سید السجادین حضرت امام زین العابدین ۔ پانچ شعبان یوم ولادت

0
206

ولادت
آسمان ولايت كے چوتھے درخشاں ستارے امام على بن الحسين حضرت امام زين العابدين علیہ السلام _كى پيدائش پانچ شعبان 38 ھ كو شہر مدينہ ميں ہوئي_
ت
فاطمہ کا چاند حسین ابن علی _آپ كے والد وہ فاطمہ کا چاند حسین ابن علی علیہ السلام اور ايران كے بادشاہ يزدگرد كى بيٹى آپ كى مادر گرامى ہيں_ آپ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى ولادت اميرالمؤمنين (علیہ السلام) كى شہادت سے دو سال پہلے ہوئي نقريباً 23 برس تك اپنے والد بزرگوار كے ساتھ رہے_
اخلاقى خصوصيتيں

حضرت امام زين العابدين علیہ السلام انسانيت كى خصوصى صفات اور نفس كے كمالات كا مكمل نمونہ تھے_ مكارم اخلاق اور ستم رسيدہ و فقراء كى دستگيرى ميں آپ كے مرتبہ كا كوئي نہ تھا_ اب آپ كے اخلاق و عادات كا تذكرہ كيا جاتا ہے_
_ آپ(ع) سے متعلق افراد ميں سے ايك شخص نے لوگوں كے مجمع ميں آپ كى شان ميں ناروا كلمات كہے اور چلاگيا_ امام چند لوگوں كے ساتھ اس كے گھر گئے اور فرمايا تم لوگ ہمارے ساتھ چلو تا كہ ہمارا بھى جواب سن لو_
راستہ ميں آپ مندرجہ ذيل آيت، جس ميں كچھ مؤمنين كے اوصاف عالى كا تذكرہ ہے، پڑھتے جاتے تھے_
” و الكاظمين الغيظ و العافين عن الناس و اللہ يحب المحسنین“

نرمی سے ہر اک سخت کلامی کو مٹایا
دل جس نے دکھایا اُسے پہلو میں بٹھایا
غم جس نے دیا اس کو کلیجے سے لگایا
سر کاٹنےوالے کو اخی کہہ کے بلایا
جو صورت گل موت کے سعلوں پہ کھلے گا
وہ حوصلہ سجاد کے سینے میں ملے گا

” وہ لوگ جو اپنا غصہ پى كر لوگوں سے درگذر كرتے ہيں اور خدا نيكو كاروں كو دوست ركھتا ہے”_
جب اس آدمى كے گھر كے دروازہ پر پہنچے اور امام علیہ السلام نے اس كو آواز دى تو وہ اس گمان ميں اپنے كو لڑنے كے لئے تيار كركے باہر نكلا كہ امام علیہ السلام گذشتہ باتوں كا بدلہ لينے آئے ہيں_ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے فرمايا: ميرے بھائي تو تھوڑى دير پہلے ميرے پاس آيا تھا اور تو نے كچھ باتيں كہى تھيں، جو باتيں تونے كہى ہيں اگر وہ ميرے اندر ہيں تو ميں خدا سے بخشش كا طلبگار ہوں اور اگر نہيں ہيں تو خدا سے ميرى دعا ہے كہ وہ تجھے معاف كردے_
امام زين العابدين علیہ السلام كى غير متوقع نرمى نے اس شخص كو شرمندہ كرديا وہ قريب آيا اور امام زين العابدين علیہ السلام كى پيشانى كو بوسہ ديكر كہا :” ميں نے جو باتيں كہيں وہ آپ ميں نہيں تھيں اور ميں اس بات كا اعتراف كرتا ہوں كہ جو كچھ ميں نے كہا تھا ميں اس كا زيادہ سزاوار ہوں”_
_ زيد بن اسامہ حالت احتضار ميں بستر پر پڑے ہوئے تھے سيد سجادامام زين العابدين علیہ السلام ان كى عيادت كے لئے ان كے سرہانے تشريف لائے ،ديكھا كہ زيد رو رہے ہيں آپ نے پوچھا آپ كيوں رو رہے ہيں، انہوں نے كہا پندرہ ہزار دينار ميرے اوپر قرض ہے اور ميرا مال ميرے قرض كے برابر نہيں ہے_ امام زين العابدين علیہ السلام نے فرمايا: ” مت رويئے آپ كے قرض كى ادائيگى ميرے ذمہ ہے”_ پھر جس طرح آپ نے فرمايا تھا اسى طرح ادا بھى كرديا_
_ راتوں كو امام زين العابدين (ع)مدينہ كے بے سہارا اور ضرورت مندوں ميں اس طرح روٹياں تقسم كرتے تھے كہ پہچانے نہ جائيں اور ان لوگوں كى مالى امداد فرماتے تھے_ جب آپ كا انتقال ہوگيا تب لوگوں كو پتہ چلا كہ وہ نامعلوم شخصيت امام زين العابدين (ع)كى تھي_ آپ كى وفات كے بعد يہ معلوم ہوا كہ آپ ايك سو خاندانوں كا خرچ برداشت كرتے تھے اور ان لوگوں كو يہ نہيں معلوم تھا كہ ان كے گھر كا خرچ چلانے والےحضرت امام زین العابدین علیہ السلام ہيں_

سجاد ہے گلزار امامت کا مقدر
سجاد ہے باقی ہے سریعت کا گل تر
تقدیر حرم آدم اولاد پیمبر
صجاد ہے عازور کے اسلام کا محور
اب تک جو شہیدون کے اجلوں کی سھر ہے
سجادّ کے اعجاز تحمل کا آثر ہے

_ امام محمد باقر علیہ السلام _فرماتے ہيںكہ:” ميرے پدر بزرگوار نماز ميں اس غلام كى طرح كھڑے ہوتے تھے جو اپنے عظيم بادشاہ كے سامنے اپنے پيروں پر کھڑا رہتا ہے_ خدا كے خوف سے لرزتے رہتے اور ان كا رنگ متغير ہوجاتا تھا اور نماز كو اس طرح ادا كرتے تھے كہ جيسے يہ ان كى آخرى نماز ہو_ 8
حضرت سجادامام زين العابدين علیہ السلام كى عظمت

آپ كى شخصيت اور عظمت ايسى تھى كہ دوست دشمن سبھى متاثر تھے_
يزيد ابن معاويہ نے واقعہ ” حرّہ” 9 كے بعد حكم ديا كہ تمام اہل مدينہ غلام كے عنوان سے اس كى بيعت كريں اس حكم سے اگر كوئي مستثنى تھا تو وہ صرف امام على بن الحسين _تھے_
ہشام بن عبدالملك _ اموى خليفہ _ حج ادا كرنے كے لئے مكہ آيا تھا، طواف كے وقت لوگوں كا ہجوم ايسا تھاوہ حجر اسود كااستلام نہ كرسكا
مجبوراً ايك طرف بيٹھ گيا تا كہ بھيڑ كم ہوجائے_ اسى وقت امام زين العابدين علیہ السلام مسجد الحرام ميں داخل ہوئے_ اور طواف كرنے لگے لوگوں نے امام زين العابدين علیہ السلام كے لئے راستہ چھوڑ ديا_ آپ نے بڑے آرام سے حجر اسود كو بوسہ ديا _ہشام آپ كے بارے ميں لوگوں كا احترام ديكھ كر بہت ناراض ہوا_ شام كے رہنے والوں ميں سے ايك شخص نے ہشام سے پوچھا كہ يہ كون تھے جن كو لوگ اتنى عظمت دے رہے تھے؟ ہشام نے اس خوف سے كہ كہيں اس كے ساتھ والے امام زين العابدين علیہ السلام كے گرويدہ نہ ہو جائيں جواب ديا كہ :” ميں ان كو نہيں پہچانتا”
حريت پسند مشہور شاعر فرزدق بے جھجك كھڑے ہوگئے اور كہا” ميں ان كو پہچانتا ہوں” اس كے بعد ايك طويل قصيدہ امام زين العابدين علیہ السلام كى مدح و عظمت اور تعارف ميں پڑھ ڈالا_
اشعار اتنے مناسب اور ہشام كے لئے ايسا طماچہ تھے كہ اموى خليفہ شدّت ناراضگى كى بنا پر ردّ عمل پر آمادہ ہوگيا_اس نے حكم ديا كہ فرزدق كو قيد خانہ بھيجديا جائے_

تاریخ کے آواز پہ پہتے ہوئے آنسو
لفظوں میں بسا لائے غم و درد کی خوشبو
یاد ائے اسیروں کی مصیبت کے وہ پہلو
صحرا کی تبش احمد مختار کے مہرو
کونین میں جو مصدر ایمان نظر آئے
مقتل میں وہی جاک گریباں نظر آئے

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام جب اس واقعہ سے مطلع ہوئے تو آپ نے صلہ كے طور پر فرزدق كے پاس كچھ بھيجا فرزدق نے ان درہموں كو واپس كرديا اور كہلوا بھيجا كہ ميں نے يہ اشعار خدا و رسول(ص) كى خاطر پڑھے تھے_ امام زين العابدين علیہ السلام نے فرزدق كے خلوص نيت كى تصديق كى اور دوسرى بار پھر وہ درہم فرزدق كو بھيجے اور ان كو قسم دى كہ قبول كرليں_ فرزدق نے ان كو قبول كرليا اور مسرور گيا_ يہاں چند اشعار كا ترجمہ نمونہ كے طور پر پيش كرتے ہيں:_
ا_ ” اے سوال كرنے والے تو نے مجھ سے جود و سخا اور بلندى كے مركز كا پتہ پوچھا ہے، تو اس كا روشن جواب ميرے پاس ہے_”

ب_” يہ وہ ہے كہ مكہ كى سرزمين جس كے نقش قدم كو پہچانتى ہے، خانہ كعبہ ،حرم خدا اور حرم سے باہر كى زمين پہچانتى ہے_”

ج_ ” يہ اس كے فرزند ہين جو بہترين خلائق ہيں، يہ پرہيزگار، پاكيزہ، اور بلندحشم ہيں”

د_” يہ وہ ہيں كہ پيغمبراکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گرامى ”حضرت احمد(ص) ” جن كے جد ہيں”_

ھ_ ”اگر ركن جان جاتا كہ اس كو بوسہ دينے كيلئے كون آرہا ہے تو وہ بےتاب ہوكر اپنے كو زمين پر گرا ديتا تا كہ اس كى خاك پاكو چوم لے”_

و_” ان بزرگوار كا نام ” على علیہ السلام ” ہے پيغمبر اکرام (ص) خدا ان كے جد ہيں_ ان كى روشنى سے امتوں كى راہنمائي ہوتى ہے …”

سید الساجدین حضرت امام زين العابدين علیہ السلام اور پيغام عاشورا
واقعہ كربلا كے بعد امام حسين علیہ السلام كے بيٹوں ميں سے صرف آپ ہى زندہ بچے تھے_ اپنے پدر عاليقدر كى شہادت كے بعد دسويں محرم 61 ھ كو آپ امام زين العابدين علیہ السلام نے امامت و ولايت كا عہدہ سنبھالا اور شہادت كے دن تك يزيد بن معاويہ، معاويہ بن يزيد، مروان بن حكم، عبدالملك بن مروان اور

وليد بن عبدالملك جيسے زمامداران حكومت كا زمانہ آپ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے ديكھا_
حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى امامت كا دور اور معاشرہ ميں حكومت كرنے والے اس زمانہ كے سياسى حالات تمام ائمہ كى زندگى ميں پيش آنے والے حالات سے زيادہ دشوار اور حساس تھے _ سيرت و روش پيغمبر اکرام (ص) سے انحراف، حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كے زمانہ ميں اپنے بام عروج پر تھا_ اور اس كى شكل بالكل صاف نظر آتى تھي_
حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى روش ان كى امامت كے زمانہ ميں دو حصوں ميں تقسيم كى جاسكتى ہے_
: اسيرى كا زمانہ ب: اسيرى كے بعد مدينہ كى زندگي
:كربلا كے جاں گداز واقعہ ميں حضرت امام زين العابدين علیہ السلام اپنے بزرگوار كے ساتھ تھے_ خدا كے لطف و كرم نے دشمن كے گزند سے محفوظ ركھا ليكن باپ كى شہادت كے بعد اسير ہوگئے اور دوسرے لوگوں كے ساتھ كوفہ اور شام تشريف لے گئے_
اس ميں كوئي شك نہيں كہ اہل بيت امام حسين علیہ السلام كا اسير ہونا _ آپ كے مقدس انقلاب كو كاميابى تك پہنچانے ميں بڑا مؤثر ثابت ہوا_ چوتھےحسینّ بن علی ّ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے اسيرى كے زمانہ ميں ہرگز تقيہ نہيں كيا اور كمال بردبارى اور شہامت كے ساتھ تقريروں اور خطبوں ميں واقعہ كربلا كو لوگوں كے سامنے بيان فرمايا اور حق و حقيقت كا اظہار كرتے رہے_ مناسب موقع پر خاندان رسالت كى عظمت كو لوگوں كے كانوں تك پہنچاتے رہے، اپنے پدربزرگوار كى مظلوميت اور بنى اميہ كے ظلم و ستم اور بے رحمى كو لوگوں كے سامنے واضح كرتے رہے_
حضرت امام زين العابدين علیہ السلام با وجود اس كے كہ اپنے باپ كى شہادت كے وقت بيمار تھے، باپ ،بھائيوں اور اصحاب كى شہادت پر دل شكستہ اور رنجيدہ بھى تھے ليكن پھر بھى يہ رنج و آلام آپ كے فرائض كى انجام دہى اور خون آلود انقلاب كربلا كے تحفظ ميں ركاوٹ نہ بن سكے_ آپ نے لوگوں كے افكار كو روشن كرنے كے لئے ہر مناسب موقع سے فائدہ اٹھايا_

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام كوفہ ميں

وہ صبح سفر باپ کی لاسے سے جدائی
وہ پیش نظر خاک پہ سوتے ہوئے بھائی
سمہے ہوئے بچوں مین وہ خاموش دہائی
حیدر کی طرح حیدر کرار کی جائی
کومے کی طرف قافلہ درد چلا تھا
یا ہمت سجاد کا آغاز ہوا تھا
اسيروں كا قافلہ كوفہ پہنچا _ جب اہل کوفہ جناب زينب سلام اللہ علیہا اور ان كى بہن ام كلثومسلام اللہ علیہا كے خطبوں سے پشيمان ہو كر رونے لگے تو حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے اشارہ كيا كہ مجمع خاموش ہوجائے پھر پروردگار كى حمد و ثنا اور پيغمبر اکرم (ص) پر درود و سلام كے بعد حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے فرمايا:
” اے لوگو ميں على بن الحسين علیہ السلام ہوں، ميں اس كا فرزند ہوں كہ جس كو فرات كے كنارے بغير اس كے كہ انہوں نے كسى كا خون بہايا ہو يا كسى كا حق ان كى گردن پر ہو، ذبح كرديا گيا_ ميں اس كا فرزند ہوں جس كا مال شہادت كے بعد لوٹ ليا گيا اور جس كے خاندان كو اسير بنا كر يہاں لايا گيا_ لوگو كيا تمہيں ياد ہے كہ تم نے ميرے باپ كو خط لكھ كر كوفہ بلايا اور جب وہ تمہارى طرف آئے تو تم نے ان كو قتل كرديا؟ قيامت كے دن پيغمبراكرم(ص) كے سامنے كس منہ سے جاؤگے؟ جب وہ تم سے فرمائيں گے كہ ” كيا تم نے ميرے خاندان كو قتل كرديا اور ميرى حرمت كى رعايت نہيں كى لہذا تم ميرى امت ميں سے نہيں ہو”_

حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى تقرير نے طوفان كى طرح لوگوں كو ہلا كر ركھ ديا_ ہر طرف سے گريہ و زارى كى آوازيں آنے لگيں، لوگ ايك دوسرے كو ملامت كرنے لگے كہ تم ہلاك اور بدبخت ہوگئے اور حالت يہ ہے كہ تم كو خود ہى نہيں معلوم_
امام حسين علیہ السلام كے اہل حرم كو ابن زياد كے دربار ميں لے جايا گيا اور جب ابن زياداور حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كے درميان گفتگو ہوئي تو حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے نہايت يقين اور شجاعت كے ساتھ ہر موقع پر نہايت دنداں شكن جواب ديا جس سے ابن زياد ايسا غضب ناك ہوا كہ اس نے حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كے قتل كا حكم ديديا_
اس موقع پر جناب زينب سلام اللہ عليہا نے اعتراض كيا اور فرمايا كہ :” اگر تم على ابن الحسين حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كو قتل كرنا چاہتے ہو تو ان كے ساتھ مجھے بھى قتل كردو”_ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے اپنى پھوپھى سے فرمايا:”آپ
كچھ نہ كہيں ميں خود اس كا جواب دے رہا ہوں”_ اس كے بعد آپ(ع) نے ابن زياد كى طرف رُخ كيا اور فرمايا:” اے زياد كے بيٹے كيا تم مجھے قتل كرنے كى دھمكى دے رہے ہو كيا تم يہ نہيں جانتے كہ قتل ہوجانا ہمارى عادت اور شہادت ہمارى كرامت ہے؟
شام ميں
ايك ہى رسن ميں اہل بيت علیہ السلام كے چند دوسرے افراد كے ساتھ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كو بھى باندھا گيا تھا اسى حالت ميں امام كو شام ميں يزيد كے دربار ميں لے جايا گيا_ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے نہايت شہامت اور دليرى كے ساتھ يزيد سے خطاب فرمايا: اے يزيد اگر پيغمبر(ص) مجھ كو اس حالت ميں رسن بستہ ديكھ ليں تو، تو ان كے بارے ميں كيا خيال كرتا ہے؟
(وہ كيا كہيں گے)_
حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كے اس چھوٹے سے جملہ نے حاضرين پر اتنا اثر كيا كہ سب رونے لگے _ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے جب يزيد سے گفتگو كى تو ايك نشست ميں اس نے قتل كى دھمكى دي_ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے اس كے جواب ميں فرمايا: اسيرى سے آزاد ہونے والے بنى اميہ جيسے كبھى بھى قتل انبياء و اوصياء كا حكم نہيں دے سكتے مگر يہ كہ اسلام سے خارج ہوجائيں اور اگر تم ايسا ارادہ ركھتے ہو تو كسى صاحب اطمينان شخص كو ميرے پاس بھيجو تا كہ ميں اس سے وصيت كردوں اور اہل حرم كو اس كے سپرد كردوں _
ايك دن شام كى جامع مسجد ميں يزيد نے ايك اہم نشست كا انتظام كيا اور خطيب سے كہا كہ منبر پر جاكر حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كے سامنے اميرالمؤمنين علیہ السلام اور امام حسين _كو برا بھلا كہے اس كرايہ كے خطيب نے ايسا ہى كيا_
سید سجاد حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے بلند آواز ميں فرمايا: ” وائے ہو تجھ پر اے خطيب تونے خالق كى ناراضگى كے بدلے مخلوق يزيد جیسے بد کردار اور بد فعل كى خوشنودى خريدى اور اس طرح تم دوزخ ميں اپنا ٹھكانہ بنا رہے ہو_ پھر

