عراق میں عام انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

0
73

عراق کی پارلیمان ایک مرتبہ پھر آیندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے وزیراعظم حیدر العبادی کی تجویز کردہ 12 مئی کی تاریخ کی منظوری دینے میں ناکام رہی ہے۔

پارلیمان کے سنی اور کرد ارکان نے عام انتخابات کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے بہ قول داعش کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے ہزاروں ،لاکھوں افراد کی آبائی علاقوں میں واپسی ہوسکے اور بھی عام انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں۔

وزیراعظم حیدر العبادی سمیت شیعہ سیاست دان عام انتخابات کے 12 مئی ہی کو انعقاد پر اصرار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر انھیں مؤ خر کیا گیا تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

عراق کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بغداد میں ایوان کے اجلاس کے بعد اسپیکر سلیم الجبوری نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پارلیمان سوموار کو آیندہ انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کی منظوری دے دے گی۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ انتخابات کو مؤخر کرنے سے ایک خطرناک مثال قائم ہوگی ،اس سے آئین کو نقصان پہنچے گا اور عراق میں ہونے والی طویل المیعاد جمہوری پیش رفت بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے‘‘۔

دریں اثناء ہفتے کے روز عراقی وزیراعظم حیدر العبادی سے بغداد میں نیم خود مختار علاقے کردستان کے وزیراعظم نوشیرواں بارزانی نے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان شمالی عراق میں کردستان کی آزادی کے نام پر 25 ستمبر 2017ء کو منعقدہ متنازع ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد یہ پہلی ملاقات ہے۔

اس ریفرینڈم میں 90 فی صد سے زیادہ کرد ووٹروں نے خود مختار کردستان کی آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن عراقی حکومت نے اس ریفرینڈم اور اس کے نتائج کو مسترد کردیا تھا اور عراقی سکیورٹی فورسز نے کرد فورسز کو کرکوک شہر اور اس سے ملحقہ دوسرے علاقوں سے نکال باہر کیا تھا اور ان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY