اہلسنت کے علماء نے اپنی کُتب میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے بشمول حضرت علی ع کے بیعت نہیں کی ۔ حضرت علی ع گوشہ نشین ہو گئے اس پر حضرت عمر آگ اور لکڑیاں لے آئے اور کہا کہ گھر سے نکلو ورنہ ہم آگ لگا دیں گے۔ حضرت فاطمہ ص نے کہا کہ اس گھر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسنین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہونے دیں۔
منتخب کنز العمال از حاشیہ مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 174 مطبوعہ مصر
الاستیعاب از ابن عبد البر صفحہ 345 در ذکر ابوبکر بن ابی قحافہ
حضرت علی ع کے باہر نہ آنے پر گھر کو آگ لگا دی گئی۔ حضرت فاطمہ ص دوڑ کر دروازہ کے قریب آئیں اور کہا کہ ابھی تو میرے باپ کا کفن میلا نہ ہوا۔ یہ تم کیا کر رہے ہو۔ اس پر ان پر دروازہ گرا دیا اسی ضرب سے حضرت فاطمہ ص شہید ہوئیں۔
مدارج النبوۃ رکن 4 باب 3 صفحہ 42 از عبدالحق دہلوی
کچھ روایات کے مطابق ان کے بطن میں محسن شہید ہوئے۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ محسن کا ذکر کسی معتبر تاریخ میں نہیں اس لیے اس بات کو نہ ماننا چائیے۔ لیکن کچھ کتابوں میں یہ ذکر موجود ہے۔
روائح المصطفیٰ از مولوی صدر الدین حنفی صفحہ 28
لوگ جب گھر میں گھسے تو حضرت فاطمہ ص نے کہا کہ خدا کی قسم گھرسے نکل جاؤ ورنہ سر کے بال کھول دوں گی اور خدا کی بارگاہ میں سخت فریاد کروں گی۔
تاریخ یعقوبی جلد 2 صفحہ 116________
اس مکمل واقعہ کی روایت بشمول آگ لگانا اور دروازہ گرانے کے ابن قیتبہ ابوالفداء ابن عبدربہ وغیرہ نے بھی کی ہے۔
الامامت والسیاست از ابو محمد عبد اللہ بن مسلم قیتبہ متوفی 276ھ جلد 1 صفحہ 12
تاریخ بلاذری در تذکرۂ بیعت حضرت ابوبکر
عقد الفرید از امام شہاب الدین احمد معروف بہ ابن عبدربہ اندلسی۔ جلد 2 صفحہ 176 مطبوعہ مصر
تاریخ ابوالفداء از امام اہل سنت عماد الدین اسماعیل بن علی ابوالفداء ۔ اردو ترجمہ از مولوی کریم الدین حنفی صفحہ 177۔179
ویسے تو اہلسنت کے علماء نے اس حقیقت کا انکار کیا ہے اور جنہوں نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے اُنہوں نے اس کا دفاع کرنے کی بھی کوشش کی ہےجیسے علامہ شبلی نعمانی نے ان واقعات کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئےلکھا ہے کہ روایت کے مطابق اس واقعہ سے انکار کی کوئی وجہ نہیں اور حضرت عمر کی تندی اور تیز مزاجی سے یہ حرکت کچھ بعید نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نازک وقت میں حضرت عمر نے تیزی اور سرگرمی کے ساتھ جو کاروائیاں کیں ان میں گو بعض بے اعتدالیاں پائی جاتی ہیں لیکن یاد رکھنا چائیے کہ انہی بے اعتدالیوں نے اٹھتے ہوئے فتنوں کو دبا دیا۔بعض بنو ہاشم کی سازشیں اگر قائم رہتیں تو اسی وقت جماعت اسلامی کا شیرازہ بکھر جاتا اور وہی خانہ جنگیاں برپا ہو جاتیں تو آگے جا کر حضرت علی ع اور معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں پیدا ہوئیں۔
الفاروق از شبلی نعمانی حصہ اول صفحہ 113
بنو اُمیہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے شاہ عبدالعزیز نے لکھا ہے کہ یہ قصہ افترا ہے اور اس کی کچھ اصل نہیں اگر جلانے کی دھمکی دی گئی تھی تو اس کا مقصد صرف ڈرانا تھا کیونکہ ایسے لوگ اس گھر میں پناہ لیے ہوئے تھے جو حضرت ابوبکر کی خلافت لوٹ پوٹ کرنے کے واسطے صلاح و مشورہ کرتے تھے۔ ۔یہ فعل حضرت عمر سے مطابق فعل معصوم وقوع میں آیا (کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ترک نماز کرنے والوں کے گھر کو آگ سے پھونکنے کی دھمکی دی تھی) اس لیے طعن کیوں ہو ۔
تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز مطبوعہ نولکشور
حضرت فاطمہ ص کے جنازے میں حضرت علی ع حضرت حسن ع و حسین ع حضرت عقیل ابن ابی طالب حضرت سلمان فارسی حضرت ابوذر غفاری حضرت مقداد ابن اسود حضرت عمار ابن یاسر اور حضرت بریدہ شریک تھے۔
مناقب شہر آشوب از حافظ محمد ابن علی شہر آشوب
دیگر روایات میں حضرت حذیفہ یمانی حضرت عباس حضرت فضل حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا ذکر ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن زبیر کا ذکر بھی آتا ہے۔
تاریخ طبری از جریر الطبری__________
صحیح بخاری میں درج ہے کہ حضرت فاطمہ ص نے وصیت کی تھی کہ ابوبکر و عمر ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں۔ صحیح البخاری جلد 2 کتاب المغازی
کچھ اور جگہ آتا ہے کہ حضرت فاطمہ ص نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی جنازے میں نہ آئے جن سے میں ناراض ہوں۔ طبقات ابن سعد الجز الثامن__________
اکثر اور مشہور روایات کے مطابق جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ چالیس دیگر قبریں بھی بنائی گئیں تاکہ اصل قبر کا پتہ نہ چل سکے۔ دلائل الامامۃ از جریر الطبری
اللهم العن قاتلي فاطمة الزهراء_________













