ہیلووین کا موسم اکتوبر کی اکتیس تاریخ ہے جس میں بچے چہرے پر نقاب لگا کر منفرد نظر آنے کی یہ کوششیں دنیا بھر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس برس 2021 میں کرونا کی وجہ سے بچے باہر گلیوں بازاروں میں گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتے نظر نہیں آئےبلکہ ہیلوئین کے روایتی لباس پہن کر گھروں میں رہے
روایتی طور پر یہ مغربی ممالک میں آل ہیلوز ڈے کی شام کو منایا جاتا رہا ہے۔تقریب تین دنوں تک جاری رہتی ہے جس میں اس دنیا سے چلے جانے والے اپنے رشتے داروں، سینٹوں اور شہیدوں کو یاد کیا جاتا ہے۔
لوگ اس موقعے پر طرح طرح کے ماسک یا چہرے لگاتے ہیں اور دوسری دنیا کی روحوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ہیلوئین کے موقعے پر چہرے پر ماسک (نقاب) اور سیاہی لگا کر پارٹیوں میں جانے کا موسم، گھروں کے باہر خوفناک تصویریں لگانے کا موسم، کم کپڑوں میں چڑیل کا میک اپ کرنے کا موسم ہے

ان دنوں بھارت اور پاکستان میں بھی لوگ ہیلوئین منانے لگے ہیں
ہالووین ایک مغربی تہوار ہے، جسے مسیحی اپنے پادریوں اور ان نیک مرے ہوئے لوگوں کی یاد میں مناتے ہیں جنہوں نے اپنے مذہب کی راہ میں جان دی تھی۔
ایک اور نظریے کے مطابق اس کا آغاز آئرلینڈ کے قبائل نے کیا۔ ان قبائل کا عقیدہ تھا کہ 31 اکتوبر کی رات کو زندہ انسانوں اور مرنے والوں کی روحوں کے درمیان موجود سرحد نرم ہوجاتی ہے اور روحیں دنیا میں آکر انسانوں، مال مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ روحوں کو خوش کرنے کے لیے قبائلی 31 اکتوبر کی رات آگ کے الاؤ روشن کرتے، اناج بانٹتے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔
ہالووین کی موجودہ رسم اسی سوچ کی ترقی یافتہ شکل ہے
صفدر ھمدانی














بہت عمدہ میری معلومات میں اضافہ کرنے کا بےحد شکریہ سیدی جگ جگ جئیں 🙏