اسلام اور حقوق العباد(29) ۔۔۔شمس جیلانی

0
2034

آج آگے بڑھنے سے پہلے ہم اپنے پڑھنے والوں سے چند باتیں کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارا خیال ہے کہ شاید ہم قارئین کو اس بات کا قائل نہیں کرسکے کہ حقوق العباد کواولیت حاصل ہے جبکہ حقوق اللہ کی ادائیگی تمام مومنین کی تربیت کا ذریعہ بنتی ہے، تاکہ وہ حقوق العباد پربآسانی کاربند ہوسکیں ورنہ اللہ سبحانہ تعالیٰ تو بے نیاز ہے۔ یہ نتیجہ ہم نے اس سے اخذ کیاکہ ہمارے پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوگئی، جب سے ہم نے اسلام کا وہ حصہ پیش کرنا شروع کیا جوکہ اسلام کی ا نفرادیت ہے اور اس قسم کی ہدایات کسی اور مذہب میں نہیں ملتیں کہ“ اٹھیں کیسے کھائیں کیسے ،پئیں کیسے اور ہمارا برتاؤ اپنوں اور غیروں کے ساتھ کیسا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام صرف مذہب نہیں ہے ، بلکہ دین ہے اور جبکہ دوسرے مذاہب صرف عبادات تک محدود ہیں ان کے یہا ں جو کچھ بھی بطور رسم ورواج رائج ہے اور جس شکل میں بھی رائج ہے وہ جاری ہے۔ مسلمانوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی وہی عقیدہ اپنا لیا جو دنیا بھر کے دوسرے مذاہب میں رائج ہے۔ بس کچھ ارکان ادا کردو اللہ خوش ہوجائے گا ۔ جبکہ یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کہ دنیا کی زندگی کی وہ ا ہمیت نہیں ہے جو اوروں کے یہاں ہے؟ اس لیے کہ اسلام کے پانچ ستونوں میں آخرت بھی شامل ہے۔ جس کا فیصلہ اس پر ہوگا کہ اس نے اپنی زندگی یہاں کیسی گزاری؟ اگر چہ وہ اللہ کی عبادت میں دن و رات لگارہے اور دنیا کے لیے اچھا نہیں ہے؟ تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اور نبی (ص) نے صاف صاف فرما دیا کہ وہاں دو چیزیں معاف نہیں ہو نگی ایک “شرک“ دوسرے بندوں کے حقوق ، ان کے علاوہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بندہ میرے پاس پہاڑ کے برابر بھی گناہ لیکر آئے اور اس نے مرنے سے پہلے توبہ کرلی ہو، تو میں وہ سب معاف کرسکتا ہوں؟ جبکہ حقوق العباد عباد، وہ بندہ خود ہی معاف کریگا، جس کا اس نے حق مارا ہو گا۔ ورنہ پہلے میں اس کی نیکیاں لیکر دعویدار کے کھاتے بھرنا شروع کرونگا اور جب نیکیا ں بھی ختم ہو جائیں گے توُ اس کی برائیاں اِس کے کھاتے میں ڈالنا شروع کرونگا جب وہ بھی ختم ہوجائیں گی اور اس کے پاس کچھ نہ بچے گاپھر اس کا مقام ابدی طور جہنم ہوگا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ صحابہ عظامؓ جنکی تربیت حضور (ص)نے فرمائی تھی ، کوئی سرکاری عہدہ لینے سے اتنا ڈرتے تھے۔ کہ بعض اوقات عہدہ لینے سے انکار ہی کردیتے تھے۔ کیونکہ وہ اس پرپختہ یقین رکھتے تھےاور پریشان ہوتے تھے کہ اگر بیت المال یا انسانی حقوق پامال ہوگئے ،ایک پیسہ بھی ادھر سے ادھر ہوگیا یارعیت کے حقوق ادا کرنے میں کوئی بھی کوتاہی ہوگئی تو ہم ذمہ دار ہونگے ۔ اس صورت میں جبکہ بیت المال یا عوام کا معاملہ ہو تو تمام رعیت کے مقروض ہونگے ،جن کا خود انہیں بھی علم نہیں ہو گا کون کون متاثر ہوا ہے اوروہ کہاں ہے۔ اس لیے کہ حقوق العباد کے سلسلہ میں حکم یہ ہے کہ اس کی توبہ بھی قبول نہیں، تاوقتیکہ وہ انہیں تلاش کرکے ان کے حقوق ادا نہ کردے یا معاف کرالے؟
آج کا مسلمان اس کی بہت کم پرواہ کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ لوگوں کے حقوق پامال کرکے اور ناجائز مال کما کر پھراسے میں راہ خدا میں کچھ خرچ کر کے مسجد وغیرہ بنادونگا اور جنت میں محل کا حقدار ہو جا ؤنگا؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ“ میں پاک ہوں اور صرف پاک چیزیں پسند کر تا ہوں۔ حرام ذرائع سے کمائی ہوئی دولت میری راہ میں خرچ کر نے والے کے منہ پر ماردونگا؟ جبکہ اس کے برعکس جو بھی حلال مال میں سے خرچ کریگا اور فضول خرچی نہیں کریگا ؟تواسے ایک ایک پیسہ کا ثواب ملے گا وہ بھی کم از کم دس گنا۔اور پھر جیسا اس کے خلوص کامعیار ہو بے حساب بھی۔ اور اس کی دین کا یہ عالم ہے کہ خود بندے کا اپنا کھاناا پینا بھی عبادت ہے۔ بیوی بچوں کو کھلانا پلانا بھی عبادت ہے۔ بیوی کے منہ نوالا دینا بھی عبادت ہے۔ حتیٰ کہ اپنے مومن بھائی کی طرف مسکراکر دیکھنا بھی عباد ت ہے یعنی اس پر رحمتیں قدم قدم پر برسیں گی اور صلے میں جنت ملے گی اور وہاں پہونچ کر اس بندے کی ہر خواہش جو وہ دل میں کریگا فوراً پوری ہوجائے گی ۔ نہ وہاں کوئی مشقت ہوگی نہ عبادت ہوگی۔ قرآن میں ہر جگہ دونوں طبقے یعنی اہلیان جنت اور اہلیان جہنم ساتھ بیان ہو ئے ہیں ۔ جہنم میں جوگت بنے گی وہ بھی بیان ہوئی ہے۔
مگر عبادت گاہوں کے منبر سے آپ نے شاید ہی کبھی سنا ہو کہ مومنو! شرک اور حقوق العباد اور ہر قسم کی ہیر پھیر سے بچو! کیونکہ وہ اللہ معاف نہیں کریگا ؟ اگر اس پر عمل ہوتا تو کم از کم مسلمان جہاں بھی ہوتا چونکہ وہ ہر برائی سے پاک ہوتا ۔ دنیامیں امن اور سکون ہو تا؟لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے پاس قرآن تو ہے، سنت بھی ہے اور ہم میں عترت بھی مگر ہم اس پر عامل نہیں ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کی تعریف میں قرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ کہ “ جب وہ دعا مانگتا ہے توا س طرح مانگتا ہے کہ اے میرے رب میری دنیابھی اچھی فرما اور آخرت بھی اچھی فرما۔۔۔۔۔الخً یہاں آپ نے دیکھا دنیا پہلے ہے آخرت بعد میں! کیو نکہ ہمیں بھیجا یہاں آخرت کمانے کے لیے ہے۔ لیکن ہم سب دنیا پر فدا ہوگئے ،جیسے ہمیں مرنا ہی نہیں ہے۔ جبکہ للہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر کوئی آخرت کی آرزو کرتا ہے، تو میں اسے دنیا خود بخود عطا فرمادیتا ہوں۔ مگر دنیا مانگے تو یہیں دے دیتا ہوں آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔اب یہ سوچنا آپ کا کام ہے کہ ویسے تو ہر کام میں ہم دونوں ہاتھوں میں لڈو چاہتے ہیں مگر یہاں وہ فارمولہ استعمال نہیں کرتے کہ آخرت کے لیے جدوجہد کریں تو دنیا خود بخود مل جا ئے ؟ اس میں پر ہیز صرف دوچیزوں کا ہے، ایک تو شرک کے مرتکب نہ ہوں دوسرے کسی بندے کے حقوق غصب نہ کریں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرما ئے (آمین

SHARE

LEAVE A REPLY