پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے ایک کار پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 4 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
ساہیوال کے قریب قادر آباد کے علاقے میں جی ٹی روڈ پر پیش آنے والے اس واقعے کے فوری بعد ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گرد تھے جبکہ ان کے قبضے سے 3 بچے بھی بازیاب کروائے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گردوں کے سہولت کار تھے، تاہم پنجاب پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔
وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِاعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے اس کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس امجد جاوید سلیمی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کو ارسال کردی گئی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارے جانے والے افراد دہشت گردوں کے سہولت کار تھے۔
ادارے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ان کے ساتھی بھی موجود تھے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جن کا تعلق دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے جن کی شناخت شاہد جبار اور عبدالرحمٰن کے نام سے ہوئی ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ دہشت گرد سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث دہشت گردوں کے ساتھی تھے۔
خیال رہے کہ 15 جنوری کو فیصل آباد میں ایک گھر میں سی ٹی ڈی پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے 2 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو ہلاک کردیا تھا۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مارے جانے والے افراد سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغوا میں ملوث تھے.
مذکورہ کار میں سوار ایک بچہ بھی زخمی ہوا تھا جس نے ہسپتال میں بیان دیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور جارہا تھا کہ اچانک ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی۔
بچے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے والد کا نام خلیل احمد ہے اور وہ گاڑی چلا رہے تھے.
اس نے یہ بھی بتایا کہ کار میں مارے جانے والے افراد میں اس کے والدین بھی شامل تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی جانب سے کار پر فائرنگ کی گئی جبکہ کار میں سے جوابی فائرنگ اور مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد کو جب گاڑی سے باہر نکالا جارہا تھا تو اس وقت کسی قسم کے ہتھیار بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔












