حُسین شناسی کا سفر۔50۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
785

قسط پچاس

امام حسین علیہ السلام نے
نماز شروع کی
تو
دشمن نے تیر برسانا شروع کر دیے
سعید بن عبداللہ حنفی
امام حسین علیہ السلام کے بلکل سامنے کھڑے ہوئے تھے
دشمن کے
آنے والے  ہر تیر کو اپنے جسم سے روکا
لیکن ایک تیر کو بھی
امام علیہ السلام تک  پہنچنے نہ  دیا
جہاں کہیں
امام عالی مقام ع
دائیں بائیں جاتے تو وہ بھی  ان  کے آگے آگے ہو جاتے
یہ وہی سعید بن عبد اللہ حنفی تھے
جو
کوفیوں اور امام حسین کے درمیان
خط کتابت میں خطوط پہنچانے کا کام کرتے تھے
اسی طرح
مسلم بن عقیل کا خط
امام حسین(ع) کو پہنچایا تھا
اور ۔۔۔ کاروان حسینی کے ساتھ ہو گئے تھے
یہ وہی سعید بن عبد اللہ حنفی تھے
جب
شب عاشور
جب  امام حسین علیہ السلام  نے چراغ بجھا دیا تھا
اور ۔۔۔ فرمایا تھا
کہ
” رات کی تاریکی آپ کو احاطہ کیے ہوئے ہے
آپ چاہیں تو
اپنی جان بچانے کے لیے اپنے اپنے قبیلوں کو جاسکتے ہیں “
یہ  سعيد بن عبد اللّہ  حنفی تھے
جو
اپنی جگہ سے اٹھے اور کہا تھا
” اے نواسہ رسول !
خدا کی قسم
ہم سے یہ نہیں ہوگا
کہ
آپ کو تنہا چھوڑ دیں
 ہمیں رسول اللہ کی اپنی آل کے بارے میں وصیت یاد ہے
 خدا کی قسم ا
اگر ہمارے جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں
ان کو آگ میں جلا دیا جائے اور وہ خاک ہو جائیں
 اور ایسا 70 بار ہو
 تو بھی
 ہم آپ سے جدا نا ہوں گے
ہم اپنی جان آپ پر فدا کر دیں گے
 کیسے آپ سے جدا ہوں
کہ
اک بار تو مرنا ہے
پھر
 اس کے بعد
عزت سرمدی اور نعمت ابدی ہے
 ایسی نعمت
جس کو ہرگز زوال اور فنا نہیں ہے ”  
اور
عاشورہ کے دن
جب
نماز ظہر
نماز خوف میں بدل گئی تھی
اس وقت
سعید بن عبد اللہ حنفی ، زہیر بن قین کے ساتھ
امام حسین کی نماز پڑھتے وقت حفاظت کر رہے تھے
تیر اپنے جسم کے اوپر روکتے رہے تھے
اور
جیسے ہی
امام عالی مقام  کی نماز ختم ہوئی
سعید بن عبد اللہ حنفی
تیروں کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے
انہوں نے
اپنی جان آپ ع پر فدا کر دی
لیکن
اپنی  آخری سانس تک آپ ع سے جدا نہ ہوئے
انہوں نے کہا تھا
” اک بار تو مرنا ہے
پھر
اس کے بعد
عزت سرمدی اور نعمت ابدی ہے ”
سلام  سعید بن عبد اللہ حنفی  
سلام آپ نے اپنی خواہش کو حاصل کیا
سلام آپ پر
کہ
آپ نے  امامت کی مدد کی
سلام آپ پر
کہ
آپ نے
 امام حسین علیہ السلام کی مدد کی
  سلام  سعید بن عبد اللہ حنفی
آپ ہمسایہ شہداء کربلا ہیں
اللہ پاک
ہمیں بھی
ایسی ہمسایئگی عطا ہو
الہی آمین

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY