شاہین مجھے دور تلک کرنی ہے پرواز

1
1014

یہ کوچہ دلدار ھے جنگل تو نہیں ہے
بستی میں کوئی گھر بھی مقفل تو نہیں ھے

مجھکو اسی اک فکر نے پتھر سا بنایا
پھر گردش ایام مقابل تو نہیں ھے

اس سوچ میں اک اور نیا راستہ نکلا
ساحل ہے یہ اُمید کا ساحل تو نہیں ہے

آنکھوں کا مری نور ہے ہر حرف میں پنہاں
یہ شعر تری ذات کے قابل تو نہیں ہے

میں بھی ہوں تری ذات کے ہر لمحے سے واقف
ہاں تو بھی مرے حال سے غافل تو نہیں ہے

چہرے پہ ہے سناٹا تو آنکھوں میں اداسی
حالت ہے یہ اس شخص کی سائل تو نہیں ہے

شاہین مجھے دور تلک کرنی ہے پرواز ….. یہ پیار میرے عشق کی منزل تو نہیں ہے

شاہین اشرف علی

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY