رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ جہاں حقوق اللہ کی ادائیگی کے لیے یہ مہینہ مقدس ہے وہیں حقوق العباد کے لیے بھی اتناہی مقدس ہے. کیونکہ دونوں کامقصدحصولِ “تقویًٰ” ہے جو اسلام کی روح ہے۔ جس میں جتنا تقویٰ ہو گا اتنا ہی وہ اللہ سے ڈرنے والا ہوگا۔ اور جو جتنا بڑا ڈرنے والا ہوگا اتنا ہی بڑا متقی بھی ہوگا کیونکہ یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں ۔ کیونکہ خوف خدا بغیر تقوے نہیں ہوسکتا نہ تقویٰ بغیر خوفِ خدا کے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ” ایمان کے بغیر علم بے کار ہے اور عمل کےبغیر ایمان بے کار ہے؟ یہ مہینہ روح کی بالیدگی کا مہینہ ہے۔ جتنی روح طاقتور ہوگی اتنا ہی انسان دنیاکی محبت سے دور ہوتا جائے گا۔ وہ دولت اگر جمع کریگا بھی تو حلال طریقہ سے جو اسلام میں منع نہیں ہے ۔ اس میں سے زیادہ سے زیادہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے کریگا۔ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ ٹھانے کے لیے نہیں؟ جیسے کہ رمضان سے پہلے زخیرہ اندوزی اور رمضان میں گراں فروشی وغیرہ وغیرہ۔یہ کلیہ ہے کہ اگر روح طاقتور ہو تو وہ بندے کے اعمال پرغالب رہتی ہے۔ جبکہ گیارہ مہینے دنیا داروں پر دنیا ہی غالب رہتی ہے سوائے اللہ والوں کے۔ اس ایک ماہ میں جو روح کی بالیدگی قلب میں ذخیرہ ہوتی ہے وہ سال کے گیارہ مہینہ چلتی ہے۔ جو اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ حضور(ص)کافرمان ہے کہ اس مہینے میں عبادات اگر خلوص سے کی گئی ہیں۔ تو اگلے سال تک کی کفیل ہوتی ہیں۔ اگر خلوص نہیں ہے۔ دکھاوے کی لیے ہیں جیسے کہ رمضان میں سیاسی افطاری؟ اگر وہ خالص اللہ کے لیے کر رہے ہیں تو ٹھیک تھا مگر سب جانتے ہیں کہ ہر ایک امیدوار اپنا ووٹنگ بینک بڑھانے کے لیے کررہا ہے یا اپنے لیڈروں کو خوش کرنے کے لیے ۔ اس کے ثواب کاتعین کرنے کے لیے انسان ا پنے قلب میں جھانک کر اور خلوص ناپ خود ہی فیصلہ کرسکتا ہے؟ کہ یہ بند ے اور رب کا معاملہ ہے کہ وہ خود ہی جانتا ہے یا پروردگار جانتا ہے۔ یہ تیسرے کو پتہ نہیں ہوتا۔ عجیب بات ہے کہ انسان کو بتا دیا جائے کہ اس چیز میں زہر ہے تو اسے چھوتے ہوئے بھی ڈریگا ؟
مگر یہاں اللہ کی اس ہدایت کو بھول جاتا ہے۔ کہ وہ پاک ہے اور پاک چیزوں کو پسند کرتا ہے۔ کسی نیک کام کابھی مقصد کسی اور کو سوائے اللہ کے خوش کرنا ہے تو چونکہ وہ شرک برداشت نہیں کرتا نہ معاف کرتا ہے۔ وہ نیکی اس کے منہ پر ماردی جائے گی۔ اور یہ ہی حکم مال کے بارے میں بھی ہے کہ اگر وہ سوفیصد حلال نہیں ہے تو وہ بھی اس کے منھ پر ماردیا جائے گا۔ مگر انسان اتنا ناسمجھ ہے کہ ان چیزوں سے قطعاً پرہیز نہیں کرتا ۔ حرام کماتا ہے اس میں سے مسجد بنا کر مطمعن ہوجاتا ہے۔ فقیروں کو کھلاکر مطمعن ہو جاتا ہے کہ میں راہ خدا میں نے خرچ کردیاضرور اللہ راضی ہوگیا ہوگا؟اس مہینے کی انفرادیت یہ ہے کہ سب سے اہم عبادت روزہ ہے؟ جس میں دن کے وقت جب انسان کھانے پینے کے موڈ میں ہوتا ہے۔ وہ اس کی خاطر حلال چیزوں کو بھی چھوڑ دے؟اور اس کا ثواب وہ خود دے گا۔ جب کہ دوسری نیکیوں پر لوگ شاہد ہوتے ہیں جیسے کہ نماز سب پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر روزے پر شاہد نہ ہوتا ہے نہ ہوسکتا ہے ؟ لہذاثواب بھی اس نے اپنے پاس ہی رکھا۔ بلکہ ایک جگہ تو فرمادیا کہ اس کی جزا میں خود ہوں؟ اور جس کا للہ ہوجائے تو اس کو اور کیا چاہیئے؟ لوگوں کا تصور یہ ہے کہ للہ والا اپنی وضع قطع سے پہچانا جاتاہے؟ لیکن اس کے برعکس حضور (ص)اس کی پہچان یہ بتائی کہ“ ا سے دیکھ کر خدا یاد آجاتاہو “ یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ آپ پورے رمضان اوپر بتائی گئی تمام چیزوں سے پرہیز کریں، پھر آخری عشرے میں انشااللہ آپ اپنی نجات کرچکے ہونگے۔اور عیدوالے دن چہرہ بتا رہاہوگا۔ کہ یہ اللہ کو والا ہوچکا ہے۔ چاہے وضع قطع آپ کی بظاہر اللہ والوں جیسی ہو یا نہ ہو؟ اس دعا کے ساتھ میں قسط کوختم کرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپکا ہادی اور مددگار ہو (آمین)













