ان میں سے اگر ایک جز کوالگ کرو وگے تو اسلام نامکمل رہےگا۔ اور صاحبﷺ قرآن کے بھی دو حصے ہیں ایک حصہ وہ ہے جو انہوں ﷺ نے عمل کر کے دکھایا اس میں بھی اختلافات ہیں مثلاً کبھی انہوں ﷺ نے ہاتھ چھوڑ کر اورکبھی ہاتھ باند ھ کر نماز پڑھی اور کبھی سینے پر ہاتھ رکھ کر بھی پڑھی لہذا ان میں سے جو فرقہ جس کو اختیار کیئے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ پر درست ہے۔ دوسرا حصہ جو ہے وہ احادیث پرمشتمل ہے۔ اس کا اتباع بہت ضروری ہے کیونکہ اس میں حکمت کا خزانہ ہے اور خزانہ بھی ایسا کہ انہوںﷺ نے کوئی شعبہ حیات بغیر ہدایت کےنہیں چھوڑا ہے ان میں میں سے کسی کو چھوڑا نہیں جا سکتا اگر امت چھوڑے گی تو اپنا ہی نقصان کریگی؟۔ آجکل یہ عام فیشن چل گیا ہے کہ جہاں کسی نے حدیث سنائی فوراً کہدیتے ہیں صرف سنے سنائے پرو پیگنڈے بناپر کہ یہ ضعیف بھی ہوسکتی ہے؟ حدیث کے سلسلہ میں حضور ﷺ نے پرکھنے کی پہچان یہ بتائی ہے کہ جو حدیث قرآن سے ٹکراتی ہو وہ کہنے والے کے منہ پر مار دو؟ ایسی حدیثیں بہت کم کہیں شاذ ہی ملیں گی جوتعداد میں نہ ہونے کے برابر ہیں عموماً صحا ح ستہ میں نہیں ملتی ہیں وہ پہلے ہی آئمہ کرام نے نکالدی ہیں۔ جبکہ ضعیف بہت زیادہ ہیں وہ سب نے استعمال بھی کی ہیں صفحے کہ صفحے لکھ کر آخر میں لکھ دیا ہے کہ یہ ضعیف ہے یا یہ کہ یہ فلاں کی نگاہ میں ضعیف ہے؟ کبھی کبھی نہیں بھی بتا ئی ہے؟ ان میں سب سے زیادہ اس بنا پر ضعیف قرار دی گئی ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مثلاً اس کا ایک راوی“ اہل ِ تشیع میں سے ہے یا اس کااستاد بھی ضعیف ہے“ ظاہر ہے کہ اس کا استاد بھی اس کےاپنے اپنے ہی فرقہ سے ہوگا؟ مگر اس بنا پر کسی حدیث کوضعیف قرار دینا مناسب نہیں ہے؟ فرقہ واریت کی ترازو سے نکل کر دیکھا جا ئے تو نا انصافی ہے؟ کیونکہ فرقہ کی بنا پر کسی کی شہادت رد نہیں کی جا سکتی؟ جو اسے کلمہ پڑھنے سے حاصل ہوئی ہے اسے صرف اسلامی حکومت طے کر سکتی ہے جو کہ اب دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے یا پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ روز ِ قیامت فیصلہ فر ما ئے گا۔ اس سلسلہ میں، میں حضرت علیؓ کا قول ایک دلیل کی طور پر پیش کرتا ہوں۔ کہ ًکسی نےان سے پوچھا یہ سب کچھ جو ہم اور آپ کر رہے ہیں نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ ان کا جواب تھا کہ اگرہوا تو پھر تم وہاں کیا کروگے؟ بالکل یہ ہی معاملہ احادیث کا ہے۔ کہ وہ ردتو کر کسی بنا پردی ہے لیکن اگر وہ صحیح ہوئی تو حضور ﷺ کی نافر مانی کی سزا بھگتنا پڑیگی؟ اور اگر عمل کرلیا جو نیک نیتی سے کیاتھا۔ تو انشا ء اللہ، اللہ تعالیٰ باز پرس نہیں فرما ئے گا۔سوا ئے اس نقصان کے جو وقت یا جو مال خرچ ہوا ہوجوکہ ایسی اہم بات نہیں ہے چونکہ دلوں کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے باقی کوئی نہیں جانتا ہے۔ اس لیئے اس کا فیصلہ بہت اہم ہے جو بہ روز ِ قیامت ہوگا۔ میری اس بحث کا مقصد یہ ہے کہ ہر حدیث کو عزت دیں اس پر عمل کریں اس کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں تو کیا یہ دین کے لیئے بہتر نہیں ہوگا؟ میں کوئی رائے نہیںدے رہا ہوں صرف اس پر غور کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو ہدا یت دے (آمین)ِؒ













