گاہے گاہے بازخواں ایں ….قسط نمبر26, نصرت نسیم

0
1087

انکل کے آنے سے گھر میں رونق اور چہل پہل شروع ہوگئ -ڈیڈی کی خواہش کے مطابق لڑکی کی تلاش میں لاہور گئے. وہاں سے لائل پور گئے. جہاں امی کی خالہ زاد بہن کا گھر تھا. انہوں نے خوب آو بھگت کی. ان کی میزبانی کا بھر پور لطف اٹھایا. واپسی پر لاہور آکر پھر سارے تاریخی مقامات دیکھے. .داتا دربار کی مچھلی اور لاہور کی آئس کریم نےاور خاص کر کتابوں کی فراوانی اور ارزانی سے پھولے نہیں سماے. اور 5 روپے میں سال کے بہترین افسانوں کا مجموعہ خریدا. اور واپسی پرریل کار میں پڑھتے ہوے آے.
گھر کے اندر ایک اور بڑی تبدیلی فریج اور ٹیپ ریکارڈر کا آنا تھا. اس سےپہلے گھر میں ایک آئس بکس رکھا ہوا تھا .جس کے اوپر کے خانے برف کے بڑے بڑے بلاگ پٹ سن کے کپڑے میں لپیٹ کر رکھتے.اورساتھ پنسلین کے اور دوسرے ٹیکے رکھے ہوتے تاکہ گرمی میں خراب نہ ہونے پائے. پھر اس کےنیچےوالے خانے میں برف سے پگھلنے والا پانی جمع ہوتا .جس میں خربوزے. .آم اور دوسرے پھل رکھے جاتے.اور اب جو فریج آیا تو سمجھو وارے نیارے ہو گئے -روز دودھ میں کھوے اور آم کا آمیزہ تیار کر کے فریزر میں رکھتے. تو تھوڑی دیر ہی میں آئس کریم تیار ہوجاتی -جو خود کھاتے .دوست احباب کو کھلاتے. کیونکہ فریج اس وقت گنے چنے امیر کبیرلوگوں کے پاس تھے-شاید میں غلط لکھ گئ. بہت سارے لوگوں کے پاس بہت پیسہ تھا. مگر رہن سہن میں سادگی تھی. کہ فریج تو درکنار کولر بھی نہیں رکھتے تھے. جس کی مثال ہمارے دادا میاں بابا تھے.
کہ جن کی وسیع زمینیں ‘دکانیں اور باغات تھے. مگر طرز بود وبالکل سادہ. -دوسری جانب ڈیڈی تھے -کہ ایک بالشت زمین نہیں خریدی -اچھا کھانا پینا، بہترین لباس اور دوستی ورشتے داری نبھانے والے
دوسری چیز جو ہمیں بہت بھائی. وہ بڑا سا ٹیپ ریکارڈر تھا. جس میں بڑی دو کیسٹیں چلتی تھیں -اور ان سے سر نکل کر بے خود وسرشار کئےدیتے –
ناہید نیازی کی مترنم آواز اور وہ نغمہ
ایک بار کہو زرا
پھر اس نغمے میں کئے گئے گلے شکووں کا جواب تھا –
اور ایک قوالی تھی
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم
جوچلے تو جاں سے گزر گئے اور پھر
کرو کج جبیں پہ سر کفن میرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
بہت سے اشعار کا مطلب نہ سمجھنے کے باوجود اس— قوالی،غزلوں نے اپنے سحر میں جکڑ لیا -ریڈیو پر تو مقررہ اوقات میں پسندیدہ پروگرام سن سکتے تھے -اس پر تو جب دل چاہا ٹیپ ریکارڈر لگا کر سننے لگے. ایک اور دل چسپ چیز وہ مائک تھا جس سے باتیں ریکارڈ کر لیتے -اکثر پھپھو اماں کی باتیں ریکارڈ کر کے انہیں حیران کیا -اور کبھی اپنی نظمیں ریکارڈ کر کے سننا اچھا لگا –
یہ تو تھی گھریلو زندگی اور اب آتے ہیں. اپنے سکول کی طرف جہاں تقریبا”دوسرے تیسرے روز اسمبلی میں سب کے سامنےآقوال زریں یا کوئی مختصر مضمون جس سے ہم بڑی عرق ریزی سے تیار کرتے-اور سب کی پسندیدگی وتعریف سمیٹتے. بچپن میں اکیلے رہنے کی وجہ سے ہم بےحد شرمیلے تھے -گھر میں کوئی مہمان آتا تو کمرے میں چھپ جاتی ،اکثر بہ اصرار بلوای جاتی. تب اور بھی شرمندگی ہوتی. لیکن ہای سکول میں آکر اس طرح کی جھجک اور شرم دور ہوگئ. جس کے قابل تحسین ہیں ہماری وہ اساتذہ کرام (اللہ سبحان و تعالٰی انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام فرماے -)جنہوں نے بے پناہ حوصلہ افزائی اورمحبت سے ہمیں آگے آنے کا موقع دیا –
(ان کا تفصیلی زکر اگلی پوسٹ میں کرونگی )
اس زمانے میں آٹھویں کا سالانہ امتحان بورڈ کا ہوا کرتا تھا. اسلئے سب سے اچھی اور محنتی اساتذہ ہمارے حصے میں آییں -پڑھائ کا بوجھ بڑھ گیا. مگر ساتویں آٹھویں کا یہ دور بہت دل نشیں اور یادگار –
اب میں اپنی پوتی اور نواسی کو دیکھتی ہوں -کہ احساس جمال سے مالا مال اور پر اعتماد
کہ ہے کوئی ہم سا ہم سا ہو تو سامنے آے
افسوس ہم اس احساس سے بیگانہ رہے. کہ خالائیں قیامت خیز حسن رکھتی تھیں -تو دوسری طرف سکول میں ہماری سہیلیاں بھی ایک سے بڑھ کر ایک حسین روشی کے گالوں سے تو گویا خون ٹپکتا تھا. تو اس کے سامنےہماری گلابی رنگت کا کیا رنگ جمتا. لیکن دومنظر جو یادوں کے افق پر چمکتے دکھائی دیتے ہیں. ایک ہفتے میں دو دن بہت بڑے گھیر کی سفید فراک پہنے ہوے پی ٹی والے دن. دوسرا ہفتے می ایک دفعہ بزم ادب کادن ہوتا-اورسفید سوٹ پر گلابی ململ کا کلف اور ابرق لگا دوپٹہ (ابرق چمک دار سا پتھر تھا کلف کے ساتھ اس کو بھی لگاتے تو چمکتے ستارے دکھائ دیتے)اوڑھ کر بار بار آئینے کے سامنے جانے کو دل کرتا-سادہ معصوم پنک پنک چہرہ گلابی ابرق والا دوپٹہ
کبھی ہم بھی خوبصورت تھے –
جاری
نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY