ترقی پسند عظیم شاعر نغمہ نگار قتیل شفائی.آفتاب احمد‎

0
122

ی پسند عظیم شاعر نغمہ نگار قتیل شفائی

کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سن لے

بے بازوئے حیدر در خیبر نہیں گرتا

قائم ہے قتیلؔ اب یہ مرے سر کے ستوں پر

بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا

کیٹس کا کہناہے کہ سچائی کا نام حسن ہے اور حسن کا نام سچائی اگر اس ایک جملے کے پس منظر میں قتیل شفائی کی شاعری کو پرکھا جائے تو اس میں حسن بھی ہے اور سچائی بھی

جب ایک غزل گو یا نظم گو فلمی گیت لکھتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی فلمی شاعری کو تو یاد رکھا جاتا ہے لیکن اس کا دیگر کام نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر تھے۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز تھا۔ یوں تو انھوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل تھا۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل رہا۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

نمونہ کلام

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم

اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم

پاکستان کی پہلی بلیک اینڈ وہائٹ فلم ’’تیری یاد‘‘ کے گیت قتیل شفائی کی کاوشوں کا نتیجہ تھے اور جب پاکستان کی فلم انڈسٹری میں رنگین فلموں کا آغاز ہوا تھا تو پاکستان کی پہلی رنگین فلم ’’نائلہ‘‘ کے گیت بھی قتیل شفائی کے کھاتے میں لکھے گئے تھے۔

ان کے کئی شعری مجموعے شایع ہوئے اور عوام کی توجہ کا مرکز بنتے رہے جن شعری مجموعوں کو بڑی شہرت ملی ان میں گھنگرو، جھومر، آموختہ، برشگال، رنگ خوشبو روشنی، انتخاب اور ان کے فلمی گیتوں کا مجموعہ ’’گجران‘‘ کے علاوہ حمد و نعت اور سلام پر مشتمل ایک مجموعہ ’’نذرانہ‘‘ کے نام سے بھی شایع ہوا تھا۔ قتیل شفائی کو اپنے ایک شعری مجموعہ ’’مطربہ‘‘ پر آدم جی ادبی ایوارڈ دیا گیا تھا اور 1994 میں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا تھا۔ ان کو کئی مرتبہ نگار پبلک فلم ایوارڈز، مصور ایوارڈز،اور نیشنل ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔

جس طرح ہندوستان میں ساحر لدھیانوی کا نام فلموں کے لیے کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، اسی طرح پاکستان کی فلم انڈسٹری میں قتیل شفائی کا نام بکتا تھا۔

کم عمری میں ہی والد کا سایہ سرسے اُٹھ گیا اور آپ کو مجبوراً تعلیم کو خیرباد کہہ کر زندگی کی گاڑی کو کھینچنا پڑا۔ چھوٹی عمرہی میں کھیلوں کے سامان کی دکان بنائی۔ جب کاروبار چل نکلا تو آپ نے راولپنڈی آنے کا سوچا جہاں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں نوکری شروع کی اور 60روپے ماہانہ کمانے لگے۔

نغمہ نگار کے طور پر اُنھوں نے کئی ایوارڈ جیتے۔قتیل شفائی نے جگ جیت چِترا اور غلام علی کے ساتھ کئی البمز پر کام کیا۔

اُنھیں سنہ 1994میں ’پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ اِس کے علاوہ، قتیل شفائی نے آدم جی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ، اباسین آرٹ کونسل ایوارڈ اور امیر خسرو ایوارڈ بھی حاصل کیے۔آپ کی شاعری کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

قتیل شفائی نے اپنی مادری زبان ہندکو میں ایک فلم بھی پروڈیوس کی، جو ہندکو کی پہلی فلم تھی، جِس کا نام تھا ’قصہ خوانی‘، جو 1980ء میں رلیز ہوئی۔

لاہور میں جہاں آپ کا قیام تھا اُس سڑک کو قتیل شفائی اسٹریٹ اور ہری پور میں جہاں وہ رہتے تھے محلہ قتیل شفائی کہا جاتا ہے۔پاکستان اور بھارت کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں اُن کی شاعری کوشامل کیا گیا ہے۔قتیل شفائی، جِن کا اصل نام اورنگزیب خان تھا۔ آپ 24دسمبر 1919کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں ایسے بھی شاعر گزرے ہیں جنہوں نے غزل اور نظم لکھنے کے علاوہ فلمی گیت نگاری بھی کی۔ اگر ہم بھارت کی طرف دیکھیں تو اس صف میں شکیل بدایونی‘ مجروح سلطانپوری‘ ساحر لدھیانوی‘ راجہ مہدی علی خاں‘ قمر جلال آبادی‘ کیفی اعظمی اور کئی دوسرے شعرا شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں احمد راہی، تنویر نقوی‘ سیف الدین سیف‘ حبیب جالب‘ کلیم عثمانی اور مسرور انورکے نام لئے جا سکتے ہیں۔ ایک نام جس کی ہمیشہ الگ شناخت رہی اور نغمہ نگاری میں بھی جس نے کمالات دکھائے وہ ہے قتیل شفائی۔

انہوں نے 1938ء میں اپنا قلمی نام قتیل شفائی رکھا۔ قتیل ان کا تخلص تھا جبکہ شفائی انہوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شفائی کے حوالے سے رکھا۔ 1935ء میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور قتیل شفائی کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ انہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ شائد وہ کاروباری ذہن کے مالک نہیں تھے۔ اس کے بعد انہوں نے راولپنڈی جانے کا فیصلہ کیا اور ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کیلئے کام شروع کر دیا۔

پھر انہوں نے 1947ء میں نغمہ نگار کی حیثیت سے پاکستانی فلمی صنعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان کے خاندان میں شعرو شاعری کی طرف کسی کا رجحان نہیں تھا۔ شروع شروع میں وہ اپنے اشعار حکیم یحییٰ کو اصلاح کے لیے دکھاتے ‘ پھر احمد ندیم قاسمی سے ان کی دوستی ہو گئی جو ان کے پڑوسی بھی تھے۔ 1946ء میں انہیں نذیر احمد نے اپنے ادبی جریدے ’’ادب لطیف‘‘ میں معاون مدیر کی حیثیت سے کام کرنے کیلئے لاہور بلوالیا۔ یہ جریدہ 1936ء سے شائع ہو رہا تھا۔

ان کی پہلی غزل لاہور کے ہفت روزہ ’’سٹار‘‘ میں شائع ہوئی جس کے مدیر قمر اخبالوی تھے۔ جنوری 1947ء میں قتیل صاحب کو پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کے گیت لکھنے کیلئے کہا گیا۔ انہیں یہ پیشکش فلم کے پروڈیوسر دیوان سرداری لال نے کی تھی۔ 1948ء میں انہوں نے ’’تیری یاد‘‘ کے گیت لکھے اور اسی سال یہ فلم ریلیز ہوئی۔ 1948ء سے 1955ء تک انہوں نے جو فلمی گیت لکھے اس کی بنا پر وہ پاکستان کے کامیاب ترین نغمہ نگار بن گئے۔ انہوں نے کئی عشروں تک پاکستانی فلموں کے گیت لکھے اور انہیں کئی ایوارڈ بھی ملے۔ قتیل شفائی نے کچھ بھارتی فلموں کیلئے بھی گیت لکھے۔

قتیل شفائی کے شعری کلیات کی تعداد 22 ہے۔ ان کے مشہور ترین شعری مجموعوں میں ’’مطربہ‘چھتنار‘ گفتگو‘ پیرہن‘‘ اور کئی دوسرے شامل ہیں۔ انہوں نے ڈھائی ہزار سے زائد فلمی گیت لکھے۔ انہوں نے 201پاکستانی اور بھارتی فلموں کیلئے نغمات لکھے۔ ان کی شاعری کے کئی دوسری زبانوں میں بھی تراجم کیے گئے۔ ان کے بارے میں معروف ادبی شخصیت ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے کہا تھا ’’قتیل شفائی بیسویں صدی کے ان عظیم شعرا میں سے تھے جنہیں عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ 1994ء میں انہیں تمغۂ حسن کارکردگی دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں آدم جی ایوارڈ‘ نقوش ایوارڈ اور اباسین آرٹس کونسل ایوارڈ بھی ملا۔ پھر انہیں بھارت میں امیرخسرو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1999ء میں انہیں خصوصی ملینیئم نگار ایوارڈ دیا گیا۔

یہ ایوارڈ انہیں پاکستانی فلمی صنعت کی زبردست خدمات پر دیا گیا۔ قتیل شفائی کی مادری زبان ہندکو تھی۔ 1970ء میں انہوں نے ہندکو زبان میں ’’قصہ خوانی‘‘ کے نام سے فلم بنائی۔ لیکن یہ فلم 1980ء میں ریلیز ہوئی۔ قتیل شفائی بنیادی طور پر رومانوی شاعر تھے۔ لیکن ان کی شاعری کا کینوس محدود نہیں۔ ان کی شاعری میں معروضی صداقتوں کا اظہار بھی ملتا ہے اور عصری کرب بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔

ان کے اشعار میں غنائیت اور رچائو کے ساتھ نغمگی بھی پورے عروج پر ہے۔ انہوں نے بہت لکھا۔ وہ مشاعروں کے بھی بڑے کامیاب شاعر تھے اور انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار عالمی مشاعروں میں شرکت کی۔ ان کے مداحوں کی تعداد دنیا بھر میں ہے… وہ نڈر اور بے باک تھے اور اپنی بات لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتے تھے۔ لیکن وہ اکثر کہتے تھے کہ وہ اتنے بہادر اور جری نہیں جتنے حبیب جالب تھے‘ جو کام ہم نہ کر سکے وہ حبیب جالب نے کر دیا۔ ذیل میں ہم قتیل شفائی کی غزلوں کے کچھ اشعار قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی جو ظلم تو سہتاہے بغاوت نہیں کرتا

جب بھی آتا ہے میرا نام تیرے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ میرے نام سے جل جاتے ہیں ……… یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے ……… حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں تیرے رستے میں کھڑی تھیں کون سی مجبوریاں میں سمجھ لوں گا مگر دنیا کو سمجھائے گا کون ……… تم پوچھو اور میں نہ بتائوں ایسے تو حالات نہیں اک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں ……… رقص کرتی ہوئی آتی ہیں فضا سے بوندیں کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے اب ذرا ان کے فلمی گیتوں کا بھی تذکرہ ہو جائے۔ 1- نگاہیں ملا کر بدل جانے والے (محبوب) 2-غم دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے (نائلہ) 3- میں تو بنتی کر کر ہار گئی (چنگاری) 4- کیوں ہم سے خفا ہو گئے اے جان تمنا (سلام محبت) 5-ہر آدمی الگ سہی مگر امنگ ایک ہے (زندگی ایک سفر ہے) 6- صدا ہوں اپنے پیار کی (انارکلی) 7- او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جائو (انتظار) 8- پریشاں رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائو (عشق لیلیٰ) 9- سہیلی ترا بانکپن لٹ گیا (دامن اور چنگاری) 10- زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں (عظمت) 11جولائی 2001ء کو یہ نادر روزگار شاعر اور گیت نگار اس جہاں سے رخصت ہو گیا۔ قتیل شفائی نے بڑی بھرپور زندگی گزاری۔ ان کے احباب کا حلقہ بھی بہت وسیع تھا۔ وہ وسیع النظر بھی تھے اور وسیع القلب بھی۔ ان جیسا شاعر دوبارہ ملنا بہرحال آسان نہیں۔ اپنی گرانقدر خدمات کی بنا پر وہ ادبی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ان کی پہلی شعری تخلیق 1936ءمیں شائع ہوئی ۔ ان کی وفات تک ان کے چودہ شعری مجموعے شائع ہوچکے تھے ۔ ان کے شعری مجموعہ ”مطربہ“ جو 1964ءمیں منظر عام پر آیا ،کو پاکستان رائٹرز گلڈنے آدم جی ایوارڈ سے نوازا ۔ اس کتاب میں جو منظومات شامل ہیں وہ زندگی کی تلخیوں ، شیرینوں ، اچھائیوں اور برائیوں کی ترجمانی کرتی ہیں ۔ان کا ایک بیٹا اور سب سے چھوٹی بیٹی پنجابی زبان میں شاعری کرتے ہیں ۔

قتیل شفائی کے بارے میں احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں ….” جب بیسوی صدی کے چند اہم اور بڑے شاعروں کی فہرست تیار ہوگی تو اس میں قتیل شفائی کا نام بہرصورت شامل ہوگا کہ قتیل نہ صرف حسن اظہار کے بارے میں بلکہ حسن فکر کے معاملے میں بھی بڑا غیر فانی شاعر ہے ۔بقول ڈاکٹر ظفر مراد آبادی اردو شاعری کی تاریخ میں سب سے مختصر نظم لکھنے کا سہرا بھی قتیل شفائی کے سرہے ۔

قتیل شفائی نثربھی خوب لکھتے تھے ، انہوں نے کئی افسانے لکھے جو ماہنامہ ”ساقی “اور ماہنامہ ”سنگ میل “میں شائع ہوئے ۔ وہ ادبِ لطیف“ جیسے معیاری رسالے کے مدیر بھی رہے ، وہ کچھ عرصہ فلمی رسالہ ”اداکار“کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے لیکن دراصل شاعری ان کی پہلی اور آخری پسند تھی ۔

ساحر لدھیانوی نے قتیل شفائی کے بارے میں کہاہے ….” قتیل شفائی پاکستان کا ساحر لدھیانوی ہے اور ساحرلدھیانوی ہندوستان کا قتیل شفائی وہ اس لئے کہ دونوں کے شعری رویوں میں بڑی ہم آہنگی پائی جاتی ہے

مجھ سے رکھتے ہیں قتیل اس لئے کچھ لوگ حسد

کیوں میرے شعر ہیں مقبول حسیناﺅں میں

منفرد خیالات کو سادہ اسلوب میں ڈھال کر شعر کہنے کا فن قتیل شفائی کو خوب آتا تھا اور اسی خدا داد صلاحیت نے ہری پور جیسے دور دراز علاقے میں پیدا ہونے والے اورنگزیب خان کو اردو ادب کے افق کا درخشاں ستارہ بنا دیا۔

عمر کے آخری برسوں میں کئی بھارتی فلموں کے لیے بھی گیت لکھے، جو بہت مقبول ہوئے، جیسے ’تیرے در پر صنم چلے آئے‘ یا پھر ’سنبھالا ہے مَیں نے بہت اپنے دل کو‘ اور ’وہ تیرا نام تھا۔

اصل شہرت گلنار ،گمنام اور قاتل کے نغمات سے ملی۔یہ وہ دور تھا جب ایک فلم میں ایک سے زائد شاعروں سے نغمے لکھوانے کا رواج تھا۔قتیل شفائی کے ساتھ تنویر نقوی ،سیف الدین سیف،مشیر کاظمی،طفیل ہوشیار پوری،ساغر صدیقی اور احمد راہی جیسے مایہ ناز شاعر فلموں کے لیے گیت لکھ رہے تھے۔ ۱۹۵۳ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’گلنار‘‘ میں قتیل شفائی کے علاوہ ساغر صدیقی جیسا بڑا نام بھی نغمہ نگار کے طور پر شامل تھا مگر قتیل شفائی کی تحریر کردہ ’’وہ چل دیے ہم کو تسلی دیے بغیر‘‘جسے میڈم نور جہان نے گایا تھا۔ سب سے زیادہ مقبول ہوا۔انور کمال پاشا کی کامیاب فلموں ’’گمنام‘‘ اور’’ قاتل‘‘میں گلوکارہ اقبال بانوکے گائے ہوئے گیتوں ’’پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے ‘‘ ،’’ الفت کی نئی منزل کو چلا ‘‘ قتیل شفائی کے تعارف کے لیے کافی ہیں۔

۱۹۶۵ء میں ہدایت کار مسعود پرویز کی کلاسیکل رومانی فلم ’’ انتظار‘‘قتیل شفائی کے نغمات سے مزین ایک اعلیٰ شاہکار ثابت ہوئی۔خواجہ خورشید انورکی دھنوں پر قتیل شفائی نے لازوال نغمے تحریر کیے:

؂جس دن سے پیا دل لے گئے

؂او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاؤ

؂چھن چھن ناچوں گی

؂غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

؂بلم پردیسی ،سجن پردیسی

قتیل شفائی کے گیت مجروح زندگی کی پکار ہیں ان میں درد،کسک،تڑپ، بے چارگی،گھٹن اور ایک بے چین الہڑ جوانی کے تمام مرتعش جذبات پنہاں ہیں۔شاید اسی لیے ان کی کشش بھی لازوال ہے ۔ قتیل شفائی کی شاعری کا مرکزی کردار عورت ہے۔خصوصاً طوائف جیسے انھوں نے مطربہ کا خوبصورت نام دیا ہے۔وہ مرکزی کردار عورت کی نفسیات کے اچھے نباض ہیں۔ قتیل شفائی کے گیتوں میں سادگی اور نغمگی کی جو بہار ہے وہ بھی ان کی منفرد پہچان بناتی ہے۔

حفیظ ،اختر شیرانی اور فیض کی طرح قتیل شفائی کا مزاج بھی سراسر رومانی ہے۔ترقی پسند جماعت کی وابستگی نے ان کے نغموں کو ایک صحت مند معنویت بخشی ہے یہی وجہ ہے کہ قتیل شفائی محض رومانی شاعر ہو کر نہیں رہ جاتے بل کہ ان کا رومان زندگی کی سرحد میں دور دور تک پھیلتا چلا گیا ہے۔اس کی مثال اس شجر سایہ دار کی ہو گئی جو زندگی کے سفر میں جھلستے ہوئے مسافر کو لمحاتی قرار عطا کرتا ہے۔چھتنار،ہریالی،مطربہ ۔۔۔۔۔ان کے مجموعوں کے نام ہی ان کی ذہنی کیفیت کے مظہر ہیں۔ قتیل شفائی کے گیتوں میں ایک خاص نوعیت کی جھنکار اور ایک انوکھی نغمگی کا احساس ہوتا ہے جس کے متعلق ممتاز نقاد ڈاکٹر وزیر آغا کا خیال یہ ہے کہ:

’’ اس دور کے جن بہت کم شاعروں کوبھر پور کامیابی نصیب ہوئی ہے ان میں قتیل شفائی کانام قابل رشک حیثیت کا مالک ہے۔‘‘

اگرچہ فلموں کے لیے گیت نگاری قتیل شفائی کی نمایاں وجہِ شہرت بنی لیکن خود انہیں ہمیشہ اس بات پر اصرار رہا کہ شعر و ادب ہی اُن کا خاص میدان ہیں اور فلمی گیت نگاری محض ایک ذریعہ روزگار ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ فلموں میں معیاری شاعری متعارف کروانے کا چیلنج لے کر اس میدان میں آئے۔

قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں احمد ندیم قاسمی کی قربت نے ان کی علمی اور ادبی آبیاری کی۔ 1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم’’تیری یاد‘‘کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہواجس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کئے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لئے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

جس دن سے تم بچھڑ گئے یہ حال ہے اپنی آنکھوں کا

جیسے دو بادل ساون کے آپس میں ٹکرائے ہیں

انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انہوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گاوٗں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔

فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفربھی جاری رہا، ان کے شعری مجموعوں میں ہریالی، گجر، جل ترنگ، روزن، گھنگرو، جھومر، مطربہ، چھتنار، پیراہن، برگد، آموختہ، گفتگو، آوازوں کے سائے اور سمندر میں سیڑھی کے نام شامل ہیں۔ ان کی آپ بیتی ان کی وفات کے بعد ’’گھنگرو ٹوٹ گئے‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی۔

ان کے 22 شعری کلیات ہیں۔ انہوں نے بے پناہ لکھا اور اپنی فنی عظمت کا ایسا سکہ جمایا جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انہوں مختلف اصفافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی اورسیاسی شعور بھی موجود ہے۔

دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

تیل شفائی کا نعتیہ کلام بھی اپنی مثال آپ ہے جس کی مثال ان کی اپننی تحریر کے عکس سے عیاں ہے۔

کتنا بڑا حضور کے قدموں کا فیض تھا

یثرب کی سر زمیں پہ مدینہ بسا دیا

تصانیف : ہریالی، آموختہ، گجر، ابابیل، جلترنگ، برگد، روزن، گھنگرو، جھومر، سمندر میں سیڑھی، مطربہ، پھوار، چھتنار، صنم، گفتگو، پرچم، پیراہن، انتخاب (منتخب مجموعہ)، کلیات ’’رنگ خوشبو روشنی‘‘ (تین جلدیں)

میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف

اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں

قتیل شفائی نے 82 بہاریں دیکھیں رنگو پھولوں سے بات کرنے والا بہت دور چلا گیا ۔

اور اس طرح 11 جولائی 2001 میں فلمی دنیا کا ایک عظیم اور قابل قدر شاعر اپنے لاکھوں چاہنے والوں کو داغ مفارقت دے گیا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

تحریر ۔۔آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY