یہ وہ خزاں زدہ دن ہیں جب حبیب جالب بہت یاد آتا ہے۔ہم کس قدر زود فراموش ہیں کہ برسوں ساتھ رہنے والوں کو دنوں میں نہیں لمحوں میں بھلا دیتے ہیں۔ 12 مارچ حبیب جالب کا یوم وفات ہے اور اس بار 2019 میں اسکی 26ویں برسی ہے۔

اس برس ایک حوصلہ افزا بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ انکی بیٹی طاہرہ جالب مرحوم کے بہت سے چاہنے والوں کے ساتھ مل کر لاہور میں جالب میلے کا انعقاد کر رہی ہیں جو یقینی طور پر کامیاب رہے گا اور اس طرح فیض میلے کے بعد جالب میلہ بھی ایک مستقل تقریب کی صورت اختیار کر لے گا

یہ کتنا بڑا سچ ہے کہ اس ملک میں آج کی موجودہ تحریک انصاف کی حکومت سمیت کسی حکومت کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ جالب کے نام سے موسوم کوئی ادارہ قائم کیا جاتا ۔ میں مانتا ہوں کہ حبیب جالب کے پاس عوام کی سند تھی اور ہے اور اسے کسی ایسی عطا کی ضرورت نہیں جو طوق ملامت کی طرح ہو لیکن حکومتوں کو اپنی ذمیداری تو ادا کرنی چاہیئے۔ اس برس دوہزار انیس میں جو سرکاری اعزازات کی فہرست شائع ہوئی ہے اور جو تئیس مارچ دوہزار انیس کو دیئے جائیں گے اس فہرست کے ستر فیصد سے زیادہ نام ایسے ہیں جن پر تضحیک اعزازات کا مقدمہ درج کروایا جانا چاہیئے۔ اب سوچتا کہ خالق لوح قلم نے اس لمحے تک حبیب جالب کی عزت رکھی کہ وہ کسی سرکاری وظیفے کا شرمندہ نہیں ہوا اور اسکے بعد نہ ہی اسکی اولاد

ان کی وفات کے بعد 2008ءمیں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا

جالب نے اپنی ساری زندگی فوجی آمریت کے تسلط اور سرمایہ داری کے ساتھ وڈیرہ شاہی اور جاگیر داری کے خلاف جدوجہد اور قلمی جہاد میں گزاری اور سچ تو یہ ہے کہ ایسے لوگ کسی بھی حکومت کو پسند نہیں ہوتے اور یہی جالب کے ساتھ بھی ہوا۔ غریبوں اور پچھڑے ہوئے طبقات کی نمائیندگی کرنے والے جالب کی اپنی زندگی بھی عسرت زدہ ہی گزری اور کسی برسر اقتدار طبقے نے انکی مالی حالت بہتر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی اور حد تو یہ کہ اب جالب کی بیٹی طاہرہ ایک بہت چھوٹے سے معمولی گھر میں رہتی اور گزر بسر کے لیئے ٹیکسی چلاتی ہے لیکن سرکاری ادبی ادارے یہ سب جانتے ہوئے بھی اپنی آنکھیں اور کان بند کیئے ہوئے ہیں

 جالب نے محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ سیاسی اعتبار سے وہ نیشنل عوامی پارٹی سے منسلک رہے اور انہوں نے عمر کا بیشتر حصہ اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر بسر کیا۔ انہوں نے ہر عہد میں سیاسی اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں ان کی نظم’ ’لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو“ ضیاءالحق کے دور میں’ ’ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا“ اور بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ان کی نظم ”وہی حالات ہیں فقیروں کے، دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے“ نے پورے ملک میں مقبولیت اور پذیرائی حاصل کی

جالب کی یدائش: 1928ء

اردو شاعر۔ دسوہہ ضلع ہوشیار پور ’’بھارتی پنجاب‘‘ میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عربک ہائی سکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ 15 سال کی عمر سے مشق سخن شروع کی ۔ ابتدا میں جگر مراد آبادی سے متاثر تھے اور روایتی غزلیں کہتے تھے۔ آزادی کے بعد کراچی آگئے اور کچھ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ یہیں ان میں طبقاتی شعور پیدا ہوا اور انھوں نے معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بیایا۔ 1956ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔ ایوب خان اور یحیی خان کے دور آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھلیں۔ نظموں کے پانچ مجموعے ۔ برگ آوارہ ، سرمقتل ، عہد ستم ، ذکر بہتے خون کا ، گوشے میں قفس کے ۔ شائع ہو چکے ہیں۔

حبیب جالب کی سیاسی شاعری آج بھی عام آدمی کو ظلم کے خلاف بے باک آواز اٹھانے کا سبق دیتی ہے۔ اکتوبر 1999 میں جب اس وقت کے حکمراں جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو مشرف کے سیاسی مخالفین کے جلسوں میں حبیب جالب کی شاعری دلوں کو گرمانے کے لیے پڑھی جاتی تھی۔

حق بات پہ کوڑے اور زنداں
باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں
خوں خوار درندے ہیں رقصاں

ہر شام یہاں شام ویراں
آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دھن میں نکلے تھے
وہ شہر دل برباد کہاں

صحرا کو چمن
بن کو گلشن
بادل کو ردا کیا لکھنا

اے میرے وطن کے فن کاروں
ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سروں کے باسی
قاتل ہیں سبھی اپنے یاروں

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا
اس غم کو نیا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا، صر صر کو صبا
بندے کو خدا کیا لکھنا

اس ظلم و ستم کو لطف و کرم
اس دکھ کو دوا کیا لکھنا

میں، محسن نقوی اور اصغر ندیم سید ایک زمانے تک اکٹھے کالج اور یونیورسٹی اور پھر عمومی مشاعروں میں جاتے رہے ہیں اور محسن کے قتل کے بعد جیسے یہ مثلث بکھر گئی۔ لیکن حبیب جالب ہم سب کا آئیڈل رہا ہے۔چند سال پہلے اصغر ندیم نے جالب پر جو مضمون لکھا تھا وہ آج کے حالات میں بھی اسی طرح تازہ ہے۔ اصغر ندیم نے لکھا تھا۔

‘‘آج اگر حبیب جالب ہوتے تو یہی کہتے کہ یہاں انقلاب نہیں آ سکتا۔ مزدوروں اور غریبوں کی حکومت کبھی نہیں آ سکتی۔ اس کے ساتھ ہی وہ مخدوم امین فہیم کی حمایت کرتے کہ ان کے اس خاندان سے دیرینہ مراسم تھے۔ وہ آج کی اسمبلی کو دیکھ کر کہتے کہ بھٹو صاحب کی 1970ء کی اسمبلی میں مڈل کلاس اور کسی حد تک عام آدمی کی نمائندگی موجود تھی اور ایک سیاسی کارکن سوچ سکتا تھا کہ اگر وہ کام کرے گا تو اسے اسمبلی تک پہنچنے کے مواقع ملتے رہیں گے ۔ لیکن 2008ء کی اسمبلی ظاہر کرتی ہے کہ اب مڈل کلاس اور عام آدمی کی رسائی اسمبلی تک ممکن نہیں رہی۔ اسمبلی کے سامنے ممبران جن قیمتی گاڑیوں سے اترے وہ ثابت کرتی ہیں کہ صرف ایک ہی مراعات یافتہ طبقہ اسمبلی میں بیٹھ کر عوام کی قسمت کے فیصلے کرے گا۔ جس اسمبلی کے ممبران اپنے لئے بلٹ پروف گاڑیوں کی منظوری کے لئے بے چین ہوں وہ اسمبلی عوامی مفاد میں کیا کیا فیصلے کرے گی۔ عوام کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ حکومت مہنگائی کے لئے کیا اقدامات کرتی ہے۔ بے شک ہر ممبر بلٹ پروف ہو جائے کہ ان کی زندگی قیمتی ہے، عام آدمی بم دھماکوں کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کے لئے سڑکوں پر موجود ہیں۔ بلٹ پروف ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو کیا کیا بلٹ پروف کریں گے۔ ایک ہی دفعہ پورے ملک کو بلٹ پروف کر دیا جائے لیکن اس کے لئے ان طاقتوں کا پتہ لگانا پڑے گا اور پھر ان سے مذاکرات کرنے پڑیں گے جو بم دھماکوں میں ملوث ہیں۔ خدا کرے یہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونے کو اپنے لئے سعادت سمجھے۔ اور یہ بھی جان لے کہ حبیب جالب ابھی زندہ ہے اور ان کے خلاف نظمیں لکھ سکتا ہے کیونکہ وہ مسائل ابھی زندہ ہیں جن کے خلاف حبیب جالب شاعری ۔۔کرتا تھا‘‘؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

مجھے معلوم نہیں کتنے لوگوں نے اسے یاد کیا ہو گا۔ سچ پوچھیں تو وہ بھلائے جانے والا فرد نہیں کیونکہ اب یہ طے ہو چکا کہ نہ ہمارے حالات بدلیں گے اور نہ حبیب جالب کے شعر پرانے اور بےاثر ہوں گے۔
ایوب خان سے لیکر بے نظیر اور اب زردارئ عہد تک اور پھر نواز شریف عہد میں بھی اُس نے کسی کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اس ملک میں بھیڑ بکریوں سے بھی بدتر قسمت کے عوام کی جو حالت جیسے دیکھی اُسی طرح لکھ دی۔
ہم نے جو بھول کے بھی شہ کا قصیدہ نہ لکھا
شاید آیا اسی خوبی کی بدولت لکھنا
یا پھر
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں تو بس وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
حبیب جالب کو کوئی جیل،کوئی بندوق کوئی دھمکی کبھی نہیں ڈرا سکی۔اس کے پاس کسی تمغہ حسنَ کارکردگی یا تمغہ امتیاز کی نہیں سچ اور صرف سچ کی طاقت تھی۔ کسی لالچ،کسی پیشکش کسی تحریص نے اسے اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ ایسے عظیم اور انقلابی فکر اور سوچ کے ساتھ ساتھ عمل کرنے والے شاعر کے ساتھ مجھ جیسے طالب علم کوبھی کچھ مشاعروں میں پڑھنے کی عزت ملی۔ یہ وقت نہیں ہے کہ میں جالب کے ذکر سے اپنے بونے قد کو بلند کرنے کی کوشش کرؤں۔ یہ ذکر تو فقط یاد کے حوالے سے آیا۔ اسوقت بات صرف جالب کی ہو گی اور وہ بھی اس کی ایک ایسی نظم کی صورت میں جو آج بھی اسی طرح تروتازہ ہے جس طرح پہلے روز تھی کیونکہ ہمارے نہ حکمران بدلے اور نہ ہمارے حالات۔

صفدر ھمدانی
لیجیئے میں آپ اور حبیب جالب کے درمیان سے ہٹتا ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY