حُسین شناسی کا سفر۔60۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
720

قسط ساٹھ

ایک بدبخت نے
پیچھے سے
آپ کے سر مبارک پر برچھی کی ضرب لگائی
اور 34 سالہ عباس علمدار شہید ہو گئے
آپ کی جائے شہادت اور بازو شہید ہونے کے مقامات
پہلے اور دوسرے بازو کے شہید ہونے کے مقام میں بہت فاصلہ تھا
اور جائے شہادت دوسرے بازو کی جائے شہادت سے کافی دور تھی
آپ نے
حضرت بی بی سکینہ س کو پانی پہنچانے کی
آخری سانس تک کوشش کی ۔۔ لیکن نہیں پہنچا پائے
کربلامیں
کئی ایسے مواقع آئے
جب عباس بن علی جنگ کا رخ بدل سکتے تھے
لیکن امام وقت نے
انہیں لڑنے کی اجازت نہیں دی
کیونکہ
اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا
نہر فرات کے کنارے
ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا
مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا
کہ
وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیاسا رہے
حضرت عباس علیہ السلام
کامل بصیرت کے حامل بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے
انہوں نے
حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا
اور جہاد میں مشغول رہے
یہاں تک
کہ
درجۂ شہادت پرفائز ہو گئے
آپ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے
عاشور کے دن
وقت عصر سے زرا پہلے
وفا دار دین ۔۔۔ وفا دار قوم و ملت
وفا دار ملک و وطن ۔۔وفا دار برادر
وفا دار امام وقت شہید ہو چکے تھے
آپ کی شہادت پر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا
” ہائے میری کمر ٹوٹ گئی”
حضرت عباس علمدار علیہ السلام
چار شعبان 26 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے
آپ
امام علی بن ابی طالب اور ام البنین فاطمہ بنت حزام کے بیٹے تھے
حسین و جمیل حضرت عباس ع
عرب میں بہادری و شجاعت کے لیے مشہور تھے
ابن منظور
لسان العرب میں لکھتے ہیں
کہ
عباس وہ شیر تھے جس سے دوسرے شیر ڈرتے تھے
امام علی بن ابی طالب نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی
فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات
مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصاً علم فقہ سکھائے تھے
چودہ 14 سال کی عمر میں وہ ثانی حیدر ع کہلاتے تھے
حضرت عباس بن علی ع
بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری
تلوار بازی اور مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے
اسی وجہ سے
آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا
حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت
”ایثار و وفاداری“ ہے
جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے
وہ اپنے بھائی
امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے
سخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا
لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا
اور ان کا ایک اور لقب شہنشاہِ وفا ہو گیا
آپ
عرب اور بنو ہاشم کے
خوبصورت ترین ہستیوں میں سے تھے
اسی لیے آپ کو قمر بنی ہاشم بھی کہا جاتا ہے
امیر المومنین علی علیہ السلام نے
گوہر و صدف پاک کو پروان چڑھایا تھا
آپ باپ کی جانب سے
علوی و ہاشمی ہیں جو شرف اور کرامت میں بے نظیر ہیں
یوں
حضڑت عباس ع
نہ فقط قمر بنی ہاشم ہیں
بلکہ
قمر بشریت اور جہان ہستی کا چمکتا ہوا مہتاب ہیں
انہیں اپنی والدہ سے
شرافت و پاکی ، سخاوت و شجاعت اور مہمان نوازی عطا ہوئی تھی
حضرت ابوالفضل عباس ع نے
فضائل و کمالات کو ان دو خاندانوں سے ورثے میں پایا تھا
میدان کربلا میں
عبیداللہ ابن زیاد اوراس کے کارندے اس بات سے آگاہ تھے
کہ
جب تک حضرت عباس ع
امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہیں
ان پر حاوی ہونا نہایت ہی دشوار مسئلہ ہے
اس نے یہ چال چلی
کہ
حضرت عباس ع کو امام حسین علیہ السلام سے جداکردیا جائے
عصرتاسوعا [ نہم محرم] شمرملعون چارہزار فوج کے ہمراہ
دشت نینوا پہنچا
اورحضرت عباس ع کو پکارا پر آپ ع نے کوئی توجہ نہ دی
پھر بحکم آقا امام حسین علیہ السلام
شمر سے پوچھا ۔۔۔۔ کہو کیا چاہتے ہو
شمر نے کہا
اے عباس !
میں نے ابن زیاد سے تمہیں اور تمھارے بھائیوں کے لیے امان نامہ لے لیا ہے
لہذا
آپ اپنے آپ کو حسین ع سے الگ رکھیے
شیر خدا کے شیر فرزند بپھر گئے اور طیش میں آکر فرمایا
تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں
اور لعنت ہو اس امان نامہ پر
اور اس پر جس سے یہ امان نامہ لے کر کے آئے ہو
اے دشمن خدا
کیا تو ہمیں یہ کہہ کررہا ہے
کہ
ہم اپنے بھائی ومولا اور فاطمہ (ع) کےلخت جگر کو تنہا چھوڑ کر
لعنت شدگان اور لعنت شدگان کے فرزندوں کی اطاعت میں داخل ہوجائیں
شام عاشورا
جب امام حسین علیہ السلام نے
اپنے تمام یار و انصار کو ایک خیمے میں جمع کرکے بیت اٹھا لی تھی
تب حضرت عباس ع نے
تاریکی کا سکوت توڑ کر سب سے پہلے عہد وفا کیا
فرمایا ۔۔
ہم یہ کام کیوں انجام دیں؟
کیا اس لیے
کہ
آپ کے بعد باقی رہیں؟
نہیں، خدا کبھی بھی یہ جدائی ہمیں نہ دکھلائے
نہر فرات پر بھی وفاداری کی انتہا کر دی
پانی کو دیکھا ۔۔۔ چلو میں بھرا ۔۔ پر پیاسے رہے
یہی کہا
خدا کی قسم !
یہ کام عباس کے دین اور آئین وفا میں شامل نہیں
آیئن وفا کا حسین اور باوقار باب بند ہو چکا تھا
ابو الفضل
ابو قریہ (صاحب مشکیزہ)
ابو قاسم
قمر بنی ہاشم
سقائے سکینہ
سقائے کربلا
علمدار لشکر حسینی
عبدالصالح
المواسی
باب الحوائج
پاسدار و پاسبان حرم ۔۔۔ شہید ہو چکے تھے
ہمارا سلام ہو سقائے سکینہ پر
علمدار حُسینی پر
عباس باوفا پر

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY