چودہ اگست سن سنتالیس سے سن دو ہزار تیرہ تک کا سفر اُس ایک لمحے میں کتنا مختصر محسوس ہوتاہے جب ذہن میں ماضی کے ان ایام کی ایک فلم سی چل جاتی ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ اور آزاد وطن کے قیام کے لیئے طویل اور صبر آزما تحریک کے بعد ان آخری لمحات کا انتظار کرنا شروع کیا جب خواب حقیقت میں بدلنے والا تھا۔آزادی کی روشنی غلامی کے اندھیرے نگلنے والی تھی اور نصف شب میں آزادی کا سورج طلوع ہونے والا تھا.آج بھی ایسے کتنے ہی لوگ زندہ ہیں جن کے ذہنوں میں وہ لمحات نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ترو تازہ ہیں جب 13۔اور 14۔اگست 1947 کی درمیانی رات کو ٹھیک بارہ بجے ریڈیو پاکستان کے لاہور اسٹیشن سے ایک آواز نے آزاد فضاؤں کے آزاد باسیوں کو نویدِ آزادی دی.یہ آواز مصطفیٰ علی ھمٰدانی کی تھی.

لاہور ریڈیو اسٹیشن،قیام پاکستان کا اعلان اور مصطفیٰ علی ھمٰدانی ایک ایسی ناقابل تردید حقیقی مثلث ہے جس کے بغیر پاکستان میں تاریخِ نشریات کا بابِ اول تحریر نہیں ہو سکتا.قدرت نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا تھا کہ انہوں نے اپنی منفرد اور گرجدار آواز میں نوید آزادی کی روشنی بکھیر دی. ایک ایسی آواز جس نے صدیوں کی غلامی کا سلسلہ صرف یہ کہہ کر ہمیشہ کے لیئے ختم کر دیا ” ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔13۔اور 14۔اگست 1947 کی درمیانی رات ، بارہ بجے ہیں طلوعِ صبحِ آزادی”. مصطفیٰ علی ھمٰدانی ریڈیو پاکستان کے پہلے چیف اناؤنسر تھے اور فن نشریات کا ایسا سکول جس کا عکس لاشعوری طور پر ایک طویل عرصے تک ہماری نشریات میں موجود رہے گا. وہ 29 جولائی 1909 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 1938میں پہلی بار ریڈ پر تقریر کی اور1939 اس وقت کے آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اسٹیشن سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا.

mustafa ali hamadani

سید رشید احمد ان دنوں لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر تھے جنہوں نے انکی آواز، تلفظ،لہجے، علمی استعداد اور شخصیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس وقت کے ڈائریکٹر پروگرام سومنات چب سے خصوصی سفارش کی.مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے لاہور ریڈیو کے بچپن،جوانی اور تجربے سے کندن بننے کے تمام مراحل دیکھے.16دسمبر 1937 میں لاہور وائی ایم سی اے کے ایک چھوٹے سے کمرے سے شروع ہونے والا یہ نشریاتی مرکز کچھ عرصے بعد گورنر ہاؤس لاہور کے عقبی حصے سے ملحقہ سر فضل حسین کی کوٹھی میں منتقل ہو گیا اور یہی وہ جگہ تھی جس کے ایک سٹوڈیو سے مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے آزاد وطن کی آزاد فضاؤں میں پہلی آزاد آواز کی لہریں بکھیریں.

انہوں نے 1935 کے اواخر میں لاہور سے اپنا ہفت روزہ اخبار سفینہ جاری کیا

لاہور ریڈیو کی جیتی جاگتی تاریخ ،ماہر نشریات اور بچوں کے پروگرام کے بھائی جان حال مقیم امریکہ ابوالحسن نغمی اپنی تازہ کتاب ”یہ لاہور ہے” میں سر فضل حسین کی کوٹھی میں قائم لاہور ریڈیو اسٹیشن کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں.

” ٹھہرئیے میں بتاتا ہوں۔یہ لاہور ہے۔یہ شملہ پہاڑی ہے۔شملہ پہاڑی کے نیچے سے گزرتی ہوئی یہ سڑک گورنر ہاؤس کے گیٹ پر ختم ہوتی ہے۔یہ بائیں طرف جو مکان ہے اس میں فیض احمد فیض،بیگم فیض اور انکی دو پیاری پیارے بچیاں سکونت پذیر ہیں.فیض کے مکان کے بالکل سامنے میاں فضل حسین کی کوٹھی ہے اسی کوٹھی کو دوسری عالمی جنگ کے دنوں میں ریڈیو اسٹیشن بنا لیا گیا تھا.یہ سیاہ آ ہنی گیٹ ہے اندر تشریف لائیے.یہاں سٹول پر چوکیدار دیوان علی ہے یاروں کا یار۔۔ یہاں تک کہ مولانا کوثر نیازی بھی اس کے یارِ وفادار ہیں.یہ باغیچہ ہے کتنا دل کُشا۔یہ سیڑھیاں،یہ برآمدہ اور اسکے دونوں کونوں پر دو کمرے۔۔۔”

لاہور ریڈیو اعلان آزادی کے بعد فوری طور پر ایک ایسے محاذ کی صورت اختیار کر گیا جس نے ایک طرف تو ہم وطنوں کو نئے سفر کے لیئے نیا حوصلہ اور نیا جذبہ دینا شروع کیا اور دوسری طرف بھارت سے آنے والے خستہ حال مہاجرین کی بحالی اور انہیں ان کے خاندانوں سے ملانے کا فریضہ بھی سر انجام دیا. پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے علاوہ اخلاق احمد،عزیز الرحمٰن، محی الدین اور مظفر حسین جیسے اناؤنسروں کے نام تاریخ ساز ہیں اور یہ عجب اتفاق ہے کہ یہ تمام آوازیں ایک ہی وقت میں لاہور ریڈیو سے منسلک رہیں اور اب یہ تمام آوازیں اپنے سننے والوں کے دلوں میں تو زندہ ہیں لیکن ‘ اُن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں’.

mustafa ali hamadani agha tv

نشریات مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے لیئے صرف روزگار کا وسیلہ ہی نہیں تھا بلکہ انہوں نے اسے اپنا پہلا اور آخری محبوب جانا اور اسقدر ٹوٹ کے چاہا کہ اکثر اوقات خود انکے اہلِ خانہ کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے انکے نام کی محبتیں بھی ریڈیو کے نام لگ گئی ہوں.آواز کی دنیا انکی شخصیت کا ایک رخ تھا اسکے علاوہ وہ ایک ماہرِ لسانیات،فارسی اور اردو کے شاعر،عربی،فارسی،اردو اور پنجابی زبانوں پر مکمل دسترس کے حامل،مترجم اور صحافی بھی تھے. نشریاتی شعبے میں آنے سے قبل ١٩٣٦ میں انہوں نے لاہور سے اپنا ایک ہفت روزہ اخبار ‘ سفینہ ‘ بھی جاری کیا.مولانا ظفر علی خان کے ساتھ ‘زمیندار” سے بھی وابستہ رہے اور مولانا غلام رسول مہر کے ساتھ’ انقلاب’ میں بھی کام کیا. انکی ذات میں شاید یہی صحافیانہ عنصر تھا کہ وہ عرصہ دراز تک لاہور ریڈیو کی خبروں کے حوالے سے یکتائے روزگار رہے اور ٹی وی لاہور کے ابتدائی زمانے میں ٹی وی سے خبریں بھی پڑھتے رہے. وہ لاہور ریڈیو کی پہچان تھے. مقبول براڈکاسٹر ابوالحسن نغمی اپنی کتاب ‘ یہ لاہور ہے ‘ میں لکھتے ہیں.

”14 ،اگست 1947 کی رات کا جیسے ہی آغاز ہوا تو لاہور ریڈیو اسٹیشن سے جو آواز سب سے پہلے بلند ہوئی وہ مصطفیٰ علی ھمٰدانی کی ہی آواز تھی.اگر آپ ان سے متعارف نہ بھی ہوتے تو انہیں کہیں دیکھتے تو اندازہ ہو جاتا کہ اگر وہ خود نہیں تو انکے آبا ؤ اجداد یقینا کسی اور ملک سے آئے ہیں.نہایت دراز قامت،سراپا صباحت،سنہرے بال،کنجی آنکھیں،سرخ رنگت،چہرے پہ وقار اور لہجے میں شائستگی اور شرافت.انگریزوں نے لاہور کا ریڈیو اسٹیشن دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں قائم کیا اور ھمٰدانی صاحب انہی دنوں کی یادگار تھے. وہ بلاشبہ ‘ریڈیو کے آدمی’ تھے.انکی آواز ایک طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان کی پہچان رہی.اگر ارادے کے بغیر اتفاقاً کسی ریڈیو سیٹ پر لاہور اسٹیشن کے نشان پر سوئی ٹھہر جاتی تو ھمٰدانی صاحب کی آواز سے ہی سننے والے کو معلوم ہو جاتا تھا کہ ۔۔یہ لاہور ہے۔۔.وہ علم و فضل کے بلند مقام پر فائز تھے۔میں پوچھتا ہوں کہ ایسے ایسے نابغئہ روزگار لوگوں کی ریڈیو پاکستان نے کیا قدر کی؟”

اور خود مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے اپنے بارے میں اپنے غیر مطبوعہ کتاب ‘ہم سفر’ میں لکھا ہے” میں اپنی نشریاتی زندگی میں جو اہم اعلانات کیئے قیام پاکستان کا اعلان بلا شبہ خود میرے لیئے اور میری اولاد کے لیئے ایک اعزازِ خدائے بخشندہ ہے لیکن میرے اپنے خیال میں میری زندگی کا سب سے اہم اعلان قیام پاکستان کے اعلان سے ایک گھنٹے قبل آل انڈیا ریڈیو لاہور کا آخری اعلان تھا جب میں نے اس سرزمین سے آل انڈیا ریڈیو کے نام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے دفن کر دیا.میں شاید وہ واحد آدمی ہوں جس نے لاہور ریڈیو کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر خود اپنی آنکھوں سے غلامی کو جاتے اور آزادی کو آتے دیکھا.١٣۔اور 14۔اگست 1947 کی درمیانی رات کو ١١ بجے سے بارہ بجے تک ایک گھنٹے کا سفر صدیوں کا سفر لگ رہا تھا۔میں کبھی سر بسجود ہو کر اور کبھی دستِ دعا بلند کر کے یہ دعا مانگتا تھا کہ اے پالنے والے میری روح کواسوقت تک اس جسد خاکی سے جدا نہ کرنا جب تک میرے ہونٹوں سے پاکستان کی آزادی کے الفاظ ادا نہ ہو جائیں. اس رات ہر طرف ایک اضطراب تھا مگر یہی رات خوشیوں کی پیامبر رات تھی اور آزادی کی نقیب بھی.سچ تو یہ کہ سو سال کی غلامی کا خاتمہ ہو رہا تھا. وقت جیسے تھم گیا تھا. سٹوڈیو کی دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں جسیے ساکت تھیں لیکن میری رگوں میں خون تیزی سے دوڑ رہا تھا اور پھر وہ لمحہ آن پہنچا جب سٹوڈیو کی سرخ بتی روشن ہوئی اور گھڑی کی دونوں سوئیاں بارہ کے ہندسے پر گلے ملیں.میں نے اپنی ساری قوت کو جمع کر کے فیڈر کھولا اور یہ الفاظ مائیکروفون کے راستے لوگوں کے دلوں میں اُتر گئے’

radio pakistan logo

السلام علیکم۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔13۔اور 14۔اگست 1947 کی درمیانی رات ، بارہ بجے ہیں طلوعِ صبحِ آزادی”

آزادی کے اس اعلان اور اس آواز نے کتنے ہی دلوں کو یہ یقین دلوایا کہ غلامی کی زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں.

اُس رات آزادی کی خصوصی نشریات 30 منٹ دورانئے کی تھیں جس کا مکمل ذکر مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے اپنی غیر مطبوعہ کتاب’ ہم سفر’ میں لکھا ہے.” رات بارہ بجے اردو میں اعلان آزادی کے بعد انگریزی میں یہ اعلان ظہور آذر نے کیا جو اسوقت لاہور ریڈیو پر انگریزی تقاریر کے پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور بعد میں حکومت پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کام کرتے رہے.اسکے بعد استاد مبارک علی خان فتح علی خان( استاد نصرت فتح علی کے والد اور چچا) نے کلامِ اقبال’ ہوا خیمہ زن آ کے فصلِ بہار’ قوالی کے انداز میںگایا جس کے بعد ایک طربیہ سازینہ نشر ہوا . بعد ازاں اسوقت کے لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر محمود نظامی کی آزادی کے موضوع پر لکھی تقریر بھی میں نے خود پڑھی اور ٣٠ منٹ کی ان تمام نشریات کا میزبان بھی میں خود ہی تھا. اور یوں آزاد پاکستان میں نشریاتی تاریخ کا اولیں باب رقعم ہوا”.

لاہور علم وادب کا شہر تھا اور ایسے ہی علم و ادب کی صحبت کا اثر تھا کہ انہوں نے تلفظ کے معاملے میں اپنے ثقہ ہونے کا لوہا منوا رکھا تھا حتیٰ کہ ناصر کاظمی،مختار صدیقی اور سید عابد علی عابد جیسے اساتزہ بھی انہیں چلتی پھرتی ڈکشنری کہتے تھے.وہ کتنے ہی تاریخ ساز لوگوں کی طرح تشہیر سے دور رہے اسی لیئے ذرائع ابلاغ میں زندگی گزارنے کے باوجود انکے معدودے چند انٹرویو موجود ہیں.اپنی غیر مطبوعہ کتاب میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ ان تمام شخصیات کا ذکر کیا ہے جنکے ساتھ انہوں نے وقت گزارا اور ان میں قائد اعظم،علامہ اقبال،مولانا ظفر علی خان،ابوالکلام آزاد اور مولانا محمد علی جوہر،امتیاز تاج،غلام رسول مہر، ناصر کاظمی،صادقین،شاکر علی،چغتائی،شورش کاشمیری،شمس العلما سید علی الحائری،کرشن چندر، فیص احمد فیض،ن۔م۔راشد،پطرس بخاری،

زیڈ۔اے ۔بخاری،شوکت تھانوی،علامہ مشرقی،حفیظ جالندھری،تاجور نجیب آبادی،حافظ کفایت حسین،سید وقار عظیم،عبدالرب نشتر،جوش ملیح آبادی، راجند سنگھ بیدی ،صوفی تبسم،ڈاکٹر عبداللہ،علامہ علاؤ الدین صدیقی ، غازی علم الدین،محمد رفیع (گلوکار)،مولانا مودودی،جنرل سکندر مرزا،جنرل ایوب خان ،گورنر اختر حسین ،بڑے غلام علی خان ، استاد برکت علی،روشن آرا بیگم اور ایسی کتنی ہی شخصیات کا ذکر خاص انداز میں کیا ہے.

ریڈیو پاکستان اور وائس آف امریکہ سے ایک طویل عرصے تک نشریاتی میدان میں خدمات سرانجام دینے والے حال مقیم ابوالحسن نغمی نے اپنی تازہ تصنیف ”یہ لاہورہے ” میں ایک مکمل باب مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے بارے میں تحریر کیا ہے انکی شخصیت کا نہایت دلکش اور حقیقی خاکہ کھینچا ہے .نغمی صاحب لکھتے ہیں” مصطفیٰ علی ھمٰدانی کی .مصطفیٰ علی ھمٰدانی کا ہینڈ رائٹنگ ان کے باطن کا عکس تھا.وہ ہینڈ رائٹنگ نہیں بلکہ خطاطی کا عمدہ نمونہ تھا جسے دیکھ کر دل خوش ہوتا تھا اور آنکھوں کو فرحت ملتی تھی.. ھمٰدانی صاحب بلا شبہ علم و فضل کے مقامِ بلند پر فائز تھے”

اپنی نشریاتی زندگی میں قیام پاکستان کے اعلان کے علاوہ مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے قائد اعظم کی وفات،خضر حکومت کا خاتمہ،٦٥ کی پاک بھارت جنگ اور 71 کی جنگ کے علاوہ متعدد ناقابل فراموش اعلانات کیئے.1939 سے 1969تک مسلسل مائیکروفون کے ذریعے کروڑوں عوام کے دلوں سے رابطہ رکھنے والے مصطفیٰ علی ھمٰدانی ٦٩ میں لاہور ریڈیو سے چیف اناؤنسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے لیکن طرفہ تماشہ یہ کہ کسی پینشن کے بغیر.71 کی پاک بھارت جنگ میں ان سے نہ رہا گیا اور وہ رضاکارانہ طور پر پھر مائیکروفون پر آ گئے.بعد ازاں اسوقت کے وزیر اطلاعات و نشریات اور انکے بے حد مداح مولانا کوثر نیازی کے بے حد اصرار پر 1975 تک وہ ایک معاہدے کے تحت اناؤنسرز کی تربیت کاکام کرتے رہے لیکن ٧٥ میں ریڈیو کے سابق ڈائریکٹر جنرل سلیم گیلانی نے جب لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر کی ذمے داریاں سنبھالیں تو انکا یہ معاہدہ فوری طور پر منسوخ کر دیا اور اس طرح ریڈیو سے اس تاریخ ساز شخصیت کا عملی تعلق ختم ہو گیا. آج ستاون سال گزرنے کے بعد بھی کسی حکومت کسی وزارت اطلاعات و نشریات کو یہ توفیق نہیں ہو سکی کہ وہ اس تاریخ ساز شخصیت کی خدمات کو تسلیم کرتی.تاریخی خدمات سرانجام دینے والے جن لوگوں نے اپنی زندگیوں میں کسی صلے اور ستائش کی تمنا نہ کی ہو مرنے کے بعد ایسی شخصیات کو تمغوں کے حصول کی ضرورت نہیں رہتی اور یوں بھی ہماری روایت” منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے” کی ہے.

mustafa ali hamadani mominpura

علامہ اقبال کے اس شیدائی مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے 21 اپریل 1980 کو (21،اپریل علامہ اقبال کا بھی یوم وفات ہے) 71 برس کی عمر میں وفات پائی اور انہیں لاہور میں ہی مومن پورہ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا.

صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY