طارق بٹ۔۔ قینچی سوئی اور دھاگہ

0
147

دکان میں سجا کپڑے کا تھان کتنا ہی خوشنما اور دیدہ زیب کیوں نہ ہو اسے کسی بھی جسم کے خدوخال کے مطابق ڈھالنے کے لئے قینچی کا استعمال ضروری ٹھہرتا ہے اس تھان کا تخلیق کار اپنی تخلیق پر چلنے والی قینچی کو یقینا اس لئے برداشت کرتا ہو گا کہ وہ جانتا ہے اس تمام تر تراش خراش کے بعد سوئی اور دھاگے کے استعمال سے ایک نئی تخلیق وجود پائے گی اور یہ نئی تخلیق اس کی اپنی محنت اور تخلیق کو پہلے سے زیادہ حسین اور دلکش بنا دے گی۔ اگر قینچی کا استعمال مہارت سے نہ کیا جائے تو ایک تخلیق کار کی تخلیق کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے مگر کوئی نئی اور قابل دید تخلیق وجود میں نہیں آ سکے گی۔ آج قینچی اور سوئی دھاگہ اس لئے یاد آ رہے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ہاتھوں میں صرف قینچیاں تھام رکھی ہیں اور دھڑا دھڑ کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں اگر قینچی کا استعمال اسی تیزی سے جاری رہا تو تقسیم در تقسیم کا سلسلہ چلتا رہے گا جس کا نقصان ہم سے ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہو جائے گا موجودہ حالات میں ضرورت سوئی اور دھاگے کی ہے کہ ایک چھوٹی سی سوئی اور دھاگہ ایسا کام دکھا سکتا ہے کہ دور دور بے ترتیبی سے بکھرے کپڑے کے ٹکڑے ایک دیدہ زیب روپ دھار لیں گے۔

ہمارے ہاں تو کچھ لوگوں بالخصوص سیاسی میدان کے کھلاڑیوں کی زبان بھی قینچی کی طرح چلتی ہے یہ زبان کی قینچی کو استعمال کرنے والے کپڑے کی جگہ دلوں کے ٹکڑے کرتے رہتے ہیں جن کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر بھی لی جائے تو تریڑ باقی رہتی ہے ۔ زبان کو قینچی کی طرح استعمال کرنے میں ماہر سیاست دان آج کل پاکستان تحریک انصاف میں کثرت سے پائے جاتے ہیں گذشتہ پانچ سات سالوں میں عمران خان اور ان کے انصافی ساتھیوں نے ہر ادارے اور اپنے ہر مخالف سیاست دان کو زبان کی قینچی سے کچھ یوں ٹکڑے ٹکڑے کیا کہ اس سے قبل کی سیاسی تاریخ میں مثال ڈھونڈنا ممکن نہیں ۔ اب چونکہ پاکستان تحریک انصاف اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو رہی ہے تو اسے اندازہ ہوا کہ قینچی کا بے دریغ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے کبھی کبھی سوئی دھاگہ بھی استعمال کر لینا چاہئے چنانچہ قینچی کی طرح چلتی زبانوں کو تالو کے نیچے دباتے ہوئے نرم گوئی اور مفاہمت کی انتہائی دشوار مشق عمل میں لائی جا رہی ہے اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے وفود کبھی مسلم لیگ نواز اور کبھی پاکستان پیپلز پارٹی کے در دولت پر حاضری دے رہے ہیں کہ اب مختلف ایوانوں کو بطریق احسن چلانے کے لئے حزب اختلاف کی جماعتوں کی مدد درکار ہے درست کہ سیاست میں مذاکرات کے دروازے کبھی بھی بند نہیں کئے جاتے مگر سوچ کے دروازے بھی تو کھلے رکھنے چاہئیں کہ مثبت سوچ کو پرے دھکیلتے ہوئے منفی سوچ کا بے دریغ استعمال بہت نقصان کا باعث بنتا ہے ۔ معاملات کے بگاڑ کو کبھی بھی اس نہج پر پہنچانے سے اجتناب لازم ہے کہ کل کلاں آپس میں مل بیٹھنا پڑے تو شرم سے نظریں جھکی ہوئی ہوں ۔

میدان سے باہر بیٹھ کر مکا مار ، جھانسہ دے ، مکا مار، پلٹی کھا کے مشورے دینا بہت آسان ہوتا ہے مگر اصل حقائق اور مخالفت کی جانب سے پکڑی جانے والی کلائی کے پیچھے پوشیدہ طاقت سے وہی آگاہ ہوتا یے جس کی کلائی میدان میں مخالفت کی گرفت میں آئی ہوتی ہے ۔ کل تک مکا مار اور پلٹی کھا کی آوازیں نکالنے والے اب خود میدان عمل میں ہیں جب کہ کل کے حکمران آج میدان سیاست کے مخالف رخ پہ کھڑے ہیں ۔ امید ہے کہ اقتدار کے ایوانوں سے باہر آنے والے ان مشکلات کو بھولے نہیں ہوں گے جو اقتدار کے ایوانوں کے اندر رہتے ہوئے انہیں پیش آئیں اور وہ اپنے عمل اور تعاون سے اپنے آپ کو قینچی کے بے دریغ استعمال کی جگہ سوئی دھاگے کے پیرو کار بن کر دکھائیں گے کہ وطن عزیز اب قینچی کی کاٹ کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا ۔

وطن عزیز کو درپیش مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لئے دونوں طرف کے رہنماؤں کو اپنی اپنی زبانوں کی قینچیاں تالووں کے نیچے دبانی ہوں گی اور دلوں سے تمام تر کدورتوں کو نکالتے ہوئے پاک وطن کو تمام تر آلائیشوں سے پاک کرنے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا ۔ ہے تو یہ مشکل کام مگر قیادت کا کام بھی تو یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے ۔ انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات اپنی جگہ مگر ملک افراتفری کا شکار نہیں ہونا چاہئے کہ پر امن احتجاج سب کا حق ہے اور ہر حکومت وقت کو پر امن احتجاج میں سہولت فراہم کرنی چاہیے کہ طاقت کے زور پر احتجاج کی تحریکوں کو کچلنے کا دور لد چکا مزید اپوزیشن جماعتوں کے لئے قانون اور عدالتوں کے دروازے بھی کھلے ہیں وہ انتخابات کے حوالے سے اپنے اعتراضات کی جنگ کے لئے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کر کے اپنے لئے انصاف حاصل کر سکتی ہیں ۔

وطن عزیز اپنی عمر کا ایک اور سال طے کر چکا نئے سال میں نئی حکومت سے توقعات کچھ زیادہ ہیں اور یہ غلط بھی نہیں اس لئے کہ انہوں نے دعوے اور وعدے بھی لاتعداد کر رکھے ہیں ہماری گذارش نئی حکومت سےصرف اتنی ہے کہ براہ مہربانی ماضی کے چلن کو چھوڑ کر قینچیاں پرے دور پھینکتے ہوئے سوئی دھاگہ سنبھال لیں اور پوری قوم کو جوڑنے کی کوشش کریں قوم جڑ گئی تو تمام بگڑے ہوئے معاملات سب مل کر ٹھیک کر لیں گے ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY