ملکہ ترنم نور جہاں 23دسمبر کو دنیائے فانی سے رخصت ہوئیں

0
1448

نور جہاں (1926–2000) برصغیر کی مشہور گلوکارہ اور اداکارہ تھیں۔ ملکہ ترنم کا خطاب انھیں پاکستانیوں کی طرف سے ملا۔ انھوں نے 10000 کے قریب گیت ہندوستان و پاکستان میں اردو، سندھی، بنگالی، پشتو، عربی اور پنجابی زبانوں میں گا‎ئے۔ انہیں ہفت زبان گلوکارہ بھی کہاجاتاہے۔

فہرست
1 ابتدائی زندگی
2 رفیق غزنوی اور نورجہاں
2.1 شوکت حسین رضوی سے تعلق
2.2 شادی کے بعد زندگی
3 ہجرت
3.1 شوکت حسین رضوی سے اختلافات
3.2 اولاد
3.3 دوسری شادی
4 اعجاز سے اختلافات
5 فلمی جدول
6 ملکہ ترنم نورجہاں کا فلمی سفر
7 وفات
8 کا رہائے نمایاں
9 حوالہ جات
ابتدائی زندگی
نور جہاں21 ستمبر1928ء کو برطانوی ہند کے شہر میں قصور (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔گھریلو نام اللہ وسائی تھا۔ انکا گھرانہ موسیقی اور گانے بجانے سے وابستہ تھا اسی لیے ان کے گھروالوں نے انہیں بھی موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے استاد کے پاس بٹھادیا۔ جبکہ نورجہاں ذاتی طور پر اداکاری کرنے کو بھی پسند کرتی تھیں۔ استاد بابا غلام محمد سے موسیقی کی تربیت حاصل کی انہیں کلاسیکی روایتی ہندوستانی موسیقی کی خصوصی طور پر تربیت دی گئی تھی انکو ٹھمری، دھرپد، خیال اور دیگر اصناف موسیقی پر چھوٹی عمر میں ہی عبور حاصل ہوچکاتھا۔ انہوں نے کم سنی میں ہی اسٹیج پر اداکاری اور گلوکاری کا مظاہرہ کیا۔ بعد ازاں اپنی بہنوں کے ساتھ کلکتہ چلی گئیں اور فلم پنجاب میل میں اداکاریاور گلوکاری کی۔ گیت کے بول تھے، سوہنا دیساں وچوں دیس پنجاب۔ یہ فلم 1935 میں بنی۔کلکتہ میں قیام کے دوران میں انکی ملاقات اپنے وقت کے معروف و مشہورگلوکارہ مختار بیگم سے ہوئی۔ مختار بیگم کو اللہ وسائی بہت پسند آئی انہوں نے اللہ وسائی کا نام بے بی نورجہاں تجویز کیا اور اپنے شوہر آغا حشر کاشمیری کو سفارش کی کہ وہ بے بی نورجہاں کو اپنے تھیٹر میں ملازمہ رکھیں۔ نورجہاں نے خود بھی با رہا اپنے مختلف انٹرویوز میں اعتراف کیاہے کہ وہ مختار بیگم کی مداح ہیں اور ان کے انداز کو نقل کرتے ہوئے سفید ساڑھی پہن کر انہی کی طرح ساڑھی کاپلو انگلی پر لپیٹتی ہیں۔ نورجہاں کہتی ہیں کہ جب مختار بیگم گاتی تھیں تو ہم محو ہوکے انہیں سنتے اور جب وہ اسٹیج سے نیچے آتیں تو ان کے جوتے سیدھے کرتے تھے۔
نورجہاں کی بہنوں کو سیٹھ سکھ کرنانی کی کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ اور تینوں بہنیں پنجاب میل کے نام سے مشہور ہوئیں۔ نورجہاں نے کافی فلموں میں بچپنے کے کرداروں کے لیے اداکاری بھی کی۔ جیسا کہ 1935 میں کے ڈی مہرہ کی فلم پنڈ دی کڑی، فلم مصر کا ستارہ1936 کے لیے گائیکی و اداکاری بھی کی۔ 1937میں فلم ہیر سیال میں نورجہاں نے ہیر کے بچپن کا کردار بھی اداکیا۔کلکتہ میں کچھ عرصہ قیام کے بعد نورجہاں لاہور واپس آگئیں۔ ماسٹر غلام حیدر نے ان کے لیے بہت سی دھنیں ترتیب دیں جنہیں گاکر نورجہاں کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ نورجہاں نے پہلی بار سیٹھ دل سکھ جو پنچولی سٹوڈیوز کے مالک تھے کی فلم گل بکاؤلی کے لیے گیت گایا جس کے بول تھے
شالا جوانیاں مانے ۔۔۔۔ آکھا نہ موڑیں۔ پی لے
نورجہاں نے 1942میں پران کے مدمقابل فلم خاندان میں مرکزی کردار اداکیا۔ بطور مرکزی اداکارہ یہ فلم نورجہاں کی اولین فلم تھی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ بعد ازاں نورجہاں نے 1943میں بننے والی فلم دہائی کے لیے گیت گائے۔ یہ دوسری بارتھا کہ نورجہاں نے اپنی آواز کسی دیگر اداکارہ کے لیے دی۔ دہائی میں حسن بانو نے مرکزی کرداراداکیاتھا۔

فلم خاندان کی کامیابی کے بعد نورجہاں بمبئی منتقل ہوگئیں۔ وہاں ان کی ملاقات سید شوکت حسین رضوی سے ہوئی جو ایک اداکار اور ہدایتکار تھے۔ نورجہاں اور رضوی کی ملاقاتوں میں اضافہ ہوا اور نوبت شادی تک پہنچ گئی۔ نورجہاں کے گھر والے ان تعلقات کے خلاف تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک کماؤ لڑکی شادی کر کے ساری کمائی ساتھ لے جائے اس لیے رضوی سے تعلقات پر قدغن لگادی گئی۔ مگر رضوی اور نور کا عشق سر چڑھ کر بولا اور انجام شادی پر منتج ہوا۔ سعادت حسن منٹو بھی اس شادی کے مخالف تھا۔ سعادت اور شوکت دونوں دوست تھے، سعادت حسن منٹو نے رضوی کو کہاتھا کہ شادی سے پ رہی ز کرنا۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی کتاب نورجہاں سرورجہاں میں نہایت تفصیل سے سارے واقعات قلمبند کیے ہیں۔

شادی کے بعد زندگی
رضوی اور نور جہاں کی شادی کے بعد دونوں کے لیے کامیابی کی راہیں وا ہوگئیں۔ نورجہاں نے 1945ء میں بننے والی فلم بڑی ماں میں مرکزی کردار اداکیاجبکہ لتامنگیشکر اور آشابھوسلےنے اس فلم میں بچپنے کے کردار اداکئے تھے۔1945ء میں نورجہاں نے پہلی بار زہرابائی انبالے والی اور کلیان کے ہمراہ قوالی گائی۔ جنوبی ایشیا میں پہلی بار خواتین نے قوالی گائی تھی۔ قوالی کے بول تھے
آہیں بھریں نہ شکوے کیے
مرزاصاحباں نورجہاں کی متحدہ ہندوستان میں آخری فلم تھی۔ نورجہاں نے 1932ء سے 1947ء تک 127 گانے گائے جبکہ 69 فلموں میں اداکاری کی۔ انہو ں نے 12 خاموش فلموں بھی کام کیا۔۔ نورجہاں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں سے 55 فلمیں بمبئی، 8 فلمیں کلکتہ، 5 فلمیں لاہور اور 1 فلم رنگون (ینگون) برما میں بنی تھیں۔

ہجرت
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان معرض وجودمیں آیاتو دونوں میاں بیوی پاکستان کے شہر کراچی ہجرت کرآئے۔ تین سال بعد نورجہاں نے اپنی پہلی فلم چن وے بناناشروع کی۔ اس فلم کی ہدائتکاری نورجہاں نے انجام دی تھی تاہم وہ کہتی تھیں کہ اصل میں ہدایت کاری کاساراکام رضوی نے ہی کیاہے میرا تو سکرین پر صرف نام تھا۔ بطور مرکزی اداکارہ بھی یہ نورجہاں کی پہلی پنجابی فلم تھی۔ فلم نے درمیانے درجے کا کاروبار کیا۔ 1952ء میں نورجہاں کی فلم دوپٹہ نمائش کے لیے پیش کی گئی جس کی ہدائتکاری سبطین فضلی، پیشکار اسلم لودھی تھے۔ اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے

رضوی سے طلاق کے بعد نورجہاں نے پاکستانی فلموں کے اداکار اعجاز درانی سے شادی کرلی۔ اعجاز درانی نے نورجہاں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کہاکہ فلموں میں کام ختم کردو مگر نورجہاں نے اداکاری چھوڑتے ہوئے گلوکاری چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ نورجہاں کی آخری فلم باجی تھی۔ نورجہاں نے مرزاغالب فلم میں بطور مرکزی اداکارہ کام کیا اور اپنے مداحین کی تعداد میں اضافہ کیا۔ کلام فیض گاکر بھی نورجہاں نے شہرت حاصل کی۔ خاص طور پر فیض احمد فیض کی غزل مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ ایک لازوال تخلیق تھی۔

اعجاز سے اختلافات
سعادت حسن منٹو کہ جس نے نورجہاں کا بمبئی اورلاہور میں نہائت گہرائی سے مطالعہ کیاتھا کہتاہے کہ نورجہاں ایک بددماغ عورت ہے۔ گوکہ اس کی آواز کی خوبی نہائت خدادادہے تاہم اسے بددماغ نہیں ہوناچاہئے۔
اعجاز سے شادی کے بعد نورجہاں فلمی دنیاکوخیربادکہہ چکی تھیں اور صرف پس پردہ گلوکاری کرنے میں مصروف تھیں جبکہ ان کے شوہرنامدار اعجاز نورجہاں کے رسوخ کی وجہ سے مصروف فلمی اداکاربن گئے تھے۔ ان دونوں کی زندگی اس وقت اختلافات کی زد میں آگئی جب فردوس نامی اداکارہ سے اعجاز کے تعلقات کی خبر عام ہوئی۔ نورجہاں کے استفسارپراعجاز نے لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے ان خبروں کی تردیدکی۔ مگر ہیررانجھا کی عکسبندی کے دوران میں واقعات کچھ اس طرح ظہورپذیرہوئے کہ اعجاز کے بھید کی قلعی کھل گئی اور اس کا فردوس سے تعلق منظرعام پر آگیاتاہم نورجہاں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح اعجاز اورفردوس کا تعلق ختم ہو جائے اور اس کے لیے نورجہاں نے فردوس پر دباؤ بھی ڈالا اور دباؤ کی آخری حد یہ تھی کہ نورجہاں نے اعلان کر دیاکہ وہ فردوس کے لیے کسی بھی فلم میں اپنی آواز نہیں دینگی۔ مگر اس کے باوجود فردوس اور اعجاز کے تعلقات قائم رہے اور فردوس واحد اداکارہ تھی جس نے نورجہاں کی آوازکے بغیر پنجابی اور اردوفلموں میں کامیابی حاصل کی وگرنہ نورجہاں سے اختلاف کسی بھی اداکار یا اداکارہ کی پیشہ ورانہ موت ہوتے تھے۔
نورجہاں 23 دسمبر 2000ء کو 73 سال 2 ماہ کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں۔ اُن کی نمازِ جنازہ عشاء کے بعد کراچی میں اداء کی گئی اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، کراچی کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

کا رہائے نمایاں
نورجہاں کے ایک قدردان نے کیاخوب لکھاتھا کہ پاکستانی فلمی صنعت کے نصف گانے نورجہاں نے گائے ہیں اور نصف سنے ہیں اس سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ نورجہاں پاکستانی فلمی صنعت کے لیے کس قدر اہمیت کی حامل تھیں۔ نور جہاں نے زیادہ تر گانے انفرادی طور پر گائے اور کئی مرد گلوکاروں کے ساتھ بھی دو گانے گائے جن میں مہدی حسن، پرویز مہدی، احمد رشدی،مسعود رانا، عنایت حسین بھٹی، ندیم، بشیر احمداور اے نیئر شامل ہیں، اس کے علاوہ نورجہاں نے زنانہ گلوکاروں کے ساتھ بھی گانے گائے ہیں جن میں رونا لیلی، ناہید اختر، فریدہ خانم، مہناز اور مالا قابل ذکر ہيں ۔

یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں

پوچھتی ہیں کب بنے گی تو دلہن
میں کہوں جب آئینگے میرے سجن
میرے سجن چلا بھی آ
آبھی جاکے میں نے آج تیرے واسطے
پھر سجادئے ہیں زندگی کے راستے
دور اب نہیں ہے پیار کا حسیں محل
گیسوؤں کی چھاؤں چھاؤں میرے ساتھ چل
بج اٹھیں گی دل میں جھانجریں چھنن چھنن
میرے سجن ۔۔۔۔۔ چلا بھی آ
یوں ہوا کے ساتھ بھاگ بھاگ کر
خواب کوئی دیکھتاہے جاگ جاگ کر
اپنے گرم بازوؤں میں تجھکو تھامنے
دیکھ میں کھڑی ہوں کب سے تیرے سامنے
سن رہی ہوں تیرے سانس کی سنن سنن
میرے سجن ۔۔۔۔ چلابھی آ
اڑ رہاہے پیاربدلیوں کے بھیس میں
یہ سماں بھلاکہاں پرائے دیس میں
اس طرف ہیں صرف سیم و زر کی راحتیں
میری دھڑکنوں میں کھنکھنائی چاہتیں
بج رہی ہوں جیسے چوڑیاں کھنن کھنن
میرے سجن۔۔۔۔ چلا بھی آ

SHARE

LEAVE A REPLY