گاہے گاہے بازخواں ایں,,,,,قسط نمبر25،نصرت نسیم

0
732

تین عورتیں تین کہانیوں کے عنوان سےتین خالاؤں کا آپ سے تفصیلی تعارف کروایا ۔اور آج ہم اس گھر کے واحد چشم و چراغ سے آپ کو ملواتے ہیں ۔یہ ڈیڈی کے اکلوتے بیٹے ہیں ۔جو ان کی دوسری بیوی سے ہیں ۔جو وفات پا چکی ہیں ۔دیدی اورانکل ڈیڈی کی زندگی ہیں ۔کہ ان ہی کی خاطرپوری جوانی تنہا رہ کر گزاردی ۔کہ ان کے بچوں کو سوتیلی ماں سے سابقہ نہ پڑے ۔انکل کو پھپھو اماں نے ماں بنکر اوربجو نے بڑی بہن کی طرح گود میں کھلا کر بڑا کیا ۔دیدی اپنی ماں کی طرح خوبصورت تھی ۔تو انکل اپنی ماں کی طرح ۔جو شاہ پور سے تعلق رکھتی تھیں ۔نیلی آنکھیں اور سنہرے بال ان کے ننھیال والوں کی پہچان تھے ۔
انکل کی بڑی بڑی آنکھوں کا رنگ کا رنگ کیسا تھا ۔یہ کیسے بتائیں ۔کہ عینک کے پیچھے سے ان کی آنکھوں سے شرارے نکلتے دیکھے ۔ہمارے بچپن میں تو ان کی جوانی اور غصہ دونوں جوبن پر تھے ۔ان کے گھر آتے ہی سب دبک کر رہ جاتے ۔ان کا ایک مخصوص انداز تھا ایک ابرو کو اوپر دوسرے کو نیچے کر کے ایک خاص انداز سے گھورنا ۔وہ منہ سے کچھ نہیں بولتے تھے ۔بس اس انداز تخاطب کو سب سمجھتے تھے ۔سب کیا بلی بھی سمجھتی اور انکل کھانا کھانے بیٹھتے تو مجال ہے کہ قریب آے. دور بیٹھی جھانکتی رہتی. جب کہ ڈیڈی کھانے کے لئے بیٹھتے تو بلی سامنے آکر ایک شان سے بیٹھ جاتی.

ڈیڈی کھانا کھاتے ہوے ساتھ ساتھ بلی کو بھی بوٹیاں ڈالتے جاتے. مگر حیرت ہے. کہ انکل کھانا کھاتے تو بلی دور بیٹھی تاک جھانک کرتی رہتی. اور ڈیڈی اکثر کہا کرتے کہ اس کا تو ایسا غصہ ہے. کہ بلی بھی ڈر کے بھاگ جاتی ہےاصل میں اکلوتے ہونے اور بہت لاڈ پیار نے ان کے مزاج کو ایسا بناڈالا جب کہ دوسری طرف ڈیڈی کامزاج یکسر مختلف تھا. ڈیڈی باغ و بہار قسم کی شخصیت تھے. مشفق، مہرباں سب کے لئے شجر سایہ دار اور محفوظ پناہ گاہ
جب کہ انکل اکثر ان کے مہربان دل کو نئ نئ آزمائشوں میں ڈالتے رہتے. اور ان میں سب سے بڑی آزمائش تو یہ تھی. کہ ضد پکڑ لی کہ انگلیڈ جانا ہے. ڈیڈی انہیں اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کر سکتے تھے. لہذا پہلے تو نہیں مانے. مگر انکار کرنے پر انکل کا غصہ اوردھمکیاں کام کر گئیں. اوربہ دل نخواستە اجازت دینا پڑی.( یہ آج کےانگلینڈ نہیں 64 کی بات ہے. کہ جب جانا گویا ہمیشہ کاجاناسمجھا جاتا تھا )مجھے ہمیشہ لگتا تھا. کہ ڈیڈی دیدی سے والہانہ محبت کرتے ہیں. سارا وقت ان کی ناز برداری میں لگے رہتے ہیں. شام واپسی پر دن بھر کی کمائی ان کے حوالے کر دیتے. اور اگر کہیں وہ بیمار ہو جاتیں تو ڈیڈی کی جان پر بن جاتی. اس لئے یہی محسوس ہوتا کہ انکل سے اتنا پیار نہیں کرتے. مگر جب انکل کی ضد اور دل کی خاطر انہیں لندن جانے دیا. تو پھر ڈیڈی کی بے چینی، بےقراری اوراداسی دیکھ کر لگا. کہ نہیں انکل سے بھی بہت پیار کرتے ہیں. بس شاید اصلاح کے لئے ڈانٹ ڈپٹ اور تنقید کیا کرتے تھے. ڈیڈی کے حلقہ ء احباب میں ہندو سکھ، انگریز سب شامل تھے. پاکستان بننے سے پہلے وہ سیرینگر کی سیر ڈل جھیل. … اور شملہ کا زکر کرتے .باقاعدگی سے کلب جاتے. خوش لباسی کا یہ عالم تھا کہ صبح تھری پیس سوٹ،( ٹائی باندھ کر )بہترین بوٹ پہن کر باہر نکلتے. شام کو کلب جانے کے لئے دوسرا سوٹ پہنتے. اور رات شب خوابی کا لباس الگ تھا. لکیر دار شرٹ اورکھڑا پاجامہ اور خاص قسم کے سلیپرز پہنتے. سردی کا موسم ہوتا. تو اسی سوٹ پر گرم پٹی کا چترالی چغہ یا کشمیری کام سے مزین کشمیری چغہ پہنتے. جو ان پر بہت سجتا. میرا خیال ہے. کہ ڈیڈی کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں دیکھی جو ظاہری وباطنی ہر لحاظ سے ایسی دل موہ لینے والی ہو. بظاہر لباس انگریزی مگر سینے میں عشق خدا ورسول موجزن انکل کے جانے کے بعد ڈیڈی کی عجیب کیفیت ہوگئ. خوش لباسی ویسی نہ رہی. کلب بھی کبھی کبھار جاتے. لگتا ایک دم سے بوڑھے ہوگئے. رشتے داروں نے بھی خوب خوب باتیں کیں کہ ایک بیٹا تھا وہ بھی چھوڑ کر چلا گیا. ایسے میں صادق علی صادقو مضبوط سہارا بنا. گھر میں جو بھتیجے تھے انہوں نے صادقو کو ساتھ ملانے کی کوشش کی. ان کے مذموم عزائم جان کر صادقو نے انہیں منہ توڑ جواب دیا اور ایسی خدمت کی. کہ اپنا سگا بیٹا بھی شاید اتنی خدمت نہ کر سکتا. گھر میں دو حسین ترین لڑکیاں موجود تھیں. انہیں سگے بھائی سے بڑھ کر عزت وتکریم دی سچ ہے
میدان وفا دربار نہیں یاں نام ونسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی زات نہیں
