حُسین شناسی کا سفر۔92۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
965

قسط 92

امام حسين ع کي تحريک وقيام کي دوسری جہت ميں
معنويت کا عنصر بھي مجسم نظر آتا ہے
بہت سے افراد امام حسين کے پاس آتے ہيں
اور
اُنہيں ا ُن کے قيام کي مخالفت کرتے ہيں
يہ افراد معمولي يا برے افراد نہيں تھے
بلکہ
بعض اسلام کي بزرگ ہستيوں ميں شمارکيے جاتے تھے
ليکن
يہ افراد غلط سمجھ بيٹھے تھے اور بشري کمزورياں اِن پر غالب آگئي تھيں
يہي وجہ تھي
کہ
اُنہوں نے چاہا کہ امام حسين کو بھي

اُنہي بشری کمزوريوں کے سامنے مغلوب بنا ديں
سيدالشہدا نے صبر کيا اور مغلوب نہيں ہوئے
اوريوں
امام حسين ع کے ساتھ شامل
ايک ايک شخص
اِس معنوی اور اندرونی جنگ ميں کامياب ہوگيا
وہ ماں
کہ
جس نے
اپني پوري خوشي اور سر بلندي کے ساتھ اپنے نوجوان بيٹے کو ميدان جنگ بھيجا
وہ نوجوان
کہ
جس نے دنياوی لذتوں کو خير آباد کہہ کر
خود کو
ميدان جنگ ميں لہرائي جانے والي خون کي تشنہ تلواروں کے سامنے پيش کرديا
حبيب ابن مظاہر جيسے بزرگ افراد
اور
مسلم ابن عوسجہ جيسے لوگ
جو
اپني ايام پيری کے راحت و آرام، نرم و گرم بستروں اور گھربار کو چھوڑ آئے
اور ميدان جنگ کي تمام سختيوں کو تحمل سے برداشت کيا
اِسي طرح
سپاہ دشمن ميں ايک خاص مقام کے حامل شجاع ترين سردار
حُر ابن يزيد رياحي نے اپنے مقام و منزلت سے صرف نظر کيا
اور۔۔۔۔ حسين ابن علي علی السلام سے جاملا
يہ سب افراد معنوی اور باطنی جنگ ميں کامياب ہوئے
اُس معنوی جنگ ميں
جو لوگ بھي کامياب ہوئے اُن کي تعداد بہت کم تھي
ليکن
اُن کي استقامت اور ثبات قدم اِس بات کا سبب بنے
کہ
تاريخ کے ہزاروں افراد اُن سے درس حاصل کريں
اور اُن کي راہ پر قدم اٹھائيں
اگر يہ کامیاب لوگ
اپنے وجود ميں فضيلتوں کو رذيلتوں پر غلبہ نہيں ديتے
تو
تاريخ ميں فضيلتوں کا درخت خشک ہوجاتا ہے
مگر اِن افراد نے
اپنے خون سے اِس درخت فضيلت کي آبياري کي
امام حسين ع کي تحريک وقيام کي تیسری جہت ميں
مصائب اور مشکلات ميں بھي جابجا
عزت و افتخار اور سربلندي کا عنصر نظر آتا ہے
کربلا اگرچہ
مصائب کا ميدان اور بابِ شہادت ہے،
جوانانِ بني ہاشم ميں سے ہر ايک کي شہادت
بچوں کي ، اطفال صغير کي اور بزرگ اور عمررسيدہ اصحاب کي شہادت
سيد الشہدا امام عالی مقام کيلئے
ايک بہت بڑے غم اور مصائب کا باعث ہے
ليکن
خود اُن شہدا کيلئے عزت و سربلندي کا باعث ہے
آیئے تحریک حسینی کو
ایک اور نگاہ بصیرت سے دیکھتے ہیں

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY