یہ ہیں میرے صفدر ہمدانی جن سے ملنے کا مجھے بہت اشتیاق ہے۔قندیل حسین قاضی

0
1504

پنجاب یونیورسٹی کو اگر آتش فشاں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ کہ میں نے وہاں سے تین ایٹم بم برآمد کر لیے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ زمان پارک تو ویسے ہی مشہور ہے اصل میں پنجاب یونیورسٹی وہ جگہ ہے جہاں پر پٹرول بم تیار ہوتے ہیں۔ بر سبیل تذکرہ ایک جملہ سا یادآ گیا۔ کہ بی اماں کے پاس پڑے ہوئے بم کو دیکھ کر سپاہی نے آواز لگائی ۔ اماں جی بم۔ بی اماں آہ بھر کر بولیں۔ اب کہاں۔ کسی زمانے میں ہم بھی بم ہوا کرتے تھے۔

پنجاب یونیورسٹی کے تین بم لا حول ولا قوۃ۔ مطلب تین لوگ ایسے ہیں جن سے مجھے احساس ہونے لگا ہے کہ یہاں اتنی حرارت موجود ہے جس سے آگ لگانا ممکن ہے۔

ایک دل جلے طالب علم امتیاز علی تاج نے کلیجے سے آگ نکالی اور انارکلی ڈرامہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دی۔ دنیا تڑپ اٹھی کہ خدا ظل الٰہی جلال الدین اکبر کی کبھی مغفرت نہ کرے جس نے معصوم صفت انارکلی کو دیوار میں چنوا دیا۔ اللہ ان نسلوں کو غارت کرے جنھوں نے دو پیار بھرے دلوں کو ملنے نہیں دیا۔ شاہ جی تو لکھ کے ایک طرف ہو گئے لیکن ادب کی دنیا میں وہ تہلکہ مچا کہ گمان غالب ہے اگر عمران خان اس دور میں ہوتے تو نسل تیموری کے خلاف مرتے دم تک بغاوت کا اعلان کر دیتے۔ بات کتابوں تک ہی محدود رہتی اگر کے آصف مغل اعظم بنا کر اس مغلیہ ظلم و ستم کو پردہ سکرین پر عام لوگوں تک نہ پہنچاتے۔ سنتے ہیں کہ عرصہ دس سال تک لوگ مغل بادشاہوں کی اولادیں ڈھونڈتے رہے جنھوں نے خوف سے شجرہ نسب پر بات کرنا تک چھوڑ دیا تھا۔ تاریخ تو فقط اتنا کہہ کر خاموش ہو جاتی ہے کہ انارکلی نام کی ایک کنیز سے شہزادہ سلیم آنکھ مٹکا کر رہے تھے کہ اکبر اعظم کو ابو الفضل نے مخبری کر دی۔ کنیز کو دربار اکبری سے نکال دیا گیا اور تاریخ اس سے آگے خاموش ہے۔ ہاں یہ لکھا جاتا ہے کہ اس مخبری پر ابو الفضل کو بھی شہزادہ سلیم عرف بادشاہ جہانگیر نے ایک مہم میں مروا دیا تھا۔ اتنی سی بات تھی لیکن پنجاب یونیورسٹی میں بننے والے پٹرول بم نے جو آگ لگائی سب کے سامنے ہے۔

انارکلی کا شور ختم ہوا تو پنڈی کے راجہ انور کو کسی بیوروکریٹ کی بیٹی سے عشق ہو گیا۔ تین سال جو خط و کتابت ہوئی راجہ انور نے ساری خط و کتابت کو کتابی شکل دے کر جھوٹے روپ کے درشن کا نام دیا۔ ایوب خان سے ناراض، مشرقی پاکستان کے غم میں روتی دھوتی اور بھٹو کے عشق میں مبتلا قوم نے چھوٹی سی کتاب کو سینے لگا لیا اور جی بھر کے رونا شروع کر دیا۔

رونا تو اس قوم کے نصیبوں میں ازل سے لکھا تھا انھیں فقط موضوع کی تلاش تھی سو بیوروکریٹس، سرمایہ داروں اور نظام کو گالیاں دینے والوں نے اس کہانی کو یوں چوم چوم کر رکھا کہ آج بھی پرانے سرخ سویرا والے آہ بھر کر رہ جاتے ہیں۔ ستر اور اسی کی دہائی میں جوان رہنے والے اس کتاب کے سحر سے آشنا ہیں۔ آج کی نسل کو کیا پتہ کہ یہ سحر کیا تھا۔ وہ تو بھلا ہو قدرت اللہ شہاب کا جنھوں نے شہاب نامہ لکھ کر قوم کو ایک اور سمت روانہ کر دیا۔ قوم آج بھی ایوب خان کو کچھ کہے نہ کہے شہاب صاحب کو بڑی عزت سے یاد کرتی ہے۔ سو جھوٹے روپ کے درشن دوسرا پٹرول۔بم تھا جو پنجاب یونیورسٹی سے نکل کر پھٹا اور اس نے بچے کھچے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شاید راجہ صاحب اور آگ لگاتے لیکن مرتضی بھٹو نے انھیں اپنی آغوش میں لے کر آگ لگانے کی زمہ داری خود قبول کر لی۔

یہ تیرہ اور چودہ اگست1947 کی درمیانی رات تھی۔ بارہ بجنے سےایک گھنٹہ پہلے اناؤنسر نے ریڈیو پر ایک ہلکا سا اعلان کیا۔ یہ آل۔انڈیا ریڈیو لاہور ہے آج کی نشریات اختتام کو پہنچیں ۔

اور پھر ایک گھنٹے بعد ٹھیک بارہ بجے اعلان ہوا۔

پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ طلوع صبح آزادی

ہواؤں کے دوش پر پھیلنے والا یہ پیغام بر صغیر کے مسلمانوں کی روحوں کو سرشار کر گیا۔ یہ مصطفی علی ہمدانی تھے۔ جن کی خوبصورت آواز آج بھی کتنی ہی کیسٹوں اور ٹیپوں میں موجود ہے۔

مصطفی ہمدانی کے گھر نومبر 1950 میں ایک بچے نے جنم لیا۔ بچہ شروع سے باپ پر گیا تھا۔  یعنی ریڈیو سننے کا شوق تھا۔ ریڈیو سٹیشن جانے کا شوق تھا اور مجالس میں شعروں کا لطف اٹھانے کا ذوق بھی موجود تھا۔ گھر والوں نے اس بچے کی طبعیت کو موزوں سمجھا۔ انھیں بس یہ لگا کہ کچھ نظمیں وغیرہ لکھ کر چپ ہو جائے گا لیکن دور کھڑی پنجاب یونیورسٹی نے اپنا باغی پہچان لیا تھا۔ صحافت میں ایم اے جرنلزم کیا اور ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر ہو گیا۔ کلیجے کی آگ ویسی کی ویسی رہی۔ دنیا کے رویوں سے بغاوت اور منافقت سے بیزاری نے اس کے اندر کے شاعر کو جلا بخشی اور اس کا پہلا مجموعہ کلام 1974 میں کفن پہ تحریریں کے نام سے چھپا۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایسا خودکش نام کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا۔ یوں لگتا ہے جیسے شاعر نے مجموعہ شائع ہوتے ہی یا تو خود کشی کر لینی ہے۔ یا پھر۔۔۔۔۔اللہ معاف کرے عجیب سا خیال آیا تھا۔ دنیا منافق سے منافق تر ہوتی گئی اور اس کے شعر تلخ سے تلخ ہوتے گئے ۔ وہ آج بھی کہتا ہے احباب اکثر یہ کہتے ہیں کہ اتنے تلخ بندے کو شوگر کیسے ہو گئی ۔ پہلے ذرا اس کے کچھ شعر سنیں پھر بات کرتے ہیں۔

نفرت منافقت سے رہی عمر بھر مجھے
صفدر میں چل سکا نہ زمانے کے ساتھ ساتھ

اب سے شکایت کیا آپ سے گلہ کیسا
پھر رہا ہوں میں تنہا سازشوں کے موسم میں

شہروں شہروں لاشے دیکھو بکھرے ہیں
حاکم میرے شہر کے اندھے گونگے ہیں

رونے کی آوازیں ہیں کہ رکتی نہیں
حاکم شہر یہ کس کے بچے بھوکے ہیں

بدلے ہیں حالات فقیہ شہر کے بس
لوگوں کے حالات بھلا کب بدلے ہیں

سو یہ شاعر صفدر ہمدانی تھا۔ یوں لگتا تھا یا تو نظام نے اس کے سامنے جھک جانا ہے یا پھر اس نے خود ٹوٹ جانا ہے۔

ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس نے مہ پارہ کو دیکھا۔ اس سے بات کی ، ابا کو منایا اور جھٹ سے شادی کر لی۔ احباب انگشت بدنداں تھے کہ لو جی سادہ مزاج اتنا بھی سادہ نہیں ہے۔ کھوٹے کھرے کی خوب پہچان رکھتا ہے۔ لوگوں نے سوچا ایک دن دو دن یا کچھ دن۔۔۔۔لیکن اس نے کہا ایک دو دن نہیں ساری عمر ساتھ نبھانا ہے۔

مہ پارہ ٹی وی سٹیشن جاتیں تو پوری ذمہ داری سے گھر کے کام کرتا اور اس کا پورا ساتھ دیتا۔ وہ اداس ہوتیں تو یہ بھی اداس ہو جاتا۔ وہ ہنس دیتیں تو یہ ہنس دیتا۔ اسے تو اس بات کو زعم لے بیٹھا تھا کہ شاعر نے جسے چاند کا ٹکڑا کہا ہے۔ اس چاند کے ٹکڑے سے اس کا آنگن چمک رہا ہے۔ یونہی ایک دن ترنگ میں ا کر مہ پارہ کو کہا۔

مہ پارہ اگر میں جنت میں جاؤں گا تو تمہاری وجہ سے جاؤں گا۔ اور تم جہنم میں جاؤ گی تو میری وجہ سے جاؤ گی۔

دنیا میں کہیں ظلم ہو اس کا دل مضطرب ہو جاتا ہے۔ کہیں نا انصافی ہو تو یہ تڑپ اٹھتا ہے۔ کسی کو اس سے نفرت ہے یا کوئی اس سے محبت کرتا ہے اس کی اسے پرواہ نہیں۔ وہ تو تنہائی کو پیغمبروں کی وراثت کہتا کے۔ اسی کا قول ہے۔ حق بات کہو گے تو تنہائی تو مقدر ٹھہرے گی۔

اسے نہ کامیابی سے غرض ہے نہ ناکامی کا خوف ہے۔ وہ تو ہر حال میں مطمئن ہے۔ اور یہ اطمینان اس کی اپنی ذات تک ہے۔ ورنہ تو دنیا کے کسی کونے میں گملا بھی ٹوٹے تو چوٹ اس کے کلیجے پر جا کے لگتی ہے۔

یہ ہیں میرے صفدر ہمدانی جن سے ملنے کا مجھے بہت اشتیاق ہے۔اللہ ان کی عمر دراز کرے آمین۔

تحریر ۔۔۔ قندیل حسین قاضی

SHARE

LEAVE A REPLY