علی ابن الحسین زین العابدین نے فرمایا۔آخری حصہ،نگہت نسیم

0
239

خطبہ امام زین العابدین کا ساتواں اور آخری حصہ

جب طویل مسافت کے بعد اسیران کربلا شام پہنچے تو انہیں دربار یزید میں پیش کیا گیا ۔ امام سید الساجدین زین العابدین نے یزید ملعون کے دربار میں اہل شام اور درباریوں سے خطاب کیا۔ اسی خطبہ کے آغاز میں اللہ سبحانہ تعالی کی تعریف کی پھر نسبت رسول پاک کی فضیلیت بیان فرمائی ۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے اپنا تعارف بیان کیا ۔۔۔یزید نے خطبہ سجاد کو روکنے اور لوگوں کی توجہ بانٹنے کے لئے بے وقت ازان کا حکم دے دیا تھا ۔ امام سجاد ع نے اذان کا جواب دیا ساتھ ساتھ دیا ۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے دیکھا ان کے جواب پر لوگ زار و قطار رو رہے ہیں ۔ امام علیہ السلام نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے پھر کھڑے ہوگئے ۔ حمد خدا بجالائے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف بیان کی اور اپنے خطبے کو جاری رکھا ۔۔۔تو کوفیوں نے ان سے معافی مانگی اور عودے کئے کہ وہ جو حکم دیں بجا لائیں گے ۔ امام سجاد نے اپنے خطبے کے آخر میں کوفیوں کو ان کی دھوکے بازی اور مکاری یاد دلاتے ہوئے فرمایا :

” ہماری تم لوگوں سے صرف اتنی گزارش ہے
نا ہمارا ساتھ دو ۔۔۔نا ہمارے دشمن کا ساتھ دو “

امام سجاد علیہ السلام نے اپنے اس مختصر سے خطبے میں واقعہ کربلا کو واضح کرتے ہوئے اس کا دو زاویوں سے تجزیہ پیش کیا ہے ۔

پہلا ذاویہ :
امام سجاد علیہ السلام نے
1۔ یزید اور اس کے ساتھیوں کی درندگی اور غیر انسانی رویوں کا پردہ فاش کیا
2۔ انہیں غارتگر ، قاتل اور فرزند رسول خدا(ص) کی حرمت کو پامال کرنے والا بتایا
3۔ اہلبیت رسول (ص) کو اسیر کرنے والا قرار دیا
4۔ کوفیوں کو مکار ، بیعت شکن ، اور یزید کے جرم میں برابر کا شریک قرار دیا
5۔ یزید اور کوفیوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کیا

دوسرا ذاویہ :
امام سجاد علیہ السلام نے
1۔ امام حسین علیہ السلام اور ان کے خاندان والوں کو رسول خدا(ص) کا اہلبیت قرار دیا
2۔ان کی اور ان کے اصحاب کی شہادت کو اپنے لئے بہترین فخر قرار دیا

سید السجادین امام زین العابدین نے اپنے مختصر خطبے میں کربلا کے واقعات کو اس طرح سے واضح کیا کہ حشر تک یزیدیوں کو اس بات کی مہلت نہ دی کہ وہ واقعہ کربلا میں تحریف کر سکیں یا اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکیں ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

(مضمون کی تیاری کے لئے نیٹ کے مضامین اور نہج البلاغہ سے مدد لی گئی
خصوصاً بیانِ خطبہ از ناسخ التواریخ ج ۲ صفحہ 167 ، طبع جدید زندگی حضرت سید الشہداء)

SHARE

LEAVE A REPLY