بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم
آپ سب نے یہ مشہور کہاوت ضرور سنی ہوگی ۔
“قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔” اور یہ غلط بھی نہیں ہے۔ جب ایک باشعور، پڑھا لکھا، تجربہ کار مصنف اپنی تحریر میں مسائل اور سماجی مسائل کے حل کو تحریر کرنا شروع کرتا ہے تو پڑھنے والوں کی توجہ ضرور حاصل کرتا ہے۔
لوگ جو لکھتے ہیں خود بھی اس کی پیروی کرتے ہیں یعنی اس پر عمل در آمد بھی کرتے ہیں ایسا میرا ماننا ہے ۔
۔اور بعض اوقات پڑھنے والے آنکھ بند کر کے اس لکھنے والے پر اعتماد بھی کرتے ہیں کہ جو ان کا پسندیدہ مصنف اپنی تحریر میں ابلاغ کرتا ہے۔ بعض اوقات مصنف کی رائے فیصلہ بھی بن جاتی ہے۔
یہاں یہ ہر گز ضروری نہیں کہ ہر ادیب ہی معاشرے کے ان مسائل یا خامیوں کو دور کر رہا ہو۔
مگر کچھ ایسے مصنفین بھی ہیں جو ‘متنازع’ چیزوں کے بارے میں لکھتے ہیں اور اپنے غیرجانبدار رائے کے باعث عوام کی تائید حاصل کرلیتے ہیں ۔
ایک مصنف، ادیب یا قلم کار اپنے الفاظ، اپنی کہانیوں، اپنے تجربات، اپنی قلم کاری سے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔
اور وہ معاشرتی مسائل کے حل کے بارے میں لکھ کر معاشرے کو متاثر کرسکتا ہے۔ یعنی صرف مسائل کی نشاندہی کافی نہیں کوئی حل بھی درکار ہوتا ہے۔۔۔
اور ہم جیسوں کو ہر وہ بات جو آنکھوں دیکھی ہو خود پر گزری ہو کسی کی تحریر میں نظر آجائے یا کسی گفتگو میں سنی جائے ۔۔ تو عام پڑھنے اور سننے والے کی طرح خود بیتی محسوس ہوتی ہے اور یوں وہ تحریر دل میں جگہ بنا پاتی ہے ۔۔
ہمارے آج کے مہمان بھی کافی عرصے سے لکھ رہے ہیں ۔
مختلف اخبارات ، رسائل اور جریدوں میں ان کی تحاریر شائع ہوتی رہتی ہیں ۔۔چند برس پیشتر کتابی صورت میں شائع بھی کی گئی ہیں اس سفر کا آغاز کیونکر ہوا ان ہی کی زبانی جانتے ۔۔
آج کی نشست میں جناب حنیف سمانا کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔
تو جناب لکھنے کا آغاز کیسے ہوا اور کیا پہلی تحریر ہی شائع ہوگئی تھی یا کئی رد و کد کا سامنا بھی ہوا؟
جواب – یہ اسکول کے دنوں کی بات ہے کہ ایک روز ایک چھوٹی سی نظم لکھی اور انگریزی اخبار ڈیلی نیوز پوسٹ کردی…. خوش قسمتی سے وہ شائع ہوگئی… اپنا نام حنیف سمانا اخبار میں دیکھ کے خوشی کی انتہا نہ رہی….ایک ایک کو پکڑ پکڑ دکھانا شروع کیا…. پھر اس کے بعد ایک بار اخبار_جہاں کے ایڈیٹر محمود شام صاحب نے ایک مضمون لکھا جس کے آخر میں جملہ تھا کہ “اقبال کی آواز پر لبیک کہنے والا کوئی نہیں” ہم جذباتی تھے… ہم نے “لیٹر ٹو ایڈیٹر” میں “لبیک اقبال” کے نام سے اسکا جواب لکھا اور پوسٹ کرنے کی بجائے خود لیٹر لے کے آئی چندریگر روڈ پر جنگ بلڈنگ پہنچ گئے… اس زمانے میں سیکیوریٹی کا ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا لوگ ایڈیٹر کے کمرے تک بھی پہنچ جاتے تھے… محمود شام صاحب سے ملاقات بھی ہوئی… اور ان کے ہاتھ میں لیٹر دے کے آئے… ایک خط سعودی عرب میں ایک عالم دین کو لکھا اس کا بھی جواب آیا… ایک خط حکیم سعید صاحب کو لکھا جو بعد میں سندھ کے گورنر بنے… ان کا بھی جواب آیا… ایک خط مشہور عالم دین مولانا شاہ احمد صاحب کو اور جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر طفیل محمد صاحب کو لکھا …دونوں خطوط کا موضوع ایک ہی تھا کہ کراچی میں دینی جماعتوں کی سیاست…..مولانا نورانی کا کراچی سے کوئی جواب نہیں آیا… جب کے طفیل محمد صاحب کا منصورہ سے جواب آیا….ایک خط رئیس امروہوی صاحب کو لکھا ..وہ ان کے روزنامہ جنگ کے کالم میں شائع ہوا… یہ سارے خطوط ابھی بھی فائل میں موجود ہیں.
اس دوران ریڈیو پاکستان پر مختلف پروگراموں میں حنیف سمانا کے مختلف خطوط پڑھے جاتے رہے…. کراچی سے ایک فلمی ہفت روزہ نکلتا تھا “نگار” کے نام سے الیاس رشدی صاحب کی ادارت میں ….اس میں بھی خطوط آتے رہے…. اداکار وحید مراد مجھے بہت پسند تھے… ان کے فین کا کلب بنا “آل پاکستان وحیدی کلب”…. میں اس کا بھی میمبر رہا….میرے پاس وحید مراد کی ایک تصویر ہے ان کے آٹوگراف کے ساتھ.
اس زمانے میں ایک ہفت روزہ الکرم اسکوائر لیاقت آباد سے نکلتا تھا “الجمہوریہ” کے نام سے …. کبیر احمد پیر زادہ اس کے ایڈیٹر تھے…میں نے اس میں لکھنا شروع کر دیا… اس میں ایک بار الطاف حسین بھی انٹرویو دینے آئے تھے…اس میں میرے کافی مضامین شائع ہوئے…اس ہفت روزے کا جھکاؤ پیپلز پارٹی کی طرف تھا… اسی دوران جماعت اسلامی کے اخبار جسارت میں لکھنا شروع کیا…اس میں ہفتے میں ایک کالم ضرور آتا تھا…اسی دوران کچھ غزلیں اور افسانے لکھے… صدر کے علاقے میں جمیعت الفلاح کے نام سے ایک ادارہ تھا… اس کے زیر اہتمام فلاح مجلس ادب کے عنوان سے ہفت وار ادبی نشستیں ہوتی تھیں… وہاں میں نے اکثر اپنا کلام اور تحریریں تنقیدی نشستوں میں پیش کیں..
فلاح مجلس ادب میں بڑے بڑے نام سننے کو اور دیکھنے کو ملے…. تکبیر کے ایڈیٹر محمد صلاح الدین شہید، معروف شاعر اعجاز رحمانی، پروفیسر عنایت علی خان صاحب، مسٹر دہلوی مرحوم، کمانڈر عبدالجلیل، ہندوستان کے م نسیم صاحب ، نور العین نوید اور بہت سارے بزرگوں کو یہیں سننے کا موقع ملا . اسی زمانے میں جمیعت علمائے پاکستان کے نمائندہ رسالے ہفت روزہ “احوال” میں لکھنا شروع کیا… اس میں میری سیاسی نظمیں بھی آتی تھیں… اس دور کے حکمرانوں کے خلاف لکھی گئی ایک دو نظمیں اسی دور کی ہیں… انہی دنوں میں لاہور سے شائع ہونے والے نعیم صدیقی مرحوم کی ادارت میں ادبی رسالے “سیارہ” میں میرا ایک افسانہ “پانچ سو روپے” شائع ہوا…. یہ میرے لئے اعزاز تھا چونکہ اس رسالے میں اس وقت کے بڑے بڑے نام لکھتے تھے… خود نعیم صدیقی صاحب کا حمدیہ اور نعتیہ شاعری میں ایک بلند مقام ہے… ان کی غزلوں کا بھی جواب نہیں…”سیارہ” میں ہمارے افسانے کا چھپنا اور پھر لاہور میں سید اسد گیلانی صاحب کے زیر اہتمام تین روزہ علم و ادب کانفرنس کا انعقاد کہ جس میں دنیا پھر سے تین سو آدمی بلائے گئے تھے… ان میں کراچی سے میں بھی شامل تھا… اتفاق سے کراچی کی علم و ادب کی تشکیل میں مجھے جوائنٹ سیکریٹری منتخب کیا گیا… اعجاز رحمانی صاحب کو صدر… سید محمد رضوی کو نائب صدر… میں اپنی کام کی مصروفیت کی وجہ سے اس کے بعد کبھی اس کے اجلاسوں میں شریک نہ ہوسکا.
یہ تھے ہماری زندگی کے چند اوراق…اور پھر کے بعد یہ سوشل میڈیا….غالبا” دوہزار دس یا گیارہ میں فیس بک پر لکھنا شروع کیا… پانچ سال کی جو تحریریں جمع ہوئیں تو معروف آئی سرجن ڈاکٹر شریف ہاشمانی صاحب کے کہنے پہ اور انہی کی مہربانی سے اسے کتابی شکل دی گئی….اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو سلامت رکھے…. میرے پیارے دوست یوسف ثانی نے ان تحریروں کو فیس بک سے لے کے پی ڈی ایف پہ منتقل کیا…اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر دے…اور یوں میری کتاب “کتاب چہرہ” وجود میں آئی..
مجھے یہ خوش گمانی تھی کہ میرے پانچ ہزار فرینڈز تو صرف فیس بک پر ہیں…تین ساڑھے تین ہزار فالوورز الگ… کتب کی ایک ہزار کاپیاں تو اڑ کے بکیں گی… مگر بقول اشفاق احمد کے اس قوم کو کتاب کی نہیں جوتوں کی ضرورت ہے…کتاب کا بکنا تو دور کی بات اس کو تحفتا” دینے میں اور لوگوں تک ڈاک اور پرائیویٹ کورئیر کے ذریعے پہچانے میں لکھنے والے کی الگ معاشی بدحالی ہے… اور جواب میں لوگوں نے اپنی وال پر وصولی کی رسید دینا تک گوارہ نہ کی.. عوام الناس کا کتابوں سے بس اتنا ہی لگا رہ گیا ہے۔
سوال_
آپ کب سے لکھ رہے ہیں اور پہلی بار کس بات سے متاثر ہوئے کہ لکھنے کا آغاز ہوا ۔
جواب-
میں نے لکھنا کب شروع کیا ۔ اس کا جواب تو وہی روایتی ہے بچپن سے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اسکول لائف میں ایک چھوٹی سے
Poem
لکھی اور انگریزی اخبار “ڈیلی نیوز” کے بچوں کے صفحے پر بھجوادی۔ اتفاق سے وہ شائع ہوگئی۔ بس پھر کیا تھا۔ پھر ہر ہفتے کچھ نہ کچھ لکھ کے بھیجنا شروع کیا۔ کبھی کوئی چیز شائع کردیتے اور کبھی مسترد۔
سوال-
کس بات نے لکھنے پر تحریک دی؟ ۔
جواب – جہاں تک میرے لکھنے لکھانے کی۔طرف مائل ہونے کی بات ہے تو چونکہ اخبارت و رسائل پڑھنے کا شوق تو تھا ہی۔۔۔ ایک لائیبریری میں جانا شروع کیا تو کتابیں پڑھنے کا بھی شوق جاگا اور پھر جیسا کہ مستقل مریض آدھا ڈاکٹر ہوجاتا ہے اسی طرح ہم بھی پڑھتے پڑھتے لکھنے لگے۔
سوال – واہ جناب بہت عمدہ مثال دی ۔۔ آپ کے دور کی نسبت آج کل کے نوجوانوں عدم تحفظ اور حساسیت کیوں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ؟
جواب3) جہاں تک نوجوانوں میں حساسیت کا تعلق ہے میرا تجربہ کچھ مختلف ہے۔ میں نے اس نئی نسل کو بعض معاملات میں احساس سے عاری پایا ۔ ہم اپنے وقتوں میں زیادہ حساس ہوا کرتے ہیں ۔ ہمیں والدین کا صرف چہرہ دیکھ کے اندازہ ہوجاتا تھا کہ وہ ہم سے ناراض ہیں ۔ جبکہ آج کی نسل پر تو باقاعدہ ناراضگی ظاہر کرنی پڑتی ہے۔ پھر بھی خاطر خواہ احساس نہیں ہوتا۔
سوال- ویسے میری مراد اپنی ذات کے بارے میں حساسیت سے تھی۔۔
آپ کے مشاغل بہت دلچسپ رہے ۔۔جب لکھنے لکھانے کا آغاز کیا تو اپنی تحریر پر کس وقت زیادہ فخر ہوا یعنی اسے کب ستائش ملی سراہا گیا؟
جواب 4) میرے لکھے کو سراہنے کی بات ہے تو چونکہ اخبارت و رسائل محدود رسائی ہوتی تھی۔ عام قارئین کا رسپانس تو ہم تک نہیں پہنچتا تھا ۔ ہاں البتہ دوست یار سراہتے تھے۔ لیکن سوشل میڈیا کے آنے سے یہ فرق پڑا کہ ہمیں اپنے لکھے پر ہاتھ کے ہاتھ تنقید اور تعریف دونوں ملنے لگی۔ چاہنے والے بھی ملے اور نقاد بھی ۔
لکھنے والا اگر “پاپولر” لکھنے کی کوشش کرے پھر بھی اس کی فطرت تحریر میں کہیں نا کہیں چھلک پڑتی ہے۔ میں ویسے لوگوں کی پسند کا لکھنے کی بجائے اپنی ذاتی پسند ناپسند کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں ۔ جس کا نقصان بھی ہوتا ہے۔
سوال – لکھنے کا آغاز تو آپ نے کم عمری سے ہی کیا مگر کب ایسا ہوا کہ بہت لکھا ہو یعنی روز ہی کوئی تحریر سامنے آئی ہو؟
جواب – سب سے زیادہ تو فیس بک پر آنے کے بعد ہی لکھا۔ یعنی روزانہ۔۔۔ اخبارات و رسائل میں تو ہفتے پندرہ دن میں ایک چیز شائع ہوتی تھی۔ کبھی کبھی مہینوں کچھ نہیں لکھتے تھے ۔
سوال – اپنے قارئین کی پسند کے مطابق لکھتے ہیں یا جو جی میں آئے لکھنا پسند کرتے ہیں۔
جواب 6) دیکھئے لکھنے والا معاشرے کا سب سے حساس فرد ہوتا ہے۔۔ وہ معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ لوگوں کی پسند ناپسند کا اثر ضرور لیتا ہے۔ لیکن کبھی “آمد” ہوا کے مخالف چلنے پر مجبور کرتی ہے ۔ میں نے بھی فیس بک پر بڑی گالیاں کھائیں ہیں موجوں کے خلاف تیر کے😀
سوال- کسی تحریر کے اچھا ہونے یا برا ہونے کا کیا معیار سمجھتے ہیں؟
جواب) لکھنے والے کو جانچنے کے پیمانے ہر کسی کے جدا ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے کہ عام لوگ خاص طور معاشرے کے نچلے طبقے کے درمیان رہ کر ۔۔۔ ان کے مسائل کو قریب سے دیکھ کر ۔۔۔ بلکہ ان کی مشکلات اپنے آپ پر محسوس کر کے ۔۔ جو کچھ لکھا جاتا ہے۔ وہ مقبول ہوتا ہے۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ یہ لکھنے والا میری زبان بول رہا ہے۔ دنیا کا بہترین ادب غربت ، مفلسی، جنگ وجدل، قید و بند میں ہی لکھا گیا۔ غربت پڑھے لکھے آدمی کو زیادہ حساس بنا دیتی ہے۔

سوال – مطالعے کا شوق آپ کو بچپن سے رہا ہے کن کتابوں یعنی موضوعات کو شوق سے پڑھتے ہیں؟
جواب –
میں نے مطالعے کے سلسلے میں اپنے آپ کو کسی گھر میں بند نہیں کیا ۔ جو سامنے آیا پڑھا۔ ویسے مجھے طنز و مزاح پر مبنی کتب یا پھر سفر نامے پسند ہیں ۔ تاریخ ، مذاہب ، کائنات کا علم ۔۔ مختلف نظریات ۔۔ رومانوی ادب۔۔۔ ان سب میں بھی دلچسپی ہے۔ شکاریات پسند نہیں ۔۔۔ نا ہی فرقے اور مسالک کے اختلافی مسائل سے دلچسپی ہے۔ بلکہ چڑ ہے۔ مجھے انسانوں میں کسی قسم کی تقسیم، درجہ بندی پسند نہیں ۔
سوال- کن معروف مصنفین اور شعرا یا فلسفیوں کو پڑھا یا کس کس مصنف سے متاثر ہوئے ؟
جواب ) زندگی میں پسند کے بھی مختلف ادوار رہے ہیں ۔ بچپنے سے ابتدائی جوانی کے دور میں اقبال کی شاعری ذہن پر حاوی رہی۔ پھر جوانی میں جو ملا پڑھتے گئے۔ منٹو، کشن چندر، غالب، میر، ساحر، جوش، فیض، قاسمی، منیر، قمر جلالوی۔۔۔ ان سب سے گزر کر پھر مشتاق احمد یوسفی اور فراز پر آکے بریک لگی۔ درمیان میں کہیں پروین شاکر، مستنصر حسین تارڑ ، اشفاق احمد کا بھی کچھ دور رہا۔ مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے بھی استفادہ کیا۔ محترم احمد جاوید صاحب اور جاوید احمد غامدی صاحب کو بھی سنتے رہے۔ غرض یہ کہ آپ کو حیرت ہوگی ایک ہی وقت میں دو متعضاد شخصیات کو آئیڈیل رکھا۔ نام نہیں بتاؤں گا۔ 😀
سوال- کیا آپ کے خیال میں لکھنے والا معاشرے کی ذہن سازی کرسکتا ہے؟
جواب- دیکھئے اس سے انکار نہیں کہ معاشرے لکھنے والے کے اثرات کو ضرور قبول کرتے ہیں ۔ تھوڑا یا زیادہ ۔ مگر تیسری دنیا کے ہمارے جیسے غریب ملک میں کہ جہاں خواندگی تشویش ناک حد تک کم ہے اور پھر جو پڑھے لکھے سمجھے جاتے ہیں ۔ وہ بھی ڈگریوں کے حصول کی حد تک پڑھے لکھے ہیں ۔ ان کا حقیقی لکھنے پڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایک گریجویٹ کی ڈگری رکھنے والا اردو یا انگریزی میں ” چڑیا گھر کی سیر” پر مضمون نہیں لکھ سکتا۔ یہ میں حقیقت بیان کررہا ہوں۔ یہ فیس بک بھی آپ کو جو تھوڑے بہت اردو پڑھنے والے نظر آتے ہیں یہ یا تو مدرسوں سے فارغ ہونے والے بچے ہیں یا پھر ” پیلا اسکول ” سے فارغ ہونے والے۔ او لیول اور انگلش میڈیم اسکول کے بچے تو ” ز ذ ض او ظ میں تمیز نہیں کرسکتے۔ الف سے امران خان لکھتے تو میں نے خود ایک افسر کو دیکھا ہے😀
جب تعلیم کا یہ معیار ہو تو ادیب کیا انقلاب برپا کرسکتا ہے۔
سوال – ایک دور تھا جب شاعری اور مضامین سے عوام میں جذبہ حب الوطنی انسانی ہمدردی کو جگایا جاسکتا تھا۔ کیا آج کے دور میں بھی ان کتابوں کی تحریروں کی بہتات سے معاشرے میں سدھار کے امکان ہیں؟
جواب- دیکھئے معاشرے میں سدھار کا دعویٰ تو بہت ہی بڑا ہے۔ میر ےلئے یہی بہت ہے کہ میں خود کو سدھار لوں۔ یا اپنے بچوں کو اچھی تربیت دوں جو کہ میرے اختیار میں ہے۔ ہاں اگر کسی پر میری کسی تحریر کا کوئی اثر ہوتا ہے تو میں اپنے رب کا شکر گزار ہوں گا اس رب نے میری کسی تحریر میں تاثیر پیدا کی۔ دلوں میں اثر پیدا کرنا تو اسی کا کرم ہے..
مگر جو تحریر اس قابل ہو کے ذہن پر اثر چھوڑ جائے وہ یقینا ً کسی کی زندگی میں بہتری لا سکتی ہے ۔۔اب بھی کتنی ہیں ایسی کتابیں ہیں جو دوست ایک دوسرے کو پڑھنے کے لئے تجویز کرتے ہیں کہ ان کے پڑھنے سے اصلاح ممکن ہے ۔ یعنی تحریر بھی زندگی پر مثبت طریقے سے اثر انداز ہوسکتی ہے ۔
اپنے پڑھنے کو ہمیشہ کیا پیغام دیتے ہیں ۔
جواب – میرا پیغام یہی ہے کہ پہلے اپنا مطالعہ وسیع کیجئے۔ اچھے لوگوں کو پڑھئے جب ہی اچھا لکھنا آئے گا۔ اپنی تحریر میں خلوص کو گھولئے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیجئے ۔۔
حنیف سمانا صاحب کا عالمی اخبار کی طرف سے شکریہ کے ساتھ اگلی نشست تک آپ سے رخصت کی اجازت لیتے ہیں ۔
اور ایک یاد دہانی کہ اصلاحات دراصل کسی ایک فرد کی کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتیں ہمیشہ معاشرے کی تعمیری سوچ رکھنے والے افراد مل جل کر اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان کا باعث بنتے ہیں ۔