اس زمانے کی مسافری تو مسافری تھی. کہ نہ فون تھا. نہ ایسے رابطے بس نیلے رنگ کے لفافے ہوتے اسی پر خط لکھتے اور تہہ کرتے تو لفافہ بن جاتا. بس ڈیڈی سارا وقت طویل طویل خط لکھا کرتے اور جواب کا انتظار کرتے. انکل کے ساتھ کوہاٹ کا ایک آدمی رہتا تھا. ڈیڈی نے اسے کہہ دیا. کہ وہ جو اپنے گھر پیسے بھیجتا ہے. وہ وہاں انکل کو دے دے ہم یہاں اس کے گھر والوں کو دے دیں گے. یوں ڈیڈی نے انگلینڈ میں بھی انکل کے آرام وآسائش کا خیال رکھا. زندگی ایک دم سے اداس ہوگئ تھی. کہ ہم تین بہنوں کے بعد ہمارا بھائی آیا. جمیل جو اسم بامسمٰی تھا. اس کی نیلی چمکتی آنکھیں اورسرخ وسپید رنگت، چمک دمک دیکھ کر اسے جگنو کہہ کر پکارنے لگے. جگنو کے آنے سے گویا ڈیڈی کی مایوس زندگی میں روشنی آگئی. امی صبح اسے بھجوادیتیں اور شام کو امی کے پاس چلا جاتا. جب امی ٹل جانے لگیں تو ڈیڈی نےامی سے جگنو مانگ لیا. امی کو انکار کا یارا نہ تھا. جگنو کو دے دیا. مگر ایک ماہ بعد میرے ابو آکر اسے واپس ٹل لے گئے. اس کے جانے کے بعد طبیعت ایسی خراب ہوی کہ دسمبر کی سخت سردی میں پنکھا چلا دیا .کہ میرا دل جل رہا ہے. بہکی بہکی باتیں کرنے لگے. دوسرے دن ہم سب ڈیڈی کے ساتھ ٹل چلے گئے. انہوں نے اباجی سے التجا کی اور یوں پکا پکا جگنو انہیں مل گیا. جس کے لئے مرتے دم تک ڈیڈی مشکور رہے. بار بار یہی کہتے کہ دنیا میں کوئی ایسی بھانجی نہ ہوگی. جو اتنی بڑی قربانی دے.
جگنو ان کی تنہائی اور غموں کا مداوا اور مرہم بن گیا. روزانہ شام کو ساتھ بازار لے جاتے اور طرح طرح کے کھلونے اور چیزوں سے لدا پھندا آتا. گھر میں دو سخت مزاج لوگ تھے. آنٹی اور انکل .انکل لندن اور آنٹی پیا دیس سدھاریں. اب آنہ لائبریری کی کتابیں تھیں اور ہم
اور کوئی پریشان کرنے والا نہ تھا. پھر کئ سالوں بعد اچانک انکل لوٹ آے. تو ڈیڈی کو خوشی میں سمجھ نہیں آتی تھی. کہ کیا کریں. وہ چاہتے تھے کہ جلد از جلد انکل کی شادی کردیں. لڑکی دیکھنے ہم لائل پور، لاہور کہاں کہاں نہیں گئے.مجھے یاد ہے. لاہور میں ماجد برکی کے گھر بھی گئے.اسی طرح ڈھونڈتے ڈھانڈتے وقت یوں گزرا. کہ ڈیڈی کے پاس وقت نہ رہا اور انہوں نے اچانک رخت سفر باندھا.
ڈیڈی کے بعد وہ گھر ویسا گھر نہ رہا. جگنو کو بھلا ڈیڈی جیسا پیار کون کر سکتا تھا. سارے گھر پر غم کے بادل چھا گئے.
بہرحال اب انکل نے پوری زمےداری سے گھر اورکام کاج سنبھالا. پھپھو اماں، بجو دیدی سب کی زمہ داری اٹھای اور نبھایا. دراصل انکل دل کے بہت اچھے اور مزاج کے تیز تھے. وقت کے ساتھ ٹہراو آیا. پھپھو اماں نے طویل عمر پائی ان کی بجو کی دیدی کی بھر پور خدمت انکل صبیحہ ان کے بیٹے عدنان نے کی. اس وقت انکل ماشااللہ 85 سال یا زیادہ کے ہیں اور سب بزرگوں کی دعائیں ہیں ان کے ساتھ. کہ ماشااللہ کوئی عارضہ نہیں.سارادن کتابیں پڑھتے رہتے ہیں. رات کو عبادت اورتحجد میں ہم سب کے لئے دعائیں کرتے ہیں. اللہ تادیر انہیں سلامت رکھے.
ویسے حیرت ہے کہ کبھی جس سے بلی ڈرتی تھی. آج صبیحہ کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہیں.اللە انہیں اپنی خاص رحمت کے سائے میں رکھے کہ مجھے اور جگنو کو بچوں کی طرح پیار کیا ہے.

SHARE

LEAVE A REPLY