور آنس معین کے حالات میں ایک بنیادی فرق ہے ۔ سقر اط نے اپنے نظر یا ت کی حقا نیت پر اصر ار کیا ۔ اور جب جبر کی تعزیریں زندگی کی زنجیریں بننے لگیں تو اس نے اپنے کہے ہوئے سچ کی حرمت کو بر قر ار رکھنے کے لئے ، اپنی انا کا پرچم سر بلند رکھنے کے لئے ، دست ِجہالت پر رکھا ہو ا زہر کا پیالہ اٹھا کر پی لیا تھا ۔ اس طر ح وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سچ کا بھرم رکھنے میں کا میا ب و کا مران رہا ۔ اس کے بر عکس مجھے یقین ہے کہ آنس معین کسی سچ کا بھرم رکھنے کے لئے نہیں بلکہ جھوٹ کا بھرم کھولنے کے لئے اس فر یب ِگا ہ ِشب و روز میں آیا تھا ۔اور اس نے دل ہی دل میں یہ ٹھان رکھی تھی کہ اگر اس جد وجہد میں اسے جا ن کی با زی بھی لگانا پڑ ی تو جھوٹ کا پردہ چاک کرنے کے لئے وہ یہ حربہ آزمانے سے دریغ نہیں کر ےگا ۔سقر اط کی طر ح کسی ذاتی نظرئیے کی سر بلندی اس کے پیش نظر نہ تھی ۔ بلکہ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہو ئی اجتما عی نا انصا فیوں ، منافقتوں، تضادات اور ایسے ہی ان گنت منفی رویوں پر صدا ئے احتجا ج بلند کرنا چا ہتا تھا ۔ چاہے اس جنگ میں اسے حد ِبدن سے آگے بڑھ کر بھی کیو ں نہ لڑ نا پڑے۔ لیکن اس آخر ی حد تک جا نے سے پہلے اس نے مناسب سمجھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنی موت کی پیش گو ئی کے طو ر پر پیش کر ے۔ تا کہ وہ آنکھیں جو پردہ ءغیب میں مستو ر ان ہو نیو ں کو دیکھ سکتی ہیں ،وہ حسیا ت جو مایوسی کے بطن سے جنم لینے والی خون آشام بغاوتو ں کی دھمک رگِ جا ں پر محسو س کر سکتی ہیں ۔ اور وہ فکر ی قوتیں جو پیش گو ئیوں کے دبیز پر دوں میں ملفو ف مضبو ط ارادوں تک پہنچ رکھتی ہیں ، کر ب میں ڈو بی ہو ئی اس کی آواز کو سن کر اپنے گریبا نو ں میں جھا نک سکیں۔اور اس طر ح ایک بے سکو ن معا شر ے کو معمو رہء امن میں تبد یل کرنے کے لئے پیش قد می کا آغا ز ہو سکے ۔
آنس معین کا ایک شعر ہے ۔

اسے ملے ہو مگر جا نتے کہا ں ہو تم ؟
خود اپنے آپ پہ آنس ابھی کھلا کب ہے

ایسا محسو س ہو تا ہے کہ اپنی طو یل با طنی جذ با تی کشمکش سے نبر د آزما ہو نے سے قبل آنس معین نے اپنی ذات کے اتھا ہ اور خا مو ش سمند ر میں تہہ تک اتر کر اپنا تجزیہ کیا تھا ۔ اپنے پیکر خاکی میں چھپے ہو ئے اپنے اصل کو ٹٹو ل کر دیکھا تھا ۔ اور اپنی فکر ی فراست کو عبادت کے مقد س درجے پر فا ئز پا یا تھا ۔ وہ اپنی اس عبا دت کے اسر ارمعاشر ے پر کھو لنا چا ہتا تھا ۔ چا ہے اس کے لئے ، جیسا کہ میں نے قبل ازیں کہا ہے ، اپنے بدن کی خانقاہ تک کو خیر با د کیوں نہ کہنا پڑے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ سے یہ چبھتا ہو ا سوال کرتا ہوا دکھا ئی دیتا ہے ۔

اگر نہیں میں آشنا عبادتوں کی رسم سے
چھپا ہوا ہوں کس لئے بدن کی خانقا ہ میں

ہر وہ ذی ہو ش جسے قد ر ت کی طر ف سے ہو ش کے ساتھ ساتھ جو ہر ِبصیر ت بھی ودیعت کیا گیا ہو۔ اپنے اردگر د پھیلے ہو ئے زما نہ ءحا ل کے تلخ و شیر یں تا نے با نے سے مستقبل کے متو قع نقو ش اپنے پر دہء ذہن پر مصو ر کر تا رہتا ہے ۔ ایسا شخص اگر سچا فنکا ر بھی ہو تو اس عمل میں اس کے اجا گر کئے ہو ئے نقو ش ایسی تصو یر وں کے مماثل ہو تے ہیں ۔جو معا شر تی اور قو می کر دار کی حیر ت انگیز حد تک صحیح عکا سی کر تی ہوئی دکھا ئی دیتی ہیں۔ آنس معین بھی ایک سچا فنکا ر تھا۔ اس لئے معا شر ے کے اجتما عی کر دار کی جو عکس بند ی اس کی شا عر ی میں دکھا ئی دیتی ہے ۔ اسے ایک بر ہنہ حقیقت کے سوا اور کو ئی نا م ہر گز نہیں دیا جا سکتا ۔

گہر ی سو چیں ،لمبے دن اور چھو ٹی راتیں
وقت سے پہلے دھو پ سر وں پر آپہنچی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محو خواب ہیں سا ری دیکھنے والی آنکھیں
جا گنے والا بس اِک اند ھا سنا ٹا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جستجو میں ہوں آئینے کو کھر چ رہا ہوں
میں رفتہ رفتہ مٹا رہا ہوں نشا ن اپنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت سے پہلے سر وں پر آجا نے والی دھو پ، خواب ِ غفلت میں پڑے ما حول میں سنا ٹو ں کا جا گنا اور اپنے ہا تھوں سے اپنے ہی نشا نا ت ِعظمت کو رفتہ رفتہ مٹا ڈالنے کا رویہ اور ایسی ہی دوسر ی زوال بد وش علا ما ت کا ذکر کرنے کے ساتھ ہی ساتھ آنس معین کچھ ایسے نکتے اور کچھ ایسے سو الا ت بھی اٹھا تا ہے ۔جو ان علا ما ت کے عقب میں چھپے ہو ئے اصل سما جی روگ کو بے نقا ب کر نے اور سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔

مجھ سے پو چھو پیٹر سے پتے کس نے چھینے
میں نے ہوا کے قد مو ں کی آواز سنی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیر چمن کی کرنے والو تم نے سنی تو ہوگی
پاءو¶ں تلے آجا نے والے پتوں کی آواز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان پتوں نے خو د ہی رہا ئی ما نگی تھی
یا پھر تیز ہوا کے جھو نکے وحشی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن معا شر ے کی شر یا نوں میں اتر ی ہو ئی گہر ی بے حسی اور سنگدلا نہ جمو د آنس معین کے کو نپل مثا ل استعا روں کے گداز سے کب پگھل سکتا تھا ۔ سو اس کے چا روں طر ف گھمبیر قا تل سر د مہری کے خا مو ش مقتل دور دور تک پھیلتے چلے گئے، وہ اس جا ن لیوا چپ پر گھبر ا کر چیخ اٹھا ۔

کس سے بولوں ، یہ تو اک صحرا ہے جہا ں پر
میں ہو ں یا پھر گو نگا بہرا سنا ٹا ہے
۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ما یو سی کا وہ المنا ک دور شر وع ہو تا ہے ۔ جہاں آنس معین نے صر ف یہ محسو س کرنا ہے کہ اعلیٰ اقد ار سے متصف اس کے تصو راتی معا شر ے کا پورا ڈھا نچہ زمیں بو س ہو رہا ہے ۔ بلکہ اسے یو ں لگتا ہے ۔ جیسے وہ خو د بھی اس ملبے میں دفن ہوا جا رہا ہے ۔

عجب اندا ز سے یہ گھر گرا ہے
مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے
۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر وہ ارضی جنت ہے ۔ جس میں سب لو گ ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں۔ ایک سا کھا تے ہیں ۔اور ہر طر ح کے دکھ درد اور خو شی سے با ہم مل کر نبا ہ کر تے ہیں ۔ اپنے وجدان میں بسے ہوئے مثا لی معا شرے، جسے آنس معین گھر کہہ کر پکا رتا ہے، کی تبا ہی میں شر یک جرم ہونا اور سزا جیسا یہ سنگین منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا اسے گوارا نہیں ۔ لہٰذا وہ اس گھر کی مکمل تبا ہی سے پہلے اسے تج کر کسی دوسر ی جا ئے امان کی جستجو کرتا ہے ۔

رہتا ہوں جس زمیں پہ وہی اوڑھ لوں گا میں
جا ئے اماں اک اور بھی ہو تی ہے گھر کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممکن ہے کہ صد یو ں بھی نظر آئے نہ سو ر ج
اس با ر اند ھیرا مرے اند ر سے اٹھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی وہ تا ثر ہے ۔ جس نے نو جوان آنس معین کو اپنی ہی مو ت کی پیش گو ئی بنا دیا ۔ اور سر سوں جیسی زر دیا سیت میں ڈوبے ہو ئے اس کے اشعا ر اس کی جواں مر گی کی واضح نشا ن دہی کر نے لگے ۔جسے مستقبل قریب میں یہ وسیع النظر شا عر اپنے لو ح ِ تقد یر پر لہو کی روشنا ئی سے رقم کر نے والا تھا ۔
نہ تھی زمین میں وسعت مر ی نظر جیسی
بد ن تھکا بھی نہیں اور سفر تما م ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو پیا سا لگتا تھا سیلا ب زدہ تھا
پا نی پا نی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے اپنے اند ر ایک بھنو ر تھا ،جس میں
میرا سب کچھ سا تھ ہی میرے ڈوب گیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے ہی سا نسوں کے جھو نکوں سے زند گی کا چر اغ گل کر دینے اور جسم کا زنداں کھو ل کر نکل بھا گنے اور پھر ایک معصو م بچے کی طر ح سو جا نے کی یہ خواہش آنس معین کی نظموں میں بھی ملتی ہے ۔

اپنے ہی سا نسو ں کے جھو نکوں سے دیا بجھ جا ئے گا
جسم کے زنداں کا دَر کھل جا ئے گا
ختم ہو جا ئے گا پھر یہ کر ب بھی تنہا ئی کا
اور میں قطر ے کی طر ح
وسعت ِ دریا میں گم ہوجا ﺅ ں گا
ایک بچے کی طر ح سوجا ¶ﺅں گا

یہا ں نظم کا آخر ی مصر عہ”ایک بچے کی طر ح سو جا ﺅ ں گا”¶بہت اہم ہے ۔ بچہ معا شر ے میں اچھا ئی ۔ بے گنا ہی ۔ پیا ر اور نیکی کی علا مت ہو تا ہے ۔ ایک زہر یلے ہزار پا ئے کی طر ح اپنے ارد گر د پھیلی ہو ئی ہمہ گیرمنا فقت۔ کذب اور افتراءمعصو م بچے کی پا کیز ہ شخصیت کو آلو دہ نہیں کر سکتے ۔شخصیت میں پا کیزگی کی تعمیر ہی دراصل آنس معین کا خواب تھا ۔جب اس نے اس خواب سے با ہر آنکھیں کھو ل کر دیکھا تو اسے یو ں لگا جیسے اس کے خواب اور تعبیر کے درمیا ن صد یو ں کا فا صلہ حا ئل ہے ۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ فا صلہ صدیو ں کے ساتھ ساتھ کم ہو نے کے بجا ئے اور بڑھتا چلا جا ئے ۔ آنکھیں کھو ل کر حا لا ت کا جا ئزہ لینے والا کو ئی بھی دانش ور اسی نتیجے پر پہنچتا ۔ لیکن ایک عا م دانشو راور آنس معین میں فر ق یہ تھا کہ آنس نے اس مر حلہ پر اپنا زبر دست احتجا ج ریکا رڈ کر وانے کا تا ریخی فیصلہ کیا ۔ اور وہ بھی اس طر ح کہ اپنے جسم کا زندان بیچ میدا ن کے کھو ل دیا ۔ اور یہی وہ احتجا ج تھا ۔ جس کا پیشگی اعلا ن وہ ایک مد ت سے کر تا چلا آرہا ہے ۔
اپنی مو ت کی پیش گو ئی آنس معین نے بے شما ر اشعا رمیں کی ہے ۔ لیکن یہاں میں آنس کی وہ شہکا ر غزل پیش کرنا چا ہوں گا ۔ جس میں اس پیش گوئی کا تسلسل شر وع سے آخر تک ایک بر قی روکی طر ح رگوں میں پھیلتا چلا جا تا ہے ۔ آنس کا مطا لعہ کرنے والا شاید ہی کو ئی اہل نظر ایسا ہو ۔ جس نے آنس پر قلم اٹھا تے ہوئے اس غزل کا ذکر نہ کیا ہو۔اگر آپ نے آنس کی شا عر ی پڑھی ہے۔تو یقینا یہ غزل آپ کے دل پر بھی پو رے ما تمی تا ثر کے ساتھ نقش ہو گی ۔ اس کے با وجو د میں اس غزل کو ایک مر تبہ پھر دہرانے اور آنس کے سدا بہا ر دکھ میں شر یک ہو کر چند آنسو بہا نے پر اصر ار کروں گا ۔ دیکھئے آنس معین اپنی مو ت کی پیش گوئی کس حسر ت آمیز لہجے میں کرتا ہے ۔ایک ایسا لہجہ جو شا ید آنس کے ساتھ ہی پر دہ ءعد م میں نا بو د ہو گیا ہے ۔

یہ قر ض تو میرا ہے چکا ئے گا کو ئی اور
دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہا ئے گا کو ئی اور

انجا م کو پہنچوں گا میں انجا م سے پہلے
خود میری کہا نی بھی سنا ئے گا کو ئی اور

تب ہو گی خبر کتنی ہے رفتا ر ِتغیر
جب شا م ڈھلے لو ٹ کے آئے گا کو ئی اور

امید ِسحر بھی تو وراثت میں ہے شا مل
شا ید کہ دیا اب کے جلا ئے گا کو ئی اور

کب با ر ِتبسم میر ے ہو نٹو ں سے اٹھے گا
یہ بو جھ بھی لگتا ہے اٹھا ئے گا کو ئی اور

اس با ر ہو ں دشمن کی رسا ئی سے بہت دور
اس با ر مگر زخم لگا ئے گا کو ئی اور

شا مل پس پر دہ بھی ہیں اس کھیل میں کچھ لو گ
بو لے گا کوئی ، ہو نٹ ہلا ئے گا کو ئی اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔O۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پس پر دہ لو گ کو ن اور وہ عوام کیا ہیں ۔ جن سے مجبو ر ہو کر آنس معین روحا نی بزرگوں کے گڑھ ملتا ن شہر کے قر یب سے گزرتی ہو ئی ایک ریلو ے لا ئن تک پہنچا ۔ اور اپنے گر م جواں لہو کا نذرانہ اس دیو قا مت اند ھے انجن کو پیش کر دیا ۔ جو سر د آہنی پٹڑ ی پر مر گ بد و ش طو فا ن کی طر ح بھا گا چلا آرہا تھا ۔آنس معین نے ان عوامل کی وضا حت نہیں کی ۔جو ان دیکھی زنجیر وں میں با ند ھ کر کسی ہنگا می صو ر ت حا ل میں اسے قا تل پٹٹری تک لے گئے تھے ۔ آنس نے کہا تھا ۔

بہت سی با تیں ابھی وضا حت طلب ہیں لیکن
مری کہا نی کا حسن ہی اختصا ر میں ہے

گو کہ آنس معین نے ان وضا حتوں کو ادھورا چھو ڑ کر انہیں حسن اختصا ر کا خوب صو ر ت نا م دیا ہے ۔ لیکن ان ادھو ری با توں کی وضا حت دراصل وہ ہم پر قر ض چھو ڑ گیا ہے۔ میرا ایما ن ہے کہ آنس معین نے اپنی مو ت کی پیش گو ئی کو نعرہ اور قلم کو تلو ار بنا کر ایک معا شر تی جہا د کا آغا ز کیا تھا ۔لیکن افسو س پردہ ء غیب کو چیر دینے والی نگا ہیں نا شنیدہ شنید ہ کر لینے والی سما عتوں ۔ بے مثال ذہا نتوں ۔ بر ق مثا ل حسیا ت اورکا ئنا ت گیر فکر ی قو تیں آنس معین کی پیش گوئی میں لپٹی ہو ئی تلخ سچا ئی کا ادراک نہ کر سکیں ۔ آنس معین کے قد م سے قد م ملا کر نہ چل سکیں ۔ اور اسے اپنی چو مکھی جنگ کے ہر محا ذ پر لڑنے کے لئے یکا و تنہا چھو ڑ دیا ۔ آج جب کہ آنس معین اپنی پیش گوئی کو سچ ثا بت کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہو چکا ہے ۔ دانشو ر ان ِ وقت کو اس پیش گوئی کی ما بعد گونج زیا دہ واضح طو ر پر سنا ئی دے رہی ہے ۔ آنس معین کا احترام اپنا مقا م پا رہا ہے اور اس کی تحر یک وجہ ِ تحریک بن رہی ہے ۔اور یہی تحریک آنس معین کی جد وجہد کا ما حصل تھا ۔ دعا ہے کہ سما جی منا فقتوں کے خلا ف تحر یک کا یہ عظیم جذبہ قا ئم و دائم رہے ۔ ایسا نہ ہو کہ آنے والے کل میں بہت سے آنس معین اپنے جوان لہو کے چر اغ اپنی با غی ہتھیلیوں پر سجا ئے ان معا شر تی سر طا نوں کے خلا ف صف آرہا ہوجا ئیں اور انہیں بلا امتیا ز تہ ِ تیغ کر دیں جو ہما رے چا روں طر ف بلکہ خو د ہما رے اند ر بھی یم بہ یم پھیلتے چلے جا رہے ہیں ۔

کمسِن سقراط آنس معین = جدید اور منفرد لہجے کا بلند قامت شاعر

……. سقراط اور کمسِن سقراط کے نظریات کا جاٸزہ …….

حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا ؟
آنِس معین

تحریر: ظفر علی راجا

SHARE

LEAVE A REPLY