طارق بٹ۔سب ادارے میرے ہیں

0
880

سب ادارے میرے ہیں ۔۔۔ میں ایک عام پاکستانی ہوں وہ پاکستانی جس کے آباو اجداد نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں جان و مال کی لا تعداد قربانیاں دے کر اس دنیا کے نقشے میں ایک ملک کا اضافہ کیا اور اس کا نام پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ یعنی پاکستان رکھ دیا ۔ اس پاکستان پر سب سے زیادہ حق میرا ہے کہ یہ میرے جیسے لاکھوں پاکستانیوں کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا اس ملک کا ایک ایک انچ ایک ایک ادارہ میرا ہے کہ میں اس ملک کا اللہ رب العزت کے بعد مالک و مختار ہوں ۔

اس ملک کے تمام سیاست دان اور سیاسی جماعتیں میری ہیں کہ میں ہی اپنے ووٹ کی طاقت سے انہیں اپنے ملک پر اپنے مسائل کے حل کے لئے حکمرانی کا حق دیتا ہوں میرے وطن کے انہی سیاست دانوں نے طویل غور و خوض اور مشاورت کے بعد ایک آئین مرتب کیا جس میں مختلف اداروں کے فرائض کا تعین کر دیا گیا اسی دستاویز میں یہ بھی طے کر دیا گیا ہے کہ مجھ عام پاکستانی کے ووٹ کی طاقت سے حق حکمرانی ملا کرے گا اور میرے ہی ووٹ کی طاقت سے حق حکمرانی واپس بھی لیا جا سکے گا اس کے علاوہ کسی اور ادارے یا طاقت کو قطعا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ مجھ جیسے عام پاکستانیوں پر کسی اور کو حکمران مسلط کر سکے۔ حکمران بنانا یا حکمرانی سے ہٹانے کا حق صرف اور صرف میرے پاس ہے ۔جہاں میرے بہت سارے حقوق ہیں وہیں میرے بہت سارے فرائض بھی ہیں اگر میں اپنے تمام فرائض احسن طریقے سے ادا کر رہا ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے کہ مجھے میرے حقوق سے محروم رکھا جائے یہ ایک طے شدہ اصول ہے اور اس اصول کی خلاف ورزی جو بھی کرے گا میرے غیظ و غضب کا نشانہ بنے گا۔

میرے اس ملک کی ماتحت عدالتوں سے لے کر عدالت عظمی تک تمام عدالتیں بھی میری ہیں کہ ان میں میرے ہی بہن بھائی میرے منتخب کردہ نمائندوں کے بنائے ہوئے آئین کے تحت میرے جیسے پاکستانیوں کو انصاف فراہم کر رہے ہیں ۔ آئین کے تحت معرض وجود میں آنے والی ان عدالتوں کی موجودگی میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کسی کے ساتھ نا انصافی ہو گی یا کوئی ایک کسی دوسرے کا حق غصب کر لے گا ۔ ان عدالتوں کے فیصلے خواہ ہمارے حق میں ہوں یا مخالفت میں ان پر عملدرآمد کرنا ہمارا فرض ہے ۔ان عدالتوں میں بیٹھے ہوئے میرے منصفین بہن بھائیوں نے اسی آئین کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے جو میرے منتخب کردہ نمائندوں کا بنایا ہوا ہے اس حلف سے اگر کوئی روگردانی کرے گا تو ظاہر ہے کہ وہ میرے دئیے ہوئے اختیار سے تجاوز کرے گا یوں وہ میرے یعنی عام پاکستانی کی نظر میں پسندیدہ نہیں رہے گا ۔

طویل جہد مسلسل کے بعد حاصل کردہ اس ارض مقدس کے جہاں بے شمار دوست ہیں وہیں چند دشمن بھی ہیں ان دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے پاک فوج موجود ہے جس میں میرے ہی بہن بھائی بیٹیاں اور بیٹے فرائض سر انجام دے رہے ہیں جنہوں نے دفاع وطن کے لئے ہزاروں جانوں کے نذرانے پیش کئے مگر مادر وطن پر آنچ نہ آنے دی۔ میرے وطن کے یہ بہادر، جری اور جاں فروش پہرے دار راتوں کو جاگ کر مادر وطن کی حفاظت کرتے ہیں اور میرے سمیت پوری قوم سکون کی نیند سوتی ہے میرے وطن کی فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے ۔ دہشت گردوں سے ارض وطن کو پاک کرنے میں جس مہارت کا ثبوت میری افواج نے دیا اس کی دنیا بھر میں مثال ملنا ناممکن ہے ۔ مجھ جیسا ہر عام پاکستانی اپنی افواج سے از حد محبت کرتا ہے ۔

گزشتہ کچھ عرصے سے میرے وطن میں ایک بحث چل نکلی ہے کہ میرے وطن کے ادارے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں یہ بحث بہت خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے چند شخصیات کی جانب سے چند اداروں کی انتہائی معتبر شخصیات پر چند شخصیات کی حمایت اور طرف داری کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں یہ انتہائی قابل افسوس رحجان ہے کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس طرح کے الزامات سرعام لگائے جا رہے ہیں جو نہ صرف باہر کے ممالک میں ہمارے لئے جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ میرے جیسے عام پاکستانیوں کے لئے بھی بہت شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں ۔ اس شرمندگی سے بچنے کے لئے میری شدید خواہش ہے کہ تمام ادارے سابق چئیرمین سینیٹ رضا ربانی کی تجویز پر عمل پیرا ہوتے ہوئے فوری طور پر اکٹھے بیٹھیں اور اپنی اپنی آئینی حدود کا ایک بار پھر سے جائزہ لیں اور ایک بار پھر سے اس بات کا عہد کریں کہ کوئی بھی ادارہ کسی دوسرے ادارے کے دائرہ کار میں مداخلت نہیں کرے گا کہ اسی میں تمام اداروں، تمام پاکستانیوں اور پیارے پاکستان کی بہتری ہے مجھے یقین ہے کہ جب میرے وطن کے بہترین دماغ ایک میز پر کھلے دل کے ساتھ بیٹھیں گے تو ضرور ایک ایسا متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے آئیندہ کے لئے تمام اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور ضابطہ کار کا خوشگوار ماحول بن جائے گا اس سے میرے جیسے ہر عام پاکستانی کو اطمینان قلب میسر ہو گا کہ سب ادارے میرے ہیں اور میں اپنے کسی بھی ادارے کا کسی دوسرے ادارے کے ساتھ اختلاف برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوں

SHARE

LEAVE A REPLY