یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

ابھی تو سوئے تھے ہم مقتل کو سرخرو کر کے

 شاعری انسان کی حس جمالیات کو تر و تازہ رکھنے کے لیئے آکسیجن کی طرح ضروری ہوتی ہے۔ تخیلات اور افلاک کی پرواز کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایک اچھا شاعر ہمیشہ ہی سے حدود و قیود کی پرواہ کیئے بنا افکار و خیالات کو لا محدود اڑان بخشتا ہے۔ اردو شاعری میں یوں تو بے حد بڑے بڑے اور نامور شعراءپائے جاتے ہیں جن کا کلام صدیوں اور دہائیوں کے بعد آج بھی زندہ ہے۔
ہم اگر گزشتہ چند دہائیوں کا مشاہدہ شاعری کے حوالے سے کریں تو افق پر
حضرت جوش ملیح آبادی ،قمر جلالوی ،ناصر کاظمی ،خمار بارہ بنکوی
فیض احمد فیض، احمد فراز، امجد اسلام امجد، حبیب جالب ،افتخار عارف، پروین شاکر اور محسن نقوی جیسے ستارے چمکتے دمکتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاعری دراصل لطیف قلبی کیفیات سچےجزبات اور حسین احساسات کا اظہار ہے ایک شاعر جہاں اپنی اندرونی حقیقت اور اپنے باطنی اضطراب کا ترجمان ہوتا ہے وہاں وہ معاشروں اور رویوں کی عکاسی بھی اپنے کلام کے زریعے کرتا ہے گویا ایک سچے اور پختہ شاعر کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہوتا ہے اور وہ حقیقت میں انسانوں کا ایک فکری طبیب کہلاتا ہے ۔ ایک شاعر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے شاعر کا سخن اسکی فکری سچائی کے باعث دلنواز اور روح پرور ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا کلام دلوں میں اترتا اور ذہنوں پہ چھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے کی اعلی اور دانشمند شخصیات نےاپنی فکر کوعوام الناس میں منتقل کرنے کے لئے شاعری کا مقبول عام زریعہ ہی اختیار کیا ۔ انہی شخصیات میں ایک نابغہ روزگار شخصیت محسن نقوی بھی تھے ۔جو ،تھے نہیں ،بلکہ ،ہیں ۔اور رہیں گے ۔ محسن نقوی ایک بے باک بابصیرت اور دانشور شاعر ہیں انہوں نے جہاں مختلف موضوعات اور زندگی کی مختلف پہلووں پر شعر کہے وہاں انکی شاعری کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انکی شاعری نبی پاک اور انکی آل اطہارؑسے عقیدت و محبت اور ولا و مودت کے جزبوں سے سرشار ہے

وہ اپنے عہد کے ایک منفرد اور اپنی مثال آپ رکھنے والے شاعر اور عاشق آل عبا ؑ ہیں انکی اپنے مولاعلیؑ سے والہانہ عقیدت اور ان کا ایمان کامل ان کے اس کلام سے ظاہر ہوتا ہے جو کہ وقت شہادت زندگی کےآخری لمحات میں انکے لبوں کی زینت تھا ،کہتے ہیں۔

لے زندگی کا خمس علیؑ کے غلام سے

اے موت آ ضرور مگر احترام سے

عاشق ہوں گر ذرا بھی اذیت ہوئی مجھے

شکوہ کروں گا تیرا میں اپنے امامؑ سے

محسن نقوی نے اہل بیتؑ کے لیے جو جو کلام لکھا اس سے ان کو ایک نئی پہنچان ملی۔ وہ ایک خطیب کی طرح مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے حوالے سے شاعری بیان کیا کرتے تھے۔ مرثیہ نگاری میں بھی آپ کافی مہارت رکھتے تھے۔

سب سے اونچاہے جو کٹ کر وہ سر کس کاہے؟

لٹ کر آبا د ہے جو اب تک وہ گھر کس کا ہے

ظلم شبیر کی ہیبت سے نہ لرزے کیونکر

کس نبی کا نواسہ ہے پسر کس کا ہے؟

جس طرح محسن نقوی کی زندگی کے کئی پہلو ہیں اسی طرح سے ان کی شاعری کے بھی کئی رنگ ہیں۔ محسن صرف ہر فن مولا شخصیت تھے۔ انہوں نے جو بھی لکھا کمال لکھا۔ غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انکی نثری تحریریں بھی فن تخلیق کا انمول نمونہ ہیں۔ صنف سخن یعنی قطعہ نگاری کی تو ناقدین نے اسے ایک نئے باب کا آغاز کہا۔

سید محسن نقوی کو بطور ایک شاعر دیکھیں یا ایک بلند پایہ خطیب کے طور پر سٹڈی کریں، ان کی شخصیت کو ایک ادیب کے طور پر سامنے رکھیں یا ایک مداح اہلبیت ؑ کے طور پر، انہیں ایک قومی رہنما کے طور پہ دیکھا جائے یا ایک سیاستدان کے طور پہ، محسن نقوی کئی حوالوں سے منفرد شناخت رکھتے تھے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی شاعری انہیں ان سب حیثیتوں سے ممتاز کرتی ہے، وہ شاعر تھے، غزل گو تھے، مگر ان کی نظمیں بھی لافانی ہیں، وہ شاعری میں منفرد حیثیت و مقام کے حامل تھے، انہیں آپ جب جب پڑھیں گے، ان کے کلام سے نئی ضوفشانیاں پائیں گے، وہ ادب کے ہر رنگ اور شاعری کی ہر صنف پر ناصرف خوبصورتی سے پورے اترتے نظر آتے ہیں، بلکہ ہر ایک صنف کو اپنا رنگ دیتے دکھائی دینگے۔ ان کی شاعری میں آپ کو مقتل، قتل، مکتب، خون، گواہی، کربلا، ریت، فرات، پیاس، وفا، اشک، صحرا، دشت، لہو، عہد، قبیلہ، نسل، چراغ، خیمہ جیسے الفاظ، جن کا تعلق کسی نا کسی طرح کربلا اور اس سرزمین پر لکھی گئی ان کے اجداد کی حریت و آزادی کی بے مثال داستان سے ہے، بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ کربلا کی تپتی زمین پر قربانی کی جتنی داستانیں لکھی گئی ہیں، محسن نقوی نے ان کو کسی نا کسی رنگ و آہنگ میں اپنا موضوع بنایا ہے اور انہیں اپنے تئیں زندہ کرنے اور نئے پہلو اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔

ذیل میں جس کلام کو پیش کر رہا ہوں ،اُسی میں دیکھیں کتنے استعارے اور الفاظ ایسے ہیں ،جن کا تعلق صحرائے کربلا پر لکھی تاریخ کی عظیم ترین داستان عشق سے ہے ۔

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی

قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی

خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا

میرے لبوں پہ حرف دعا کی لکیر تھی

میں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے

صحرا کی ریت پر وہ ہوا کی لکیر تھی

اگرچہ مقتل اور قتل سے متعلق ان کے بے انتہا خوبصورت اشعار ملتے ہیں، مگر اس کلام میں جو پیغام ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔۔۔۔

یہ رونقیں، یہ لوگ، یہ گھر چھوڑ جاؤں گا

اک دن میں روشنی کا نگر چھوڑ جاؤں گا

اور قاتل مرا نشاں مٹانے پہ ہے بضد

میں بھی سناں کی نوک پہ سر چھوڑ جاؤں گا

شاعری کے علاوہ محسن نقوی ایک اعلی پائے کے مقرر اور ذاکر کے طور پر بھی جانے جاتے تھے اور اہل بیعت کی محفلوں میں اپنے انداز خطابت اور مرثیوں سے ایک رقت آمیز ماحول طاری کر دیتے تھے۔

محسن نقوی آج بھی اپنی شاعری کی صورت میں ہم میں موجود ہیں اور اس امر کا ثبوت بھی کہ امن و محبت کے نام لیواوں کو نفرت یا جہالت کے اندھیرے کبھی بھی نہیں مٹا سکتے۔ البتہ ادبی دنیا کی بے حسی اور من پسند افراد کو سراہنے کی عادت کا تدارک ضرور ہونا چاہیے۔ جہاں بہت سے سستے شاعر شاعری کی صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہوئے ایک ڈیڈھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھے ہیں۔

محسن نقوی کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔

ان تمام ناموں میں سے ایک نام محسن نقوی ایسی شخصیت اور شاعر ہیں جنہیں نقادوں اور ادب کے اجارہ داروں نے ہمیشہ زیادتی کا شکار بناتے ہوئے وہ مقام عطا نہ کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ محسن نقوی نے اپنی شاعری میں روایتی محبوب اور محبت یا ہجر و فراق کے نشیب و فراز بیان کرنے کے علاہ سماجی زیادتی، معاشرتی بے حسی اور عالم انسانیت کے امن کو بھی موضوع سخن بنایا۔ ایک شاعر اس وقت پختگی یا بلوغت کی سطح پر پہنچتا ہے جب وہ اپنی ذات کے غم اور حادثات سے باہر نکل کر معاشرے اور انسانیت کے بارے میں روانی سے تحریر کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ محسن نقوی کی شاعری میں پختگی اور ان کے اسلوب بیاں کا منفرد ہونا انہیں عہد حاضر کے شعراءسے یکسر مختلف اور بے حد بلند مقام دیتا ہے۔

ہم تھے تو اجالوں کا بھرم بھی تھا ہمیں سے

کہتے ہیں کہ پھر چاند نہ ابھرا سر مقتل

قاتل کی جبیں شرم سے پیوستِ زمیں ہے

کس دھج سے میرا قافلہ اترا سر مقتل

سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خاں کے مجلہ ” الغازی” کے مدیر اور کالج کی یونین کے نائب صدر تھے۔ جب انہوں نے ” فکر جدید” نمبر شائع کیا تو ادبی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا اور پاکستان بھر کے ادبی حلقوں میں محسن نقوی کا نام پہنچ گیا اور کالج میں بھی ان کے ادبی قد کاٹھ میں بے حد اضافہ ہو گیا۔کالج کے تمام پروفیسر محسن نقوی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ سب ہی ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کے معترف تھے ان دنوں ان کا ایک قطعہ بے حد پذیرائی حاصل کرنے لگا۔

چاندنی کارگر نہیں ہوتی

تیرگی مختصر نہیں ہوتی

ان کی زلفیں اگر بکھر جائیں

احتراماً سحر نہیں ہوتی

نوید آزادی لے کر 5مئی 1947کو ڈیرہ غازی خان میں سید چراغ حسین کے ہاں آنکھیں کھولنے والے نامور شاعر غلام عباس محسن نقوی کو

جتنی شہرت آپ کو ملنی چاہیے تھی اس کی عشر عشیر بھی آپ کو نہ مل سکی۔ کمال تخیل اور بلندی فکر آپ کا طرہ امتیاز ہے۔ آپ نے در اہل بیتؑ کی چوکھٹ پر اپنا وقت گزارنے کو خوبصورت محلوں میں زندگی گزارنے پر ترجیح دی۔ درخت فضیلت کی شاخوں پر چڑھ کر اہل بیت اطہار ؑکی مدح سرائی کرتے رہنا آپ کا شیوہ تھا۔ واقعہ کربلا کی جس انداز سے آپ نے منظر کشی کی ہے شاید عالم ارواح میں میر انیس و میرزا دبیر بھی اس پر آپ کو داد تحسین دے رہے ہوں۔

 وہ سنگ ہے تو گرے بھی دل پر وہ آئینہ ہے تو چبھ ہی جائے

کہیں تو میرا یقین بکھرے کہیں‌ تو میرا گمان ٹوٹے

اجاڑ بن کی اداس رت میں غزل تو محسن نے چھیڑ دی ہے

کسے خبر ہے کہ کس کے معصوم دل پہ اب کہ یہ تان ٹوٹے

 آپ ببانگ دہل ظلم کے خلاف ایک فی البدیہ شاعر کی حیثیت سے ظالموں کے دلوں کو چیرنے والے اشعار کہتے رہے۔ جس طرح معاشرتی مسائل کو ایک بہترین شاعر الفاظ کا جامہ پہناکر قارئین کی خدمت میں پیش کرسکتا ہے شاید ہی ایک بہت بڑے دانشور میں بھی اتنی مہارت پائی جاتی ہو۔ محسن نقوی جیسے شاعر صدیوں بعد خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔عذاب دید، طلوع اشک، خیمہ جاں، رخت شب، فرات فکر، ریزہ حرف، موج ادراک، برگ صحرا اور بند قبا آپ کی مشہور کتابیں ہیں۔

محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق عالیہ، رخت صاحب اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں

اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

شہر کے سب لوگ ٹھہرے اجنبی

زندگی تو کب مجھے راس آئے گی

اب تو صحرا میں بھی جی لگتا نہیں

دل کی ویرانی کہاں لے جائے گی

اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی

شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

اُس رحمتِ عالم کا قصیدہ کہوں کیسے؟

جو مہرِ عنایات بھی ہو ، ابرِ کرم بھی

کیا اُس کے لیے نذر کروں ، جس کی ثنا میں

سجدے میں الفاظ بھی ، سطریں بھی ، قلم بھی

ایک مرتبہ محسن نقوی اپنے ماموں زاد سید علی شاہ نقوی کے ہمراہ اکٹھے گاڑی میں لاہور جا رہے تھے راستے میں ماچس کو انگلیوں سے بجاتے جاتے اور شعر کہتے جاتے اور لاہور تک انہوں نے ایک ایسی غزل کہہ ڈالی جو آج بھی زبان زد عام ہے وہ غزل تھی”

یہ دل یہ باگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی”

یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا! آوارگی

اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا؟ آوارگی

کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا

میں نے کہا! تُو کون ہے؟ اُس نے کہا! آوارگی

جسے پاکستان کے ہر دلعزیز گلوکار غلام علی نے گا کر ہمیشہ کے لیئے امر کر دیا۔

انیس سو انہتر میں انہوں پیپلزپارٹی کے باقاعدہ رکن کی حیثیت سے پی ایس ایف میں شمولیت اختیار کر کے سیاست میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا اس حوالے سے انہوں نے کئی نظمیں اور مضامین بھی لکھے۔ انہوں نے پاکستان کی سابقہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کے لیے ایک نظم ” یااللہ یارسول ، بے نظیر بے قصور” لکھی جس پر انہیں 1994 ء میں صدراتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس ) سے نوازا گیا

ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا

وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا

نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس

زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا

محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔

یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے

سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو

محسن نقوی نے اپنے کلام میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کی تصانیف میں عذاب دید، خیمہ جان، برگ سحرا، طلوع اشک، حق عالیہ اور دیگر شامل ہیں۔محسن نے اپنی شاعری کے ذریعہ نوجوانوں میں بھی مقبولیت حاصل کی۔

!میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں

!!جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے

جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے

جیسے خوشبو کو ہِوا رنگ سے ہٹ کر چاہے

 محسن نقوی نے اپنی شاعری میں روایتی محبوب اور محبت یا ہجر و فراق کے نشیب و فراز بیان کرنے کے علاہ سماجی زیادتی، معاشرتی بے حسی اور عالم انسانیت کے امن کو بھی موضوع سخن بنایا۔

میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا

میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی

 پاکستان کے فن گائیکی کے بے تاج بادشاہ انٹرنیشنل ایوارڈ یافتہ نصرت فتح علی خان نے عظیم شاعر محسن نقوی کی غزل ” کب تک تواونچی آواز میں بولے گا، تیری خاطر کون دریچہ کھولے گا” گن گنائی جو نصرت فتح علی خاں کو شہرت کے ساتویں آسماں پر لے گئی اور انہیں برطانیہ حکومت نے تمغہء حسن کارکردگی سے نوازا۔محسن نقوی نے فلم ساز سردار

بھٹی کی بھر پور فرمائش پرفلم ” بازار حسن” کے لیئے ایک گیت ” لہروں کی طرح تجھے بکھرنے نہیں دیں گے” تحریر کیا جس پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا یوں محسن نقوی کا شمار دنیا کے بڑے گیت نگاروں میں ہونے لگا۔محسن نقوی کا کہنا ہے کہ میں میر، غالب، انیس سے روایتی شعور کا سہارا لے کر علامہ اقبال، جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، فراق گورکھپوری اور احمد ندیم قاسمی تک استفادہ کرتا ہوں انہیں مسلسل پڑھتا ہوں اور ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

محسن نقوی نے 1980 ء میں علامہ اقبال ٹائون لاہور میں ایک خوبصورت گھر تعمیر کروایا جس کا نام نجف ریزہ رکھا۔ نشتر بلاک میں تعمیر شدہ گھر سیاسی ، ادبی، فلمی اور علمی شخصیات کا مسکن بن گیا۔

 قتل چھپتے تھے کبھي سنگ کي ديوار کے بيچ

اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بيچ

اپني پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر

سر سلامت نہيں رہتے يہاں دستار کے بيچ

اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں

یوں عالمی دبستان ادب کے افق پر چمکنے والا ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔

محسن نقوی کو ہم سے بچھڑے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں لیکن محسن نقوی آج بھی اپنے کلام کی وجہ سے عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جب بھی دنیائے ادب کی تاریخ رقم کی جائیگی محسن نقوی کا نام سنہری حروف سے لکھا جائیگا۔ محسن نقوی کی وفات کے بعداردو ادب اپنے ایک خدمتگار اور محسن سے محروم ہو گیا۔ یوں لکھوں تو بے جا نہ ہوگا کہ محسن نقوی ایک عہد کا نام ہے۔ محسن نقوی کا ایک لازوال شعر

عمر اتنی توعطا کر میرے فن کو خالق

میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY