بھائی صفدر ھمدانی کا احسان کیسے اداکروں؟

ہر مومن کا جواب یقینی طور پر یہ ہی ہوگا کہ اس طرح جیسے کہ حضور(ص)نے فرمایا کہ‘‘اس ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو‘‘پھر آپ پوچھیں گے کہ لوگ جو اعلان کرواکر خوش ہوتے ہیں ان کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ یہ آپ انہیں سے پوچھئے مجھ سے نہیں؟ کیونکہ یہاں معاملہ ہی بالکل اس کے بر عکس ہے۔ اس لیے کہ صفدر بھائی اتنے خودار ہیں کہ وہ کسی کو کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں دیتے؟ میں اپنا ہی معاملہ آپ کے سامنے پیش کر تا ہوں؟میری کم از دس کتابوں پر انہوں نے جو مقدمات لکھے ہیں ان کا جواب نہیں ہے،لیکن وہ میرے قد سے بہت زیادہ بلند ہیں۔ جبکہ میری اوران کی دوستی کی عمر بھی کم و بیش دس ہی سال ہے۔ ا ن میں سے تین کتابیں انہیں کی فرمائش پر میں نے لکھیں ہیں۔ جن میں سے دو کی وجہ تو انہوں نے یہ بتائی کہ ان پر بہت کم لکھا گیا ہے آپ غیر جانبدار مورخ ہیں محنت اورایمانداری سے لکھیں گے؟ ان میں سے پہلی ہے‘‘ حضرت سیدہ سلام اللہ علیھا کی سیرت مبارکہ‘‘ دوسری حضرت امام حسن علیہ اسلام کی سیرتِ مبارک ۔ یہ دونوں عالمی اخبار میں قسط وار شائع ہوکر بعد میں کتابی شکل میں بھی آ چکی ہیں اور تیسری زیر اشاعت جو کتاب ہے وہ ہے ‘‘میرے حالاتِ حاضرہ پرایک سو ایک کالموں کا مجموعہ‘‘ یہاں انہوں نے دوسری وجہ بتا ئی ہے وہ وجہ مومنوں سے اور اسلام سے ان کی خیر خواہی پر دلالت کرتی ہے۔ کہ فرمایا‘‘ آپ نے یہ اسلوب نیا نکالا ہے اس اسلوب میں تم پہلے کالم نگار ہوجس نے حالات حاضرہ کے کالم کو طنزو مزاح سے آراستہ کرکے اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کا ذریعہ بنا یا؟“ اس کی اشاعت اس لیئے ضروری ہے کہ آئندہ اگر کوئی اسے اختیار کرنا چاہے تو لائبریروں میں یہ کتابی شکل میں اسے مل سکے؟ اس کتاب کے مقدمہ میں انہوں نے مجھ ناچیز میں وہ خوبیاں بیان تلاش ہیں جو مجھے خودا پنے اندر نظر نہیں آتیں؟

جبکہ انکا اپنا عالم یہ ہے کہ وہ اپنی تعریف نہ سننا چاہتے ہیں نہ پڑھنا چاہتے ہیں۔ اور نہ ہی اپنی ادبی خدمات کے سلسلہ میں سرکاری یا غیر سرکاری پذیرائی اور خطابات لینا پسند کرتے ہیں؟ کیونکہ وہ ان مصطفٰی علی ھمدانی (رح) کے نامور فرزند ہیں جنہیں یہ فخر حاصل ہے کہ انہوں نے 13 اور14اگست 1947ء کی درمیانی رات کے بارہ بجے ریڈیو لاہور سے اولیں اعلان آزادی فرما یا تھا کہ‘‘ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس، 13اور14اگست 1947ء کی درمیانی رات , ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ طلوع صبح آزادی“ پھرانیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے بعد ملنے والا اعزاز یہ کہہ کر انہوں نے واپس فرمادیا کہ‘‘ میں نے اس کام کی تنخواہ وصول کی ہے لہذا میں اس کا حقدار نہیں ہوں‘‘ جبکہ لوگوں نہ جانے اس وقت ریڈیو پاکستان میں رہتے ہوئے کیا کیا فائدے اٹھائے۔

یہ بھی ا تنے ہی وضعدار ہیں کہ کسی چیز کے بھی روا دار نہیں؟ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اس کے لیے تین کام کرنا ظلم عظیم کے مترادف ہیں‘‘چاپلوسی ، جھوٹ اور اپنے ضمیر کا گلا گھونٹنا‘‘ وہ ان تینوں کاموں میں سے کوئی ایک بھی کرنا پسند نہیں کرتے۔دوسرے یہ بھی کہ ان کے خون میں خوئے‘‘ اسد اللہ ہی‘‘انہیں وراثت میں ملی ہے تیسرے انکے والد صاحب کی دی ہوئی تربیت کا یہ نتیجہ ہے کہ‘‘ وہ غریبی پسند کرتے ہیں جوکہ ذومعنی لفظ ہے اور انکی کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس لفظ کے دونوں معنی بخوبی نبھا رہے ہیں اوراپنے اجداد(س) کی طرح غریبی میں نام پیدا کررہے ہیں؟ ورنہ وہ چاہتے تو اپنے لیے بہت کچھ کرسکتے تھے۔ مگر ان کی خودداری انکے آڑے آتی ہے؟ اوراس کے بجا ئے وہ اپنے‘‘عالمی اخبار‘‘، قلم اور زبان سے ملتِ اسلامیہ کو متحد کرنیکے لیے جو خدمات انجام دے رہے ہیں اس سے انہوں نے اپنی عاقبت بنا کراللہ کی مہربانی سے اپنی جنت وہاں پکی کرلی ہے۔

اب آپ پوچھیں گے کہ آپ انہیں انکے حال پہ رہنے دیں، آپ کو کیا پریشانی ہے؟ مجھے پریشانی یہ ہے کہ میری عمر چھیاسی سال ہو چکی ہے اورمیں ستاسی میں چل رہا ہوں۔ اب میرا احتیاط کا عالم یہ ہے کہ ہر کام یہ سمجھ کر کرتا ہوں کہ یہ میرا آخری کام ہے کون جانے کب بلاواآجا ئے؟ اس لیے کام پورا کرکے اٹھتا ہوں کل کے لیئے کچھ نہیں چھورتا؟ جبکہ مجھے میرے رب اور ہادیِ بر حق(ص) کا حکم ہے کہ‘‘ احسان کا بدلہ احسان ہے‘‘ اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ یہ انکا قرض جو مجھ پر وجب الادا ہے کہیں بغیر ادا کیے ہوئے نہ چلا جاؤں؟ اور روزِ حشر عدم ادا ئیگی میں پکڑا جاؤں؟ اس لیے میں نے ان پر اپنے سب حربے آزما کر دیکھ لیے، مگر مجھے اس میں ذرابھی کامیابی نہیں ہوئی؟

آپ حیرت کریں گے کہ انہوں نے اتنے اشعار کہیں ہیں کہ خود انہیں گنتی نہیں معلوم! مگر ان کے دیوانے تو بہت ہیں لیکن ابھی تک وہ صاحبِ دیوان نہیں بنے؟ میں نے کہا کہ آپ اپنی تخلیقات کو جمع کر کے مجھے عطا فرمادیں تو میں ا نہیں شائع کروا دوں ،خاص طور پرحضرت سیدہ سلام اللہ علیہا کی تسبیح کی شکل میں جو آپ کے ڈھائی سو نادراشعار ہیں کم ازکم ان کو ہی شائع کرادوں؟ اس میں مجھے اپنی عاقبت سدھر نے کا لالچ تو تھا ہی، ساتھ میں میری یہ خواہش بھی تھی کہ اس ترکیب سے میں ان کے اس مجموعہ اشعار پر کچھ لکھ کر اپنا بوجھ ہلکا کرلونگا؟ وہ بھی مجھے عطانہ ہوئے۔ پھرمیں نے یہ بھی کوشش کر دیکھی کہ وہ اپنے بارے میں ہی کچھ بتادیں، تو میں وہی لکھ ڈالوں، مگر اس میں بھی نا کامی ہوئی کہ لوگ تو بڑی بڑی ڈینگیں مارتے ہیں اپنے بارے میں، وہ کچھ کہنے کو ہی تیار نہیں۔ اگر کوئی پوچھے تو یہ کہتے ہیں نہ مجھ میں کون سی کوئی خوبی ہے نہ ہی میں ایک اچھا انسان ہوں، نہ اچھا شوہر ہوں، نہ اچھا باپ ہوں۔یہ انہوں نے جرمنی ٹی وی کے ایک رپوٹر کو جب وہ انکا انٹر ویو لینے پربا ضد ہوا تو بتایا تھا۔ جبکہ میرے خیال میں ایسا نہیں ا س کے برعکس جہاں تک میرے علم میں ہے وہ اس کا الٹ ہیں؟ اب آپ پھر سوال کریں گے کہ آپ اوپر جو کچھ فرما کر آئے ہیں خود ہی اس کی اب تردید کر رہے ہیں یہ کیا؟ اس کو سمجھا نے کے لیے میں آپ کے سامنے چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو؟ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ وہ مومن ہیں اور مومن کی اولین صفت انکساری ہوتی ہے اس لیئے وہ انکساری سے کام لیتے ہیں۔دوسرے ہر اللہ والے کا معیار مختلف ہوتا ہے لہذا اس کو اپنی اچھائیاں کم نظر آتی ہیں اور دوسرے کی زیادہ۔ تیسرے وہ یہ پسند نہیں کرتے ہیں کہ انکا راز کھل جا ئے اور لوگ انکے در پر میلہ لگا نے لگیں؟ اسی لئے وہ ایسی باتیں یا ایسے کام کرتے ہیں کہ لوگ ان سے متنفر ہو جائیں۔

ابتو تو وہ فرقہ کہیں دیکھائی نہیں دیتا مگر پہلے زمانے میں صاحبِ طریقت لوگوں کا یہ ایک مشہور فر قہ تھا جو کہ فر قہ“ ملامتیہ“ کہلاتا تھا۔ وہ سرِعام رقص کیا کرتے تھے تاکہ لوگ ان کے اس فعل سے متنفر ہوکر ان کی جان چھوڑ دیں۔ پھر بھی جب پردہ فاش ہو جاتا تھا تو وہ وہاں سے ترک مکانی کرجاتے تھے۔ اس طرح وہ پوری دنیا میں گھومتے پھرتے تھے اور کبھی ایک جگہ مقیم نہیں رہتے تھے؟
میں اپنی اور مومنوں کی رہنمائی کے لیئے۔ ہر بات حضور (ص)کے اسوہ حسنہ سے شروع کیا کرتا ہوں؟ لہذا یہ واقعہ پیش خدمت ہے کہ ایک بدو حضور (ص) کی خدمت میں حاضر ہو ااور اس نے پوچھا کہ میں اونٹ ایسے ہی اللہ توکل پر کھلا باہر چھوڑ آیا ہوں اسے ایسا ہی رہنے دوں یا باندھ کے آؤں اور پھر توکل کروں؟ حضور (ص) نے فرمایا پہلے اسے باندھ کر آؤ پھر توکل کرو؟ جبکہ حضور(ص) کا توکل کا عالم کچھ اور تھا جس کی مثالیں کچھ اور ہیں؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ سبق انہیں نبی (ص) کی حیثیت عام امتیوں کو دینا تھا اس لیے وہ فرمایا جو سب کے لیئے ہو اور سب پر لاگوہو۔ دوسرے میں نے حضور (ص) کے اسوہ حسنہ کی بات یوں بھی شروع کہ قرآن کی سورہ الا حزاب کی آیت نمبر 21 کےمطابق ان(ص) کا اسوہ حسنہ(ص) ہمارے لیے حتمی طور پر بہترین نمونہ ہے؟ جبکہ میں بات اور واضح کرنے کے لیے ایک دوسرے بزرگ کی مثال دیتا ہوں،ان کا نام ہے حضرت بایزید بسطامیؒ اور انکافرمان ہے کہ“ پہلے اژدھے کے منہ میں ہاتھ دیدو پھر توکل کرو “ مگر یہ عام امتی کے لیئے نہیں ہے یہ ان کے اپنے مقام کی بات ہے جیسے کہ ایک لکھپتی جب بات کریگا تو لاکھوں ہوگی ،لیکن ایک مزدور کے لیے ٹکہ بھی بہت ہے۔ یہ ایک ایسا رز نہ ہر ایک نہ اسے سمجھ سکتا نہ اس پر عمل کر سکتا ہے؟ اس فرق کو سمجھانے کے لیے اب میں ایک عام آدمی کی بات کرتا ہوں، کیونکہ یہ ہر ایک خود ہی جانتا ہے کہ وہ کس میدان میں وہ کہاں تک جا سکتا ہے۔ ایک بڑی مشہور کہانی ہے شاید آپ نے بھی سنی ہو کہ ایک شخص مولوی صاحب کے پاس گیا کہ میں دریا کے اس پار رہتا ہوں جبکہ مزدوری اس طرف کرتا ہوں، کوئی ایسا عمل بتا ئیں کہ میں بغیر کشتی کے دریا پارکر کے چلا جایا کروں، کیونکہ میری کمائی کا بڑا حصہ کشتی والا لے جاتا ہے؟ مولوی نے کہا کہ بسم اللہ پڑھ کر دریا میں اترجایا کرو! و ہ اس پر عمل کر کے روز آنے جانے لگا؟ایک دن اسے خیال آیا کہ بطورِ تشکر مولوی صاحب کی دعوت کرے اور مزید برکات حاصل کرے؟ اس نے دعوت کردی اور انہیں لینے خودآیا دونوں ساتھ چلے جب دریا پر پہونچے تو مولوی صاحب نے دیکھا کہ کشتی تو کہیں نظر آ نہیں آرہی اس پار کیسے جا ئیں گے؟ تب انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں تو آپ کے بتائے ہو ئے وظیفہ پر عمل کر کے روز آتا جاتا ہوں؟ بس آپ بھی بسم اللہ پڑھیں اور میرے ساتھ ہولیں یا ڈر ر ہے ہیں تو میرا ہاتھ پکڑ لیں ورنہ آپ کو میں اپنے کندھے پر سوار کرلیتا ہوں؟ مولانا حقیقت پسند تھے! وہ بولے نابابا نہ میں ڈوب جا ؤنگا! تیرا ایمان پکا ہے میراایمان تجھ جیسانہیں ہے؟

شمس جیلانی
وینکوور
کینڈا

SHARE

LEAVE A REPLY