نامور بلند پایہ موسیقار ماسٹر عنایت حسین

0
648

نامور بلند پایہ موسیقار ماسٹر عنایت حسین

ڈاکٹر میض آغا

ماسٹر عنایت حسین لاہور کے اندرون بھاٹی دروازہ میں 1916ءمیں پیدا ہوئے۔ خاندانی طور پر موسیقی ورثے میں ملی۔ واجبی سی تعلیم کے بعد خاندانی دستور کے مطابق موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ ہارمونیم کی تعلیم اپنے ماموں استاد بہار بخش سے حاصل کی۔ کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم خاں صاحب بڑے غلام علی خاں سے حاصل کی۔ ماسٹر عنایت حسین بہت ہی سریلے تھے اور اس پر استاد بڑے غلام علی خاں کی نظر عنایت نے انہیں واقعی ماسٹر عنایت حسین بنا دیا۔ استاد بڑے غلام علی خاں نے موسیقی کے تمام راز ماسٹر عنایت حسین پروا کر دیئے اور ان کی خصوصی توجہ نے ماسٹر عنایت حسین میں ایسی روشنی پیدا کی جس کا اظہار انہوں نے اپنی فلمی موسیقی میں اس طرح کیا کہ ان کے بنائے ہوئے گیت امر ہو گئے اور آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔

اپنے ابتدائی دنوں میں ماسٹر عنایت حسین نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اداکاری بھی کی۔ بمبئی اور کلکتہ کے مختلف تھیٹروں میں کام کیا اور نیم کلاسیکی گائیکی میں ان کا نام بڑے احترام سے لیاجانے لگا۔ نواب آف رامپور نے ان کی شہرت کے پیش نظر انہیں اپنے دربار سے منسلک کر لیا لیکن یہ عرصہ کچھ زیادہ نہیں ہے۔ بعدازاں مختلف گراموفون کمپنیوں کے ساتھ کام کیا۔ اس دور میں گرامو فون کمپنیاں ریکارڈ پر کمپوزر کا نام نہیں لکھتی تھیں لیکن اس کے باوجود موسیقی کو سمجھنے والے لوگ ان کے کام کی شناخت کر سکتے ہیں۔ ان گرامو فون کمپنیوں میں کولمبیا گرامو فون ریکارڈنگ کمپنی، نہرماسٹرزوائس اور جائنو فون ریکارڈنگ کمپنی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ماسٹر عنایت حسین نے ان گراموفون کمپنیوں میں نہایت عمدہ اور ارفع کام کا اضافہ کیا۔ آج جبکہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے، ہوائے نو بہار کی طرح اس کے سبک جھونکے مسحور کن ہیں۔ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کی گائی ہوئی ٹھمری ہو یا داد را، یا پھر ملکہ پکھراج جیسی صاحبِ اسلوب مغنیہ کی گائی ہوئی غزل، ماسٹر عنایت حسین نے ہر صنف موسیقی اور ہر فنکار کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔ اپنے عہد کی نہایت پرسوز اور سریلی گلوکارہ زینت بیگم کے گلے سے ایسے ایسے اردو اور پنجابی گیت گوائے جن کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ماسٹر عنایت حسین نے گرامو فون کمپنیوں کے ساتھ تقریباً نو برس کام کیا، اس کے بعد 1946ءمیں ان کو ایک پنجابی فلم ’کملی‘ ملی جو لاہور ہی میں تیار ہوئی۔ فلم بزنس کے اعتبار سے فلاپ ہوگئی مگر موسیقی کے اعتبار سے ماسٹر عنایت حسین کے لیے کام کے دروازے کھول گئی۔ فلم ’کملی‘ میں ماسٹر عنایت حسین نے استاد برکت علی خاں سے بھی گیت گوایاتھا۔

قیام پاکستان کے بعد ان کی پہلی فلم ’ہچکولے‘ تھی جو 1949ءمیں نمائش کے لیے پیش ہوئی۔ ماسٹر عنایت حسین نے تقریباً 36سال فلم انڈسٹری میں کام کیا۔ بعض اوقات انہوں نے کئی کئی سال تک کوئی کام ہی نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ دھیمے مزاج کے انسان تھے اور کام اپنی لگن سے کرتے تھے۔ دوسری ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ زیادہ تر نغمے راگوں میں بناتے تھے جس کے لیے وقت اور محنت درکار ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم ’انارکلی‘ میں انور کمال پاشا کی جلد بازی کی وجہ سے ماسٹر عنایت حسین نے تین نغمے کمپوز کرنے کے بعد انور کمال پاشا کو جواب دے دیا کیونکہ وہ کام جلدی چاہتے تھے اور ماسٹر اپنی طبیعت کے مطابق کام کرنا چاہتے تھے۔ فلم ’انارکلی‘ کا باقی میوزک اس وقت کے دوسرے نامور موسیقار رشید عطرے نے کمپوز کیا۔ رشید عطرے نے بھی اپنے کمپوز کئے ہوئے پانچ نغموں پر محنت کی اور اس طرح ’انارکلی‘ موسیقی کے اعتبار سے کامیاب فلم ثابت ہوئی۔

ماسٹر عنایت حسین نے اپنے 36سالہ دور میں تقریباً 60فلموں میں موسیقی دی جن میں 22کے قریب پنجابی فلمیں ہیں۔ ان کی ترتیب دی موسیقی میں فلم ’گمنام‘ میں اقبال بانو کا گایا ہوا گیت ”پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے“ نہ صرف زبان زد عام ہوا بلکہ اقبال بانو کو بھی شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ یہ فلم 1954ءمیں ریلیز ہوئی تھی۔ 1955ءمیں ایک فلم ’قاتل‘ ریلیز ہوئی جس کا گانا بھی اقبال بانوہی کی آواز میں تھا۔ بول تھے ”الفت کی نئی منزل کو چلا“۔ اس گانے نے بھی اس دور میں تہلکہ مچایا اور زبان زد عام ہوا۔ بھارت کے موسیقارِ اعظم نوشاد علی نے ایک ریڈیو انٹرویو میں اس دور میں کہا کہ ماسٹر عنایت حسین ایک سریلا موسیقار ہے جسے فن آتا ہے۔

ماسٹر عنایت حسین بزرگوں کو بہت مانتے تھے اور ان کے مزارات پر حاضری دیتے رہتے تھے۔ ملتان میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر خصوصی طور پر جاتے تھے۔ ان سے روایت ہے کہ فلم ’گمنام‘ میں

پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے

تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے

اور انور کمال کی فلم ’قاتل‘ میں

الفت کی نئی منزل کو چلا

تو بانہیں ڈال کے بانہوں میں

دل توڑنے والے دیکھ کے چل

ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

یہ دونوں گیت شاہ شمس تبریز کے مزار پر دعا مانگنے کے بعد کمپوز کئے۔ بزرگوں کی اس نظر کا نتیجہ دیکھئے کہ دونوں گیت اقبال بانو نے ہی گائے اور وہ بھی امر ہوگئی۔ فلم ’عشق پر زور نہیں‘ کا یہ گیت سن کر بھی لوگ جھوم اٹھتے ہیں۔

دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے

بڑی مہنگی پڑے گی جدائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے

اس گیت میں سائیں اختر حسین نے الاپ کیا جو اتنا اچھا لگتا ہے کہ سائیں اختر حسین کا چہرہ فوری طور پر نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ 1965ءمیں فلم ’نائلہ‘ بنی۔ یہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم تھی۔ اس فلم میں شمیم آرا ہیروئن تھیں جبکہ ان کے مقابل سنتوش کمار اور درپن تھے۔ یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ تھی۔ اس کی موسیقی اتنی لاجواب تھی کہ مالا بیگم کی پہچان بن گئی۔ اس فلم میں مالا بیگم نے اتنے خوبصورت گیت گائے کہ آج بھی کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔

دل کے ویرانے میں اک شمع ہے روشن کب سے

کوئی پروانہ ادھر آئے تو کچھ بات بنے

ماسٹر عنایت حسین کے 1949ءسے 1965تک کے دور کو آپ ایک سنہری دور کہہ سکتے ہیں جس میں انہوں نے خوبصورت نغمات تخلیق کئے۔ نغموں اور غزلوں کو سچوایشن کے مطابق کمپوزکیا اور راگوں کو دونوں اسالیب میں استعمال کیا۔ کوئی غزل یا گیت راگ مالکونس، ملہار، پہاڑی اور جے جے ونتی میں ہے، کہیں بھیرویں ہے تو کسی میں درباری کا تیز آہنگ ہے اور یہ طرہ امتیاز صرف ماسٹر عنایت حسین ہی کا ہے۔ آپ تمام گلوکاروں سے محنت کرواتے تھے اس لئے ان کو مشکل موسیقار بھی کہا جاتا ہے۔ پھر 1967ءسے1970ءتک آپ فلم انڈسٹری کے لئے کام کرتے رہے۔ اس دوران بھی خوبصورت کام کیا۔ 1973ءسے 1985تک کے زمانے میں آپ نے 22فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں زیادہ تر پنجابی فلمیں تھیں۔ اس دور میں ان کی شہرہ آفاق فلم ’مولا جٹ‘ بھی شامل ہے جس نے فلم انڈسٹری میں ریکارڈ بزنس کیا اور سب سے زیادہ سینما ہالوں میں نمائش پذیر رہی۔ تاہم اس دور میں ماسٹر عنایت حسین میں وہ دم خم نظر نہیں آتا جو 1965ءتک تھا۔ شاید اس دور تک آتے آتے ماسٹر عنایت حسین کچھ تھک سے گئے تھے یا جلدی جلدی کام مانگنے والوں کے رویے سے پریشان تھے یا ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ نظر انداز کئے جانے کے باعث کرب میں مبتلا تھے۔ مگر وہ خود بھی اقرار کرتے تھے کہ برق رفتار زمانے کے ساتھ وہ نہیں چل سکتے۔ ان کی یاد گار فلموں میں ’کملی‘، ’ہچکولے‘، ’شمی‘، ’گمنام‘، ’قاتل‘، ’انار کلی‘، ’عذرا‘، ’اک تیرا سہارا‘، ’عشق پر زور نہیں‘، ’نائلہ‘، ’دیور بھابھی‘، ’عالیہ‘، ’دل میرا دھڑکن تیری‘، ’دل بے تاب‘، ’نجمہ‘، ’جادو‘، ’مولا جٹ‘، ’اک پتر اک ویر‘، ’باغی شیر‘، ’دلا بھٹی‘ اور آخری فلم ’حق مہر‘ تھی۔

ماسٹر عنایت حسین نے غیر فلمی غزلیں اور گیت بھی کمپوز کئے جن میں عنایت حسین بھٹی، منور سلطانہ، ملکہ پکھراج، زینت بیگم، دلشاد بیگم اور ملکہ موسیقی روشن آراءبیگم نے آواز کا جادو جگایا۔ زندگی کے آخری دس سالوں میں وہ زیادہ تر امراض کا شکار رہے اور اس وجہ سے وہ مجالس وغیرہ سے کٹ گئے تھے۔ یاداشت کمزور ہوگئی، اعصابی اور دماغی طور پر بھی معذور ہوگئے اور پھر 24مارچ1993ءکوان کا سُرشناس ذہن بحرِ سکوت کے سروں میں ڈوب گیا

SHARE

LEAVE A REPLY