مفلوج بچے نے آنکھوں کے اشاروں سے کتاب لکھ ڈالی

0
60

معذوری چاہے کتنی ہی دشوار کیوں نہ ہو اگر عزم و حوصلہ بلند ہو تو کچھ بھی کرنا ناممکن نہیں ہوتا جسے 12 سالہ مفلوج برطانوی جوناتھن نے ثابت کر دکھایا ہے۔

جوناتھن بریان پیدائش سے ذہنی اور جسمانی طور پر فالج کا شکار ہیں جس کی وجہ سے یہ معصوم بول سکتا ہے اور نہ لکھ سکتا ہے تاہم ان کے والدین سمجھانے کیلئے اشاروں کا سہارا لیتے ہیں۔

جوناتھن کی والدہ شینٹل بریان نے دلبراشتہ ہونے کے بجائے ہمت باندھی اور اپنے بیٹے کو چند گھنٹوں کیلئے سکول لے جانے لگیں تاکہ وہ پڑھنے اور لکھنے کے قابل ہوسکے۔ 9 برس کی عمر میں جوناتھن نے سپیلنگ کرنا سیکھا اور ای ٹران فریم کی مدد سے کتاب بھی لکھ ڈالی

۔ای ٹران فریم ایک خاص قسم کا شفاف پلاسٹک بورڈ ہوتا ہے اس کے ذریعے گونگے اور ہاتھوں سے مفلوج افراد اشارے کی مدد سے علیحدہ علیحدہ حروف کی نشاندہی کر کے بات چیت کرسکتے ہیں۔ جوناتھن نے بھی اسی طریقہ کار سے بات چیت کرنا شروع کی اور آنکھوں کی مدد سے
’’eye can write‘‘ کتاب لکھ ڈالی۔

Can you imagine not being able to speak or communicate? The silence, the loneliness, the pain. But, inside you disappear to magical places, and even meet your best friend there. However, most of the time you remain imprisoned within the isolation. Waiting, longing, hoping. Until someone realises your potential and discovers your key, so your unlocking can begin. Now you are free, flying like a wild bird in the open sky. A voice for the voiceless.

SHARE

LEAVE A REPLY