عمران خان قوم کو بند گلی میں مت دھکیلو . ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

0
282

پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

زندہ قوموں کے رہنمااپنی قوم کو بند گلہ میں لیجا کر نہیں چھوڑتے ہیں۔وہ تو اپنی قوم کے ہر دُکھ درد میں برابر کے شریک رہتے ہیں ۔اُن میں نہ تو خود غرضی ہوتی ہے اور نہ ہی ایسے موقعوں پر کسی سے بڑی مخاصمت کا اظہا ر ہوتا ہے۔ جو لوگ ایسے موقعوں خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہیں ایسے چھُپے ہوئے وطن دشمنوں کو قوم کبھی معاف نہیں کرتی ہے ۔آج ہندو ستان کی جارہانہ خر مستیوں کشمیر اور پاکستان کے لوگوں کیلئے وبال جان پیدا کیا ہوا ہے۔ہندوستان نے حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان مظفر وانی کو شہید کر کے ایسا شعلہ بھڑکا دیا ہے جس کی لپٹوں سے ہندوستان کا مسخ شدہ چہرہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔جس پر ہندوستان نے پاکستان کو دھمکیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر کے اپنے سیاہ چہرے کے داغ چھُپانے کی کوششوں کا بھر پور آغاز کر دیا ہے۔اس ضمن میں کبھی پا کستان پر پانی کی دہشت گردی کرنے کو کہتا ہے تو کبھی ہندوستان کا مغرب کا سرٹیفائڈ دہشتگرد نرندر مودی دھمکیاں دیتا ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔یہ بھی ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہندوستان کی سات لاکھ سے زیادہ دہشت گرد آرمی نہتے کشمیریوں کو جن کے پاس پتھروں کے سوئے کچھ بھی تو نہیں ،اپنی وحشانہ بربریت سے گذشتہ 90 دنوں سے نشانہ بنا رہی ہے۔ چھرے والے بُلٹوں سے نا صرف سینکڑوں جوانون بوڑھوں اور بچوں شہید کر چکی ہیں۔کشمیریوں کی نسل کُشی کے ساتھ سینکڑوں جوانوں ،بچوں اور بوڑھوں کو بینائی سے محروم کر کے دنیا سے بربریت میں آگے ہونے کا لوہا منوا چکی ہیں۔اُڑی میں ہندو فوجیوں کے کشمیریوں کے ہاتھوں جہنم رسید کئے جانے پر بھی ہندستانی حکومت اور میڈیا تلملاہٹ کا شکار ہیں۔یہ ہی نہیں ہندوستان میں کوئی بھی واقعہ ہوجائے وہ بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام تراشیوں کا آغاز کر دیتا ہے۔حالانکہ ہندوستان میں بیسیوںآزادی کی تحریکیں خود ہندوستان کے خلاف چل رہی ہیں۔

کشمیری پاکستانی ہیں اور کشمیر میرے وطن کی شہہ رگ ہے۔پاکستان اور اس میں بسنے والے لوگ کیونکر اپنی شہہ رگ دشمن کی توپوں کے نرغے میں رہنے دیں گے؟؟؟ جس پر سات لاکھ سے زیادہ غاصب فوجیں گذشتہ ستر سالوں سے ظلم و بربریت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔جن کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کا بھی کوئی خیال نہیں ہے۔ہندو ستان افغانستا ن کے ساتھ مل کر فاٹا ور بلوچستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں تسلسُل کے ساتھ کرا رہا ہے اور ساری دنیا میں پرو پیگنڈہکرتا پھر رہا ہے کہ پاکستان بلوچستان میں طلم کر رہا ہے۔اپنیحرکتوں سے علاقے کوغربت میں مسلسل مبتلا رکھنے کا نرندر مودی نے تہیہ کیا ہوا ہے یہ ہی سبب ہے اُس نے سارک سربراہ کانفرنس کو ناکام بنانے کے لئے اپنے حواریوں کا سہارالیکر بائکاٹ کر دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو یہ کانفرنس ملتوی کرناپڑ گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی سر زمین پر سرجیکل اسٹرائیک کا بھی ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔ جس ناصرف ساری دنیا سوالات اُٹھا رہی ہے بلکہ اب تو ہندوستان کے سیاست دان تک سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت مانگ رہے ہیں۔مگر ہندوستان کی سرکار آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے کیونکہ اس سے اس کے پاس سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت ہونگے تو فراہم کریگی۔اس حولے سے مودی حکومت کو زبردست منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔

پاکستان میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو درپردہ پاکستان کو ہرہر لمحہ کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں یہ بات ہر محبِ وطن پاکستانی جانتا ہے کہ عمران خان یہودی لابی کے آدمی ہیں فیس بک پر ان کیاسرائیل کے ایک وزیا اعظم نتن یاہو کے ساتھ بنوئے گئے پوزملاحظہ کئے جا سکتے ہیں اور گذشتہ دنوں میں لندن کے میئر کے انتخابات میں ایک پاکستا نی مسلمان کے خلاف یہودی لابیکا عمراں خان نے کھلکر ساتھ دیاتھا۔ان کا تعلق موصوف کے ماضی کے رشتہ داروں سے تھا ۔ان کے ساتھ مل کر موصوف یہودیوں کی ناصرف مہم چلائی بلکہ پاکستانی مسلمان کی کھل کر ایک یہودی کے حق میں مہم چلا کر اسے ہروانے کی بھی کوشش کی۔اسی لابی کے اشارے پر پاکستان میں سی پیک معاہدہ رکونے کے لئے پاکستان کو مہینوں موت و زیست کی کیفیت میں مبتلا رکھ اسلام آباد کے دھرنوں سے ناکام واپس آئے ۔اب عمران خان کو اسرائیل کے ذریعے ہندوستا ن کا پیغا م پہنچایا گیا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں وہ کسی بھی پاکستان کے پروگرام میں شرکت نہکریں۔ عمران خان نے ’’ہز ماسٹرزوائس‘‘کے تحت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے۔جبکہ تین دن پہلے وہ پاررلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا اقرار کر رہے تھے۔اس بائکاٹ پر پی ٹی آئی کا ایک بہت بڑا حصہ اور جہانگیر خان ترین کے علاوہ عمران خان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا مخالف تھا۔مگر جو لوگ آمریت کی پروردہ ہوں اُن میں جمہوریت کا کیا کام۔لہٰذا ہندوستان نے اسرائیل کو کہا کہ اپنے بندے کو روکو!اسرائیل کے اشاروں پر غالباََ اِنہو نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کردیا کہ وہ نواز شریف کووزیراعظم نہیں مانتے ہیں ۔ْیہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منتخب وزیراعظم نواز شریف نے جووزیر اعظم کی ذاتی حیثیت میں آل پارٹی کانفرنس ایک روز قبل بلائی اُس وقت تک وہ ان کی نظر میں وزیر اعظم تھے۔اسی روزجب وزیراعظم کو نا ماننے کا دعویٰ مسٹر عمران کر رہے تھے ان کا خیبر پختون خواکاوزیر اعلیٰ وزیر اعظم نو ز شریف کے ساتھ دو زانوں قومی سلامتی کے اجلاس میں کیوں بیٹھاہوا تھا؟

عمران خان اپنے آقاؤں کے شاروں پر پاکستانی قوم کے ساتھ بھیانک کھیل کھیل رہے ہیں۔تین دن پہلے وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شمولیت کا دم بھر رہے تھے اور ان کے لوگ اُس میں شریک بھی ہوئے۔عمران خان کا پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنا اور اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکی دینا ناصرف خطرناک بات ہے، بلکہ یہ معنی خیز بھی ہے۔ان کے چاہنے والے ان سے کہیں کہ یہاں یہودیوں کی سیاست نہیں چلے گی۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق جو خیبر پختون خوامیں ان کے اتحادی بھی ہیں کا کہنا ہے کہ کشمیر ایشو پر حکومت سے یکجہتی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم احتساب کے مطالبے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔یہی بات پیپلز پارٹیکے موجودہ سربرہ بلاول زرداری نے اور دیگر بڑے سیاسی رہنماؤں بھی کہی تھی۔مگر عمران خان کی لاجک عمران خان ہی سمجھ سکتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY