نؔصیر ترابی۔۔۔۔اک اور عہد ختم ھوا :- نیلما ناہید درانی

0
934

جب سننا شروع کیا تو ریڈیو سے عشق ھوا۔۔سارے گھر والے نہایت احترام سے ریڈیو کے گرد بیٹھ کر مجلس شام غریباں سنا کرتے تھے۔۔
ان کا نام بھی بہت عزت و احترام سے لیا جاتا۔۔۔علامہ رشید ترابی۔۔علم کا دریا، فصاحت و بلاغت میں بے مثال آواز اور گفتگو ایسی کہ ھر لفظ دل میں اتر جائے۔ان کی تقریر ھر طبقہ فکر کے لوگ سنتے تھے۔
جب پی ٹی وی کا آغاز ھوا تو وہ پہلے مقرر تھے جن کی مجالس شب عاشورہ اور شام غریباں پی ٹی وی پر نشر ھونے لگیں۔۔ ان کی مجالس کے وقت شہر بھر میں ھو کا عالم ھوتا اور مجلس کے بعد پی ٹی وی کی نشریات ختم ھو جاتیں۔۔تا حیات کوئی دوسرا ان کی جگہ نہ لے سکا۔

علامہ رشید ترابی کے صاحبزادے۔نصیر ترابی۔۔ کو علم و عرفان اور فصاحت و بلاغت ورثے میں ملی۔۔
اور انھوں نے شعر وادب میں اپنی الگ شناخت بنائی۔۔
نصیر ترابی 15 جون 1945 کو حیدرآباد دکن میں پیدا ھوئے۔۔قیام پاکستان کے بعد والد کے ساتھ کراچی آگئے۔۔تعلقات عامہ میں ایم اے کی ڈگری لی۔۔
نصیر ترابی کو ھم نے پی ٹی وی مشاعروں کی نظامت کرتے اور اپنے اشعار سناتے دیکھا۔۔خوبصورت لب ولہجہ، دبنگ طرز نظامت۔۔۔آواز میں والد جیسی گھن گرج۔۔۔لفظوں سے علم و عرفان کے موتی بکھیرتے ھوئے۔
ان کاپہلا مجموعہ کلام 2000 میں شائع ھوا۔۔۔لیکن ان کے کلام کی خوشبو ادب کی دنیا میں دھوم مچا چکی تھی۔۔۔1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان پر لکھی ان کی غزل امر ھو چکی ھے۔

عداوتیں تھیں ،تغافل تھا رنجشیں تھیں بہت
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی۔۔

نؔصیر ترابی جداگانہ لہجے کے یکسر منفرد اور بے مثل شاعر ہیں ۔ قارئین علم و ادب کو ان کی ہر ہر غزل میں ان کے لہجے کی انفرادیت نمایاں نظر آتی ہے اور اس اچھوتے اسلوب کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ تخلیقکار اور قاری کا رشتہ یقینا“ایسی ہی مضبوط کا متقاضی ہوتا ہے۔

اب ملاحظہ فرمائیے نصیر ترابی کی شاہکار اور مقبول ترین غزلیات میں سے ایک

تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے
جو مجھی کو مجھ سے بہم کرے وہ گریز پا کوئی اور ہے

مرے موسموں کے بھی طور تھے مرے برگ و بار ہی اور تھے
مگر اب روش ہے الگ کوئی مگر اب ہوا کوئی اور ہے

یہی شہر شہر قرار ہے تو دل شکستہ کی خیر ہو
مری آس ہے کسی اور سے مجھے پوچھتا کوئی اور ہے

یہ وہ ماجرائے فراق ہے جو محبتوں سے نہ کھل سکا
کہ محبتوں ہی کے درمیاں سبب جفا کوئی اور ہے

ہیں محبتوں کی امانتیں یہی ہجرتیں یہی قربتیں
دیے بام و در کسی اور نے تو رہا بسا کوئی اور ہے

یہ فضا کے رنگ کھلے کھلے اسی پیش و پس کے ہیں سلسلے
ابھی خوش نوا کوئی اور تھا ابھی پر کشا کوئی اور ہے

دل زود رنج نہ کر گلہ کسی گرم و سرد رقیب کا
رخ ناسزا تو ہے روبرو پس ناسزا کوئی اور ہے

بہت آئے ہمدم و چارہ گر جو نمود و نام کے ہو گئے
جو زوال غم کا بھی غم کرے وہ خوش آشنا کوئی اور ہے

یہ نصیرؔ شام سپردگی کی اداس اداس سی روشنی
بہ کنار گل ذرا دیکھنا یہ تمہی ہو یا کوئی اور ہے

10 جنوری 2021 کو یہ خوبصورت لہجہ بھی خاموش ھو گیا۔۔۔افسوس ھے کہ۔ان سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔۔صرف ان کے اشعار تک رسائی رھی۔۔ایسا لگتا ھے اردو زبان یتیم ھو گئی۔۔ایک روایت ایک تہذیب ختم ھوئی۔۔علم و عرفان، فصاحت و بلاغت کا ایک باب بند ھو گیا ھے۔۔اب ایسا لب و لہجہ کہاں سننے کو ملے گا۔
یہ ھے مجلس شہ عاشقاں کوئی نقد جاں ھو تو لے کے آ
یہاں چشم تر کا رواج ھے دل خونچکاں ھو تو لے کے آ
۔۔۔
نہ انیس ھوں نہ دبیر ھوں میں نصیر صرف نصیر ھوں
میرے حرف ظرف کو جانچنے کوئی نکتہ داں ھو تو لے کے آ

 نؔیلما ناھید درانی
(  انگلینڈ)

SHARE

LEAVE A REPLY