اسلام میں میاں بیوی کے حقوق (57) ۔شمس جیلانی

0
933

ہم نے گزشتہ مضمون میں بات یہاں پر ختم کی تھی کہ دراصل تمام خرابیوں کی وجہ یہ ہے کہ ہم ان حقوق سے واقف ہی نہیں جوکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے ہم پر اور ہمارے درمیان ایک دوسرے کے مقرر کر رکھے ہیں۔ اسی وجہ سے ایک دوسرے کے حقوق کی خلاورزی کر کے یہاں گھروں کو جہنم اوروہاں خود کو جہنم کا ایندھن بنا رہے ہیں۔اگر سارے فریق اپنے حقوق اور حدود د سے واقف ہوتے، تو یہ مشکلات پیدا نہ ہوتیں جو کہ مسلم امت بھگت رہی ہے۔ جبکہ سب سےزیادہ حق تلفی خواتین کے حقوق کی ہوتی ہے۔ چاہیں وہ ماں ہو ، بہن ہو بیٹی ہو یا بیوی ؟ جبکہ حضور(ص) نے آخری خطبہ میں فرمایا کہ “ دیکھو تم کمزوروں کا خیال رکھنا خصوصاً خواتین اور غلاموں کا؟ مگر ہم اس کا ہی خیال نہیں رکھتے حتیٰ کہ اللہ اور رسول (ص)کے حقوق سے بھی ہم واقف نہیں ہیں جبکہ کہتے ہم سب خود کومسلمان ہیں؟ اس کی وجہ سے ہم اپنی پیدائش کا مقصد ہی بھلا بیٹھے ہیں؟ جو قر آن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے “ بندوں کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ انہیں آزمائیں کہ کون ہمارے اور ہمارے نبی (ص)کے احکامات مان کر جنت کا مستحق بنتا ہے اور کون جہنم کا۔ ورنہ تو ہمارے لیے بہت آسان تھا کہ ہم سب کو ایک ہی ملت بنا دیتے “ مگر ہم نے سبق ہی بھلا دیا اور دنیا کمانے میں اتنے مصروف ہوگئے ہیں کہ عقبیٰ کو ہی بھول گئے۔ جبکہ قرآن میں دین اسلام کو امتِ وسطہ کے نام سے متعارف کرایاگیا ہے۔ جس کا طرہ امتیاز ہی میانہ روی ہے۔ نہ ادھر جھکاؤ نہ ادھر جھکاؤ ہر عمل میں توازن ہو۔ مگر ہم کرتے یہ ہیں اگر دنیا کی طرف جھکے تو اتنے جھکے کہ اسی کے ہورہے حرام اور حلال سب بھو ل گئے؟ جو دنیا سے دور ہوئے تو ایسے کہ خانقاہ بنا کر گوشہ نشین ہو گئے۔ حضور (ص)دور میں جن صحابہ کرامؓ نے لوگوں کے سامنے ایسے خیالات کا اظہار کیا تو حضور(ص) نے فرمایا کہ مجھے دیکھو میں سارے کام اور فرائض بہ یک وقت ادا کر تا ہوں۔ بس یہی میرا طریقہ ہے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نےقرآن میں یہ فرما کر اس پر مہر لگادی کہ تمہارے لیے تمہارے نبی(ص) کے عمل کی شکل میں بہترین نمونہ ہے۔ اس بات پر بہت سے لوگ اولیاء اللہ کا حوالہ دینگے کہ انہوںؒ نے جو اتنے بڑے مراتب حاصل کیئے دنیا کو چھوڑ کر کیا وہ غلطی پر تھے ؟ میرا جواب ہے کے نہیں؟ کیونکہ جو ایسا کرتے تھے وہ بھی درست تھے کہ حضور(ص) نے اپنے دورمیں یہ بھی حکم دیا تھا کہ “ کچھ لوگ ساری دنیا میں پھیل جا ئیں اور میرا پیغام پہنچا ئیں “ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ ان کے لیے بھی صاحب استطاعت مسلمانوں کو حکم جاری فر مادیا تھا۔ کہ وہ لوگ جنہیں میں نے مال عطا فرمایا ہے وہ ان کا خیال رکھیں جو اللہ کی راہ بیٹھ رہے ہیں اور وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے ! یہاں یہ اشارہ کچھ کے لیے ہے سب کے لیئے نہیں کہ“ اس کام کے لیے تم میں سے ایک گروہ ہونا چاہیئے کہ جو یہ کام انجام دے ورنہ سب ہی یہ ہی کام انجام دینے تو باقی کام کون انجام دیتا؟ مثلاً ملک کی سرحدوں کی حفاظت کون کرتا۔ پھر بیت المال میں مال کہاں سے آتا وغیرہ وغیرہ ۔کیونکہ ہم سب اک طرف جھک جا ئیں تو پوری دنیاکا نظام درہم برہم ہوجا ئیگا؟ ا سی وجہ سے حضور (ص) کے دور میں آپ کو اس کام لیے صرف چند بزرگ نظر آئیں گے،جن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ یہ ہی تناسب ان کا آج بھی ہونا چاہیئے اس سے زیادہ نہیں؟ کہ ساری قوم سب کام چھوڑ کر تبلیغ میں لگ جا ئے اور مہینوں گھرسے غائب رہے؟ کہ کوئی بھی اپنے فرائض تک نہ ادا کر رہا ہو، قرض بڑھتا رہے قرض خواہ دروازے کے چکر کاٹتے رہیں کہ کب اس کار خیر سے حاجی صاحب فارغ ہوکر گھر تشریف لا ئیں اور ان کا قرض چکائیں۔ جبکہ حاصل کسی کو کچھ بھی نہ ہو؟ حضور (ص) کے زمانے جو ایسے لوگ تھے ان کو دیکھ کر اللہ یاد آجاتا تھا، جن کی نگاہوں سے دل پلٹ جاتے تھے؟ لوگ برائیاں چھوڑ کر راہ راست پر آجاتے تھے۔ پھر حدیث قدسی کے مطابق وہ اس منزل پر پہنچ جا تے تھے۔ کہ “ ان کے ہاتھ اللہ کے ہاتھ بن جا تے تھے۔وہ جس پر نگاہ ڈالدیں اس کی دنیا بدل جاتی تھی۔ ان سے فیض کے چشمے ہر وقت جاری رہتے تھے۔ انہوںؒ نے اپنے جیسوں کی پہچان کے لیے جو پیمانہ رکھا تھا وہ یہ تھا کہ اگر کوئی شخص آسمان پر اڑ رہا ہو اور پانی پر چل رہا ہو ، اگر اس کا ایک فعل بھی خلاف اسوہ حسنہ (ص) ہو تا تو وہ شیطان ہے ولی نہیں؟ جبکہ وہ کیسا ہو جو تبلیغ پر نکلے ؟ اس کی تعریف کوحضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام کی اس نصیحت کو چلنے سے پہلے اپنے پلو باندھ لینا چاہیے! کہ “ایک صاحب جو ان کے معتقد تھے ان ؒ سے ملنے آئے کہ میں سفر پر جارہا ہوں آپ اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھئے گا ؟ انہوں نے پوچھا کہ غایت سفر کیا ہے؟ کیونکہ اس زمانے میں لوگ بلا ضرورت سفر نہیں کرتے تھے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں تبلیغ کے لیے جارہا ہوں۔ فر مایا ایک بات یاد رکھنا کہ کوئی بات زبان سے نہ کہنا پڑے ( یعنی ہر بات عمل سے ظاہر ہو) ایسے لوگ جب تبلیغ پر جائیں گے تو وہ فرائض پورے کر رہے ہونگے جو مبلغین کی پہچان ہے؟ بعد میں تو تو یہاں تک سختی تھی جو حضرت عمرؓ کے دور سے شروع ہوئی کہ چار مہینے سے زیادہ کسی مجاہد کو بھی گھر سے باہر رہنے کی اجازت نہیں تھی کہ اس سے بیوی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اسوہ حسنہ (ص) پر چلنے کی توفیق عطا فر مائے(آمین) تا کہ ہم اللہ اور بندوں کے حقوق اسی طرح ادا کریں کہ ہمیں اور ہمارے کردار کو دیکھ کر ووہ خود بخود اور جوق درجوق اسلام میں داخل ہونے لگیں اور ہم بزور دین میں داخل کرنے کی بدعت سے بھی بچ جائیں ، جو آجکل ہمارے یہاں رائج ہے۔ جو البقرہ کی آیت نمبر256 “ لااکراہ فی الدین“ کی کھلی خلاف وزری ہے۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY