شکستہ جسم لئے ہم تمہارے ساتھ چلے
کسی فقیر کی جس طرح کائنات چلے
نہ بزم میں کوئی ہلچل نہ خلوتوں میں سرور
سو ! منتظر ہے زمانہ کہ اس کی بات چلے
یہ خامشی کی کرامت ہے ، آپ سمجھیں تو۔
سکوت والوں کی انگلی پہ شش جہات چلے
میں اپنے باپ کی کتنی زہین بیٹی تھی
مرے نصیب سے گھر کے معاملات چلے۔












