یہ فروری 2018 موسم بہار کی بات ہے. کہ پھول کھلے تھے. پات ہرے تھے. اور یہ پیام باد بہاری بن کر دل کی کلی کھلا گیا. کہ عزیزی دوست ڈاکٹر نگہت نسیم ‘محترم صفدر علی ہمدانی صاحب اور شاہین اشرف علی ٹیکسلا تشریف لارہے ہیں.
نگہت نے مجھے سارا پروگرام بھجوا دیا تھا. ایبٹ آباد سے ہم ٹیکسلا پہنچے ساری کھٹنایاں عبور کرتے ہوئے – تقریب میں ابھی کافتقریب شروع ہونے میں ابھی کافی وقت تھا. ٹیکسلا کے ایک گھر میں جہاں میں بہ دقت تمام پہنچی تھی –شاہین اشرف علی بخارمیں مبتلا سورہی تھیں -محترم صفدر علی ہمدانی باہر مردانے میں محفل سوز و سلام کے روح رواں تھے -تو مجھے اورنگہت کو گپ شپ کے لئے کافی وقت مل گیا -جو ایسے موقعوں پر ہمیشہ ناکافی معلوم ہوتا ہے
باتوں کی فروانی اور روانی میں چائے ٹھنڈی ہوگئ -(کاش یہ گفتگو ریکارڈ کرلیتی )اس گفتگو میں یوں تو بہت سے موضوعات آئے -مگر گفتگو کا مرکز ومحور صفدر علی ہمدانی صاحب رہے (جنہیں نگہت بابا صاحب کہہ رہی تھیں-)بابا صاحب سے پہلی ملاقات، خیالات ونظریات میں تبدیلی ان کی راہنمائی، علمی استفادہ،علمی وادبی سرگرمیوں کے محرک، تو نگہت کی اس عقیدت و محبت بھری گفتگو سےباباصاحب کی تصویر تصور کے پردے پر ابھری. کچھ دیر بعد جب بابا صاحب اندر آئے تو سفید بالوں وداڑھی کے ساتھ نورانی چہرہ، عینک کے پیچھے سے چمکتی زہانت وزکاوت بھری آنکھیں، لبوں پر تبسم لئےگھر کے اندر آئے تو ہماری خیالی شبیہہ اور نگہت کی باتوں سے بڑھ کر نظر آئے. مہربان، باوقار ومشفق ،پھر رات گئے نگہت نسیم اور شاہین اشرف علی کی کتابوں کی تقریب اجرا کے اختتام پر بابا صاحب کی شاعری وتقریر حاصل تقریب تھی -جس سے ان کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا –
اولین ناشر پاکستان،
شاعر ہفت زباں، مرثیہ گو ثنا خوان اہل بیت مصطفی علی ہمدانی کے فرزند ارجمند ہیں -مزید یہ کہ دبستان پشاور کے نامور شاعر ادیب فارغ بخاری ان کے ماموں رضا ہمدانی، خالوتھے -گویا ہمہ خانہ آفتاب است
بابا صاحب بجا طور پر علمی و ادبی خانوادے کے قابل فخر نمائندہ ہیں -آاوراسلاف کی تمام خوبیوں سے متصف!
ادب، شاعری، نشریات کی دنیا کی معروف شخصیت بےباک صحافت کے علمبردار، عالمی اخبار کے ایڈیٹر جناب صفدر علی ہمدانی کی گوناگوں خوبیوں اور خدمات کا یہ مختصر مضمون احاطہ نہیں کر سکتا -میں آج اپنے حوالے سے ان کی وسیع القلبی اور شفقت ومحبت کا ذکر لکھنے بیٹھی تومیں ان کی جس خوبی سے متاثر ہوں -اور جس کا بطور خاص ذکر کرنا چاہتی ہوں -وہ ان کی وسیع القلبی اور دوسروں کی آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے -انہیں ترغیب دلانا ہے -وہ بجا طور پر علم و عمل کا وہ آفتاب ہیں -جس کی کرنیں بہت سارے لوگوں کو روشن وتابندہ کرتی ہیں
اس لئے میں انہیں شجر سایہ دار کہتی ہوں –
دوسروں کے لئے نافع ومددگار
میں نے عالمی اخبار میں لکھنا شروع کیا -تو حسب عادت اپنی ڈائری میں رف لکھ کر پھر موبائل پر لکھتی -ایک دفعہ میں نے انہیں لکھا کہ آپ اس تحریر کو پڑھ لیں پسند آئے تو شامل کریں. انہوں نے پھر فون پر بات کرتے ہوے کہا کہ میں نےآپ کو پہلے بھی بتایا تھا. کہ میں پڑھے بغیر آپ کی تحریر شامل کر کے بعد میں پڑھتا ہوں -تین لوگ ایسے ہیں. کہ جن کی تحریر بغیر پڑھے شامل کرتا ہوں -شمس جیلانی. نگہت نسیم اور آپ ،اس جملے نےمجھے نہال کردیا -میں تو بچپن سے لکھتی رہی ہوں -پہلی کہانی جنگ اخبار کے بچوں کے صفحے پر چھپی. پھر بعد میں لکھتی تو رہی. مگر چھاپنے کے بکھیڑوں س دورہی رہی.اس ایک جملے نے میرے اندر ایسی توانائی اوراعتماد بھرا کہ میں نے رف لکھنا ہی چھوڑ دیا
موبائل اٹھاتی اور لکھنا شروع کر دیتی. بابا صاحب فورا”عالمی اخبار میں شامل کرلیتے -آخر انہیں کہنا پڑا بس ہفتے میں ایک مضمون یوں لکھتے لکھتے ایک پوری کتاب کا مواد تیار ہوگیا -پھر انہوں نے ہی خود نوشت لکھنے کی ترغیب دلائی ہمت بندھائی – یوں عالمی اخبار میں ہفتہ وار ایک قسط چھپنے کا سلسلہ شروع ہوگیا -جس پر گاہے بگاہے وہ تبصرہ وتعریف کرتے رہے -پرانے کھانوں اورمتروک کرداروں کے بارے میں لکھا تو تلقین کی کہ ایک قسط اور اسی موضوع پر لکھوں -ایک دن کہنے لگے آپ کی کلاس میں کتنی لڑکیاں تھیں. میں نے کہا اس وقت ایک ہی تو ہائی سکول تھا.50یاااس سے بھی زیادہ
کچھ توقف کے بعد بہت رسان سے بولے دیکھو اتنے لوگوں میں اللہ نے ایک پورے دور کی ترجمانی کے لئے آپ کو چنا. -بابا صاحب بہت زیادہ تعریف کرنے والے نہیں مگر ایک ایسا امید افزا حوصلہ افزا جملہ کہہ دیتے کہ کام کی لکھنے کی نئی امنگ و ولولہ بیدار ہو جاتا -سو اسی طرح 30 قسطیں لکھ ڈالیں کہ قلم (موبائل والا )اٹھاتی اور لکھنا شروع کر دیتی اکثر زہن میں رکھے ہوئے واقعات دھرے کے دھرے رہ جاتے اورجانے کہاں کہاں سے لاشعور میں دبے قصہ ء پارینہ نکلتے چلے آتے -میں قلم کو اس کی مرضی پر چھوڑ دیتی -تو یوں آمد کی ایک کیفیت میں 30 قسطیں لکھیں -مقصد یہاں اپنی مدح سرائی نہیں -آپ کو یہ سب بتانا کہ دیکھیں ان کے خلوص دل سے کہے ہوئے ایک دو جملوں نے مجھے کتنا پر اعتماد بنایا -کیسی تقویت بخشی -اس طرح کابرتاو بہت اعلی ظرفی وبڑے پن کا مظہر ہے -اس لئے میں ہر دفعہ انہیں شجر سایہ دار کہتی ہوں –
پھر 2020 میں وہ پاکستان آئے ایک ماہ کے لیے تو عالمی اخبار میں شامل مضامین پر مشتمل کتاب کا مسودہ تیار تھا. میری خواہش تھی کہ میری کتاب جس کے لانے میں ان کی کاوشوں کا عمل دخل تھا اس کی تقریب رونمائی ان کے سامنے ہو -وہ رضامند تو ہو گئے آنے کو مگر انہیں تامل تھا کہ اتنے قلیل وقت میں کتاب کا آنا مشکل ہے
بے شک یہ مشکل بلکہ بہت مشکل تھا مگر جہاں چاہ وہاں راہ دوستوں کی محبت وخلوص سے ہر مشکل آسان ہوئی اور لاہور سے شاہین اشرف علی، اشرف بھائی اورمحترم صفدر ہمدانی صاحب تشریف لائے -ایبٹ آباد کی پہاڑی پر بنے خوبصورت گیسٹ روم میں 9 مارچ کو “کہکشاں ہے یہ مرے خوابوں کی تقریب رونمائی میں بابا صاحب مہمان خصوصی تھے -باہر بارش اور سردی تھی اندر ہال میں پھولوں کے گلدستے اور محبت کی خوشگوار حدت تھی’-اپنی تقریر میں ان کے کہے گئے توصیفی کلمات کے علاوہ ان کا یہ جملہ (شاہین اشرف علی، ڈاکٹر نگہت نسیم اور بابا صاحب کی برسوں پرانی دوستی ہے )کہ اپنی دوستی کی اس مثلث میں مجھے بھی شامل کرکے کہا کہ ہم چاروں سہلیاں ہیں-تو اس طرح کے جملوں سے وہ دوسروں کو عزت دیتے اورمان بڑھاتے ہیں.
برسبیل تذکرہ یہ سب بھی آگیا -سترہ نومبر ان کی70ویں سالگرہ ہے -اور ان کے جنم دن پر بہت سے لوگوں نے ان کی علمی و ادبی خدمات پر بات کی -اس لئے میں ان علمی و ادبی خدمات سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی شخصیت، خلوص، محبت اور عمل کے حوالے سے یہ سب تحریر لکھی کہ وہ صرف بڑے شاعر ہی نہیں بڑے انسان ہیں -دوسروں کو مان، عزت، اعتماد دینے والے -درویش، صوفی اور من موجی انسان
اللہ انہیں صحت وایمان کے ساتھ تادیر سلامت رکھے اور سرسبز و شاداب رکھے
میرے لکھے الفاظ کو فرشتے بطور گواہی لکھ لیں-جو انہیں سخت گھاٹی پر کام آئیں -اور وہ شجر سایہ دار بنے رہیں -💞💞💞
تشکر بسیار وڈھیروں دعاوں کے ساتھ
نصرت نسیم













