سردی بہت ہے چلو آج پائے پکائیں
“اے بی بی سنو تو یہ پہاڑی بکرے کو سرف سے کیوں نہلا یا جا رہا ہے آج ؟”
” دادی آج میں پائے پکاؤنگی اسی لئے بکرا نہلا رہی ہوں”
” بی بی پائے پکانے سے بکرے کے نہلانے کا کیا تعلق؟”
” ارے دادی آپ کچھ نہیں جانتیی۰ جب کھا ئینگی نا تو مزہ ائیگا”
اتنے میں آگئ دھوبن
باجی کو سلام کرتے ہوئے بولی بکرا تو بڑا صاف لگ رہا ہے ۔ بلکہ پہاڑی نہی یہ تو
شہری لگ رہا ہے “بی بی؛ ہاں ہاں پارلر سے بکرے کی ٹانگیں ویکس کروائ ہیں
اور کھر بھی صاف کروائے ہیں۔”
وہ بکرا کچھ عجیب ہی مخلوق لگ رہا تھا عجیب الخلقت بکرا دیکھنے پاس پڑوس کی
عورتیں بھی آگیئں۔ پورا محلہ کبھی بی بی کو دیکھے اور کبھی بکرے کو۔ منہ پہ ہاتھ
رکھے سب ہی ہنسی روک رہی تھیں۔
قصائی بیچارہ گھنٹوں سے انتظار میں بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ اللہ اللہ کرکے بکرا
ذبح ہوا گوشت تو غریبوں میں بٹ گیا ۔
پھر صفائ پسند بی بی نے پتیلے میں بلیچ پانی ڈالکے پائے چولہے پہ چڑ ھا دئے تاکہ
جو رہی سہی گند ہو وہ بھی نکل جا ئے۔
بلیچ کی بو جب گھر میں پھیلی تو شوہر نے وجہ پوچھی۔
بی بی نے فخریہ کہا ، “اس طرح جو بال رہ گئے ہیں وہ بھی صاف ہو جائینگے”
اف یہ کیا کیا۔۔۔۔ !
شوہر جو زرا امور خانہ داری میں سوجھ بوجھ رکھتے تھے وہ سر پکڑ کر بولے،
” بال نہی اس سے تو پائے ہی صاف ہو جائینگے” اور اسی بحث میں پائے ایسے صاف
ہوئے کہ ساسو ماں بولیں، ” بی بی ہمیں معاف کرو ہم چٹنی سے روٹی کھا لینگے یہ
پائے تم اپنے میکے بھیج دینا وہ اپنی تربیت پر آنسو بہا لیں گے “
بی بی کو یہ سب سنکر بہت دکھ ہوا اور ہوتا بھی کیوں نہ بیچاری نے اتنی محنت جو کی تھی۔
دل ہی دل میں بولی کہ قدر ہی نہی ان لوگوں کو۔ گندی چیزیں کھانے کی عادت ہے نا
وہ بڑ بڑا تی ہوئی جاکے سوگئی شوہر نے پتیلا پھیکنے ہی میں عافیت جانی۔۔۔۔
کیا کہوں کچھ کہا نہی جائے اور بن کہے رہا بھی نہ جائے۔
تنویر روف














ماشاءاللہ بہت خوبصورت تحریر اس نفسا نفسی کے دور میں آپ کی تحریر نے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا کام کیا۔
Excellent collage of modern and traditional values.
The start and ends are very powerful. The storyline is very interesting and compels the reader to be glued till end
Bohat aalaa jinaab,,,
Mazedaar
صفائی کی دیوانی تھیں محترمہ۔ گھر والوں کو ثبوت دے دیا کہ عقل کی بھی صاف ہیں