روشنی حرا سے (117)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
471

سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (117)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

گزشتہ قسط میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ حضو ر (ص) جب غزوہ طا ئف سے واپس جعرانہ پہنچے تو ہوا زن نے آپ (ص) سے رحم کی در خواست کی اور اپنے بیوی اور بچے طلب فر ما ئے ۔ جو کہ مال ِ غنیمت کے طو ر پر لو گوں میں تقسیم ہو چکے تھے کیو نکہ اس زما نے کا دستور یہ ہی تھا کہ مفتوح لو گوں کا تما م ما ل و متا ع فو ج میں تقسیم کر دیا جا تا تھا ۔لہذا وہ بھی تقسیم کر دیئے گئے ۔ آئیے اب آگے بڑھتے ہیں آپ نے ان سے فر ما یا کہ تم لو گ ظہر کی نما ز کے وقت آنا تو میں (ص) دیکھو نگا تمہا رے لیے کیا کر سکتا ہوں ۔جہاں تک میرا (ص) اور بنی عبد المطلب کا تعلق ہے تو ان کے حصے میں جو کچھ آ یاہے وہ تو میں تمہیں واپس کرا دونگا، مگر باقی لو گ اپنی مر ضی کے ما لک ہیں ۔لہذا بنو ہوازن وہاں پہنچے اور مسلما نوں سے درخواست کی کہ وہ رسو ل (ص) اللہ سے سفا رش کر یں کہ وہ ہما رے بیوی بچے واپس کر دیں۔ اس پر حضو ر (ص) نے جواب دیا کہ میر ے اور جو کچھ بنی عبد المطلب کے پا س ہے، وہ میں (ص) واپس کر تا ہو ں۔ اس پر تما م دو سرے مسلمانوں کی اکثر یت نے کہا کہ یا رسول (ص) اللہ ہم بھی آپ کا اتبا ع کر تے ہیں۔اور ان کے بیو ی بچے واپس کر دیئے ۔حتیٰ کہ ایک کنیز جو کہ حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) کے حصہ میں آئی تھی اور اپنے ما مو ؤں کے پاس بنو جمح میں بھیجدی تھی ،وہ بھی انہو ں نے واپس منگواکر ان کے حوالے کر دی ۔ان لوگوں کے اس اتبا ع پر خو ش ہو کر حضور (ص) نے ہر ایک کو ایک، ایک لو نڈی یا غلا م کے بدلے چھ اونٹ فی کس عنا یت فرمائے ۔ابن ِ اسحا ق (رح) نے تحریر کیا ہے کہ حضو ر (ص) نے کچھ لو گوں کو جو کہ نو مسلم تھے ان کی تالیف ِ قلو ب کےلئے ما ل غنیمت کے خمس میں سے سو سو اونٹ عطا فر ما ئے جو کہ اپنے قبا ئل میں سب با عزت لو گ تھے ۔ اور بعد میں اصحاب المسین کہلا ئے یعنی سو اونٹ پا نے والے ۔جن کے نا م یہ ہیں حضرت ابو سفیاں بن معاویہ ، حکیم ابن ِ حزام ، حارث بن حارث ،حا رث بن ہشام ،سہیل ابن عمرو،حویطب بن عبد العزی ٰ، ابو قیس بن عوف اور صفوان بن امیہ رضٰی اللہ تعالیٰ عن ہما اجمعین شا مل ہیں ۔اس کے علا وہ کچھ اونٹ اور لو گو ں کو بھی عطا فر ما ئے جن میں حضرت مخز مہ (رض) بن نو فل وغیرہ شا مل ہیں مگر کسی را وی نے ان کی صحیح تعداد نہیں بیا ن کی ۔
پھر حضور (ص) عمرہ کے لیئے ذیقعد میں مکہ کے لیئے عا زم ِ سفر ہو ئے۔ یہاں زیادہ تر سیرت نگار اس بات پر متفق ہیں کہ حضو ر (ص) نے حج صرف ایک ہی ادا فر ما یا۔ مگر عمرے چا ر ادا فرمائے، تین ذیعقد ہ میں اور ایک آخری عمرہ ذالحج میں، حج الوداع کے ساتھ ۔ اس پر اما م احمد (رح) نے بہت تفصیل سے روشنی ڈا لی ہے ۔ عمرہ سے فار غ ہو نے کے بعد حضو ر (ص)نے مکہ میں ایک بیس سا لہ نو جوان صحابی حضرت عتا ب (رض) بن اسید کو اپنا نا ئب مقرر فر ما یا، اور ان کا جیب خر چ ایک در ہم رو زانہ مقرر فر ما یا ۔اس پر انہوں نے اللہ تعا لیٰ کا شکر ادا کر تے ہوئے فر ما یا کہ مجھے صرف ایک ہی در ہم رو ز کی حا جت تھی جو کہ اللہ تعا لیٰ نے پو ری فر ما دی۔ اس چھوٹے سے جملے سے انکی قنا عت پسندی اور تقویٰ کا وہ را ز عیاں ہو گیا جس کی وجہ سے حضو ر (ص) کی نظر ِ انتخا ب اس نو جوان پر پڑی ۔اس کے بعد حضو ر (ص) نے حضرت معا ذ (رض) کو وہاں اسلامی درس و تدریس کے لیے چھوڑا۔ اور خو د مدینہ تشریف لے گئے اور چو بیس ذیعقد ہ کو مدینہ میں ورود مسعود فر ما یا۔ابن ِاسحاق (رح) کے مطا بق اس سال یعنی 8 ھ میں لو گوں نے اسی طریقہ سے حج کیا جیسے کرتے آئے تھے ۔اور مسلما نوں کے ساتھ حضرت عتاب (رض) ابن ِ اسید نے بھی حج کیا۔ اس سال کو بعض مورخین نے بت شکنی کا سال بھی لکھا ہے ۔کیو نکہ اسی سال کعبہ کی بتوں سے صفا ئی کے بعدوہ تما م بت خا نے منہدم کر دیئے گئے جو دین ابرہیمی (ع) میں ایک بد عت کی طو ر پر در آئے تھے۔ اور ہر قبیلے نے اپنی سہو لت کےلئے اپنا بت علیحدہ بنا رکھا تھا۔ بلکہ یمن والوں نے تو ایک کعبہ ہی الگ بنا رکھا تھا جہاں حج کی طرح تمام منا سک ادا کر تے تھے ۔اس سال سب سے پہلا بت کدہ جو ڈھایا گیا وہ تھا ،جو کہ خا لد بن ولید نے حضور (ص) کے حکم پر منہد م کیا جہاں نخلہ میں عزیٰ کا بت نصب تھا جو کہ ذیقعد ہ شروع ہو نے میں ابھی پا نچ دن با قی تھے کہ منہدم کر دیاگیا۔جس کے نیچے سے بہت بڑا خزانہ بھی بر آمد ہو اسی سال منات کا معابد منہدم ہوا جس کو حضرت سعد (رض) بن زید اشہلی نے منہدم کیا ۔اس کے بعد سواع کا بت کدہ منہدم ہوا جس کی پر ستش اطراف کے قبا ئل کر تے تھے، اور بتوں کے نام ہذیل اور بر ہاط تھے ۔جس کو حضرت عمرو (رض)بن عا ص نے منہدم کیا ۔ پھر اوس و خزرج کا بت کدہ جہاں منا ت نا می بت نصب تھا ،اس کو حضرت سعد (رض) بن زید نے منہدم کیا۔ ان بتوں کی اہمیت اس سے ظا ہر ہو تی ہے کہ اس سلسلہ میں اللہ تعا لیٰ نے سورہ نجم کی یہ آیتیں نا زل فر ما ئیں( 20,21) حضرت امام بخا ری (رح) نے فتح مکہ کے سا تھ ہی ایک اور معبد کے انہدا م کا ذکر بھی کیا ہے جو خثعم اور جبلہ تھے ا ور مشرکین اس کو کعبہ یما نیہ کہتے تھے جب کے اصل کعبہ کو کعبہ شا می کہتے تھے۔اس کے با رے میں روایت ہے کہ حضور (ص) نے حضرت جریر (رض) سے فر ما یا کہ کیا تم ”ذو الخلصہ “ کو منہدم نہیں کرو گے تو انہوں نے کہا ضرور ۔ پھروہ اپنے سا تھ ڈیر ھ سو سوار لے کر جب یمن کی طرف روانہ ہو نے لگے، تو انہیں ان سواروں کی نا تجر بہ کا ری کی وجہ سے تشویش لا حق ہو ئی جو کہ انہوں نے اپنے ساتھ لیے تھے ۔ لہذاحضور (ص) کے سا منے تشویش ظاہر کی ۔اس پر حضو ر (ص) نے ان کے سینے پر اپنا دست ِ مبا رک رکھ دیا۔ اس کے بعد آ پ نے ان کےلئے ان الفا ظ میں دعا فر ما ئی ترجمہ: ”یا اللہ اس کو ثا بت قدم رکھنا اور اس کو ہا دی اور مہدی بنا دینا “۔ حضرت جریر (رض) کہتے ہیں اس کے بعد مجھے ان سواروں میں کو ئی کجی نظر نہیں آئی اس کو انہوں نے جا کر منہدم کر دیا جس میں جثعم اور جبیل نا م کے دو بت رکھے ہو ئے تھے ۔جب حضرت جر یر (رض) لو ٹ کر آئے اور اس عما رت کے انہدام کی خبر دی تو حضو ر (ص) نے اس پر با رک اللہ فر ما یا۔اور تمام سواروں کو فرداً فرداً پا نچ پا نچ با ر مبا رکبا د دی۔ بعض مو ر خین نے لکھا ہے کہ جب حضرت جریر (رض) وہا ں معابد ڈھا نے کےلئے پہنچے تو وہاں کے پجا ری نے جو کہ تیر کے ذریعہ فا ل نکا ل کر لوگوں کو گمرا ہ کیاکر تا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس کا نشا نہ کبھی غلط نہیں ہوا۔اس نے حضرت جریر (ڑض) سے کہا کہ تم میرے سا منے کھڑے ہو جا ؤ اور میں تیر چلا تا ہو ں اگر تمہا ری گر دن میں تیر نہ لگا تو تمہا رے رسول (ص)کو سچا ما ن لونگا ۔وہ سا منے تن کر کھڑے ہو گئے اور اس کا تیر خطا گیا ،لہذا وہ فو را ً ایمان لے آیا ۔
غزوہ تبوک :تمام مستند راوی اس با ت پر متفق ہیں کہ حضو ر (ص)نے ذیقعد ہ 8 ھ کے آخری دنوں سے لیکر رجب 9 ھ تک مدینہ میں ہی قیام فرمایا۔اس کے بعد ایک بہت بڑے امتحان کے لئے لو گوں کو پکا را ، یہ وہ زما نہ تھاکہ جب پھل پک کر تیار ہو تے ہیں۔ جس کی را ہ تما م سال کا شتکا ر ایک ایک دن گن کر تکتے ہیں ۔چو نکہ نئی فصل قریب تھی اور پرا نے ذخیرے ختم ہو چکے تھے، اس لیے یہ انتہا ئی افلاس اور تنگی کا دور تھا۔ اور اس پر شدید گر می اور لو ئیں مزید پر یشا نی کا با عث بنیں۔ عمو ما ً جب بھی رسول (ص) اللہ کہیں کا قصد فر ما تے تھے ،تو ہمیشہ جنگی حکمت عملی کے تحت منصوبہ خفیہ رکھتے تھے ،اور صرف اشا روں اور کنا یوں سے کا م لیتے تھے۔ چو نکہ اس مر تبہ ایک عظیم امتحان مقصو د تھا، لہذا حضور (ص) نے ہر بات واضح کر دی کہ روم کا قصد ہے۔ حتیٰ کہ راستے کی تمام صعو بتیں اور دشمن کی کثرت ِ تعداد سبھی کچھ بتا دیا۔حسب عا دت منا فقین کی ایک جماعت لو گوں کو بہکا نے او ر عذر ترا شنے لگی کہ گر می شدید ہے ایسے میں نکلنا مصلحت نہیں ہے ۔لہذا ان کے سلسلہ میں اللہ تعا لی ٰ نے یہ آیت نا زل فر ما ئی ۔
”قالوا لاتنفروفی الحر،قل نار جھنم اشد حرالو کانو یفقھون فلیضحکواقلیلا وّ لیبکوا کثیراًجزءا بما کا نوں یکسبون“(9.28)ترجمہ : ”انہوں نے کہا کہ گر می میں جنگ کے لیے نہ جا ؤ ،آپ فر ما د یجئے جہنم کی آگ میں اس سے کہیں زیا دہ شدت ہے اگر وہ جانیں،توکم ہنسیں اور زیا دہ روئیں۔ جوان حرکتو ں کے بد لے میں کمارہے ہیں“۔ابن ِ ہشا م (رح)نے دوسرے کئی انتہا ئی معتبر راویوں اور حضرت عبد اللہ (رض) بن حا رث سے روایت بیان کی ہے کہ حضو ر (ص) کو ایک مخبر نے اطلاع دی کہ سا رے منا فق اسوقت سویلم کے گھر میں جمع ہو کر سا زش کر رہے ہیں، حضور (ص)نے حضرت طلحہ (رض) بن عبید اللہ کوحکم دیا کہ وہ کچھ لو گوں کو سا تھ لیکرجا ئیں اور ان کی خبر لیں۔لہذا انہو ں نے اس گھر کو جا کر آگ لگا دی ۔غالبا ً وہ سب چھت پر جمع تھے ۔جب انہوں نے آگ کے شعلے لپکتے دیکھے تو وہیں سے چھلا نگیں لگا نا شروع کر دیں۔اور ان میں سے ایک ضحا ک بن ِ خلیفہ اپنی ٹا نگ تڑا وا بیٹھا ۔جس کا اس نے بعد میں ایک مر ثیہ بھی لکھا ہے اور اس آگ کو جہنم کی آگ سے تشبیہ دی ہے۔ بقول اس کے اس سے بچت کی کوئی صورت نہ تھی اور وہ تا ئب ہو گیا ہے۔ کہ وہ حضو ر (ص)کے خلاف کو ئی سا زش نہیں کریگا۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY