یہ کوچہ دلدار ھے جنگل تو نہیں ہے
بستی میں کوئی گھر بھی مقفل تو نہیں ھے
مجھکو اسی اک فکر نے پتھر سا بنایا
پھر گردش ایام مقابل تو نہیں ھے
اس سوچ میں اک اور نیا راستہ نکلا
ساحل ہے یہ اُمید کا ساحل تو نہیں ہے
آنکھوں کا مری نور ہے ہر حرف میں پنہاں
یہ شعر تری ذات کے قابل تو نہیں ہے
میں بھی ہوں تری ذات کے ہر لمحے سے واقف
ہاں تو بھی مرے حال سے غافل تو نہیں ہے
چہرے پہ ہے سناٹا تو آنکھوں میں اداسی
حالت ہے یہ اس شخص کی سائل تو نہیں ہے
شاہین مجھے دور تلک کرنی ہے پرواز ….. یہ پیار میرے عشق کی منزل تو نہیں ہے
شاہین اشرف علی














زبردست جی