تھقیر کے الفاط میں حاکم کا بلا
الزام بغاوت بنی ہاشم پہ لگانا
شبیرّ کو بگشتہء اسلام بتانا
ایسے مین بھی سجادّ کا غصے مین نہ آنا
افکار پہ اک ضربَ تحیر کا عمل تھا
ہر دشمن شبیر کا پیغام اجل تھا۔
يزيد كى طرف مخاطب ہوئے اور فرمايا ”تو مجھے بھى اسى لكڑى ( منبر) پر جانے دے اور ايسى بات كہنے دے جس سے ميں خدا كو خوش كروں اور وہ حاضرين كے لئے اجر و ثواب كا باعث ہے”_ يزيد نے پہلے تو اجازت نہيں دى ليكن لوگوں كے اصرار كے جواب ميں بولا كہ ” اگر يہ منبر پر جائيں گے تو مجھ كو اور خاندان ابوسفيان كو ذليل كئے بغير منبر سے نيچے نہيں اتريں گے” لوگوں نے كہا كہ :” يہ كيا كرسكتے ہيں؟ يزيد نے كہا كہ ” يہ وہ خاندان ہے جس نے علم ودانش كو بچپنے سے دودھ كے ساتھ پيا ہے”_ لوگوں نے بہت اصرار كيا تو يزيد نے مجبوراً اجازت دے دي، امام(ع) منبر پر تشريف لے گئے اور پيغمبر(ص) پر درود و سلام بھيجنے كے بعد فرمايا:
” اے لوگو خدا نے ہم كو علم، بردباري، سخاوت، فصاحت، دليرى اور مؤمنين كے دلوں ميں ہمارى دوستى عطا كى ہے … پيغمبر اکرام (ص) ہم ميں سے ہيں_ اس امت كے صديق حضرت اميرالمؤمنين علي(ع) ہم ميں سے ہيں،جعفر طيّار ہم ميں سے ہيں، حمزہ سيدالشہداء ہم ميں سے ہيں، امام حسن اور امام حسين عليہ السلام پيغمبر اکرام (ص) كے دونوں نواسے ہم ميں سے ہيں_
ميں فرزند مكہ و منى ، فرزند زمزم و صفا ہوں، ميں اس كا بيٹا ہوں جس نے حجر اسود كو عبا ميں ركھ كر اٹھايا_
ميں اس بہترين خلائق شخص كا بيٹا ہوں جس نے احرام باندھا، طواف و سعى كي، حج بجالايا … ميں خديجة الكبرى كا بيٹا ہو، ميں فاطمہ زہراء (ع) كا بيٹا ہو، ميں اس كا بيٹا ہوں جو اپنے خون ميں غوطہ زن ہوا، ميں اس حسين(ع) كا بيٹا ہوں جس كو كربلا ميں قتل كر ڈالا گيا”_
لوگوں ميں كھلبلى مچ گئي اور حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى طرف ديكھ رہے تھے_ آپ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام ہر جملہ كے ساتھ بنى اميہ كى حقيقت سے پردہ اٹھاتے جا رہے تھے اور اموى گروہ كى كثيف ماہيت كو آشكار كرتے اور اپنے خاندان كى عظمت اور شہادت حسين _كى زيادہ سے زيادہ قدر و قيمت لوگوں كے سامنے نماياں كرتے جا رہے تھے، رفتہ رفتہ لوگوں كى آنكھيں آنسووںسے ڈبڈبا گئيں، گريہ گلو گير ہوگيا_ پھر ہر گوشہ سے بے تابانہ رونے كى آواز بلند ہوئي_ يزيد كو ڈر لگنے لگا اور حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى تقرير كو روكنے كے

شہروں کی فضاوں کو بدلتی ہوئی آواز
قریوں کی ہوائوں پہ مچلتی ہوئی آواز
ہر دامن صحرا سے نکلتی ہوئی آواز
ہر شعلہءفطرت پہ سنبھلتی ہوئی آواز
جب شام میں آئی تو نقوش اور جلی تھے
سجاد کے لحجے میں حسین ابن علی تھے

لئے اس نے مؤذن كو آذان دينے كا حكم ديا، مؤذن جب ” الشہد انّ محمداً رسول اللہ” پر پہنچا تو آپ نے عمامہ سر سے اتارليا اور فرمايا
” اے مؤذن اسى محمد پیامبر اکرم (ص) كى قسم ذرا ٹھہر جا” _ پھر يزيد بد کرادر كى طرح رخ كركے فرمايا:” اے يزيد يہ محمد رسول اكرم(ص) ميرے جد ہيں يا تيرے؟ اگر تم كہو كہ تمہارے جد ہيں تو سب جانتے ہيں كہ يہ جھوٹ ہے اور اگر تم يہ كہتے ہو كہ ميرے جد ہيں تو پھر ان كى عترت كو تم نے كيوں قتل كيا ان كے اموال كو كيوں تاراج كيا اور ان كے خاندان كو تم نے كيوں اسير كرليا؟
اے يزيد تو ان تمام افعال كے باوجود محمد اکرام (ص) كو پيغمبر خدا جانتا ہے اور قبلہ كى طرف رخ كركے كھڑا ہوتا ہے، نماز پڑھتا ہے، وائے ہو تجھ پر كہ ميرے جد و پدر قيامت ميں تيرا گريبان پكڑيںگے”_
يزيد نے مؤذن كو حكم ديا كہ نماز كے لئے اقامت كہے، ليكن لوگ بہت ناراض تھے يہاں تك كہ كچھ لوگوں نے نماز بھى نہيں پڑھى اور مسجد سے نكل گئے_
شام ميں حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى تقريريں اس بات كا باعث بنى كہ يزيد قتل امام (ع) كا قصد ركھنے كے باوجود اس بات پر مجبور ہوا كہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كو اور تمام اہل بيت(ع) كو مدينہ واپس كردے_
روح مبارزہ و جہاد كى بيداري
اسيرى كى تمام مدت ميں حضرت امام زين العابدين علیہ السلام بہت سے لوگوں كے تصور كے برخلاف جو كہ آپ كو شكست خوردہ سمجھتے تھے، ہر محفل و مجلس ميں اپنى اور اپنے الد كى كاميابى اور بنى اميہ كے گروہ كى شكست كے بارے ميں تقرير كرتے تھے_
دوسرى طرف حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے اس بات كى كوشش كى كہ اپنے خاندان كى عظمتوں اور خصوصيتوں اور بنى اميہ كے ظلم و جور كے بيان كے ذريعہ مسلمانوں كى انقلابى فكر كو بيدار كريں اور گناہ بنى اميہ سے
خوابوں کی طرح سلسلہ و ہم و گمان ہو
تم اپنی تباہی کے سفینہ میں رواں ہو

نفرت كا احساس اور انجام پا جانے والے گناہوں كے جبران كى ضرورت كو لوگوں كے ضمير و وجدان ميں زندہ كريں_
ابھى زيادہ دن نہيں گذرے تھے كہ اس مثبت رويّہ كى وجہ سے اموى سلطنت كے خلاف عراق و حجاز ميں انقلاب كا پرچم بلند ہوگيا اور ہزاروں افراد خون حسين علیہ السلام كا انتقام لينے كے لئے اٹھ كھڑے ہوئے_
مدينہ واپسى كے بعد
اسيرى كے دن گذرجانے كے بعد سید سجاد حضرت امام زين العابدين علیہ السلام مدينہ واپس آگئے اور معاشرہ پر حكومت كرنے والى سياست كى حالت بھى بدل گئي_ بنى اميہ كى حكومت اور سياسى روش كے مقابل حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كا رويہ بھى بدلا_
حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى امامت كا سارا زمانہ اس وقت كے ان ظالم حكمرانوں كے طرح طرح كے اجتماعى بحران و آشوب سے پُر تھا جو مختلف بہانوں سے حضرت امام زين العابدين علیہ السلام پر دباؤ ڈالنے اور ان كى سرگرميوںكو محدود كرنے كى كوشش ميں لگے ہوئے تھے_
زمانہ كے حالات سے واقفيت كے لئے ان ظالموں كے جرائم كے چند گوشے ملاحظہ ہوں:
يزيد كے مرتے ہى عبداللہ بن زبير جو برسوں سے خلافت و حكومت كى لالچ ميں تھا، مكہ ميں اٹھ كھڑا ہوا اور حجاز و يمن، عراق و خراسان كے لوگوں نے بھى ان كى بيعت كر لي، اور شام ميں معاويہ بن يزيد كے ہٹ جانے كے بعد جو بہت تھوڑے دنوں ( يعنى تين مہينہ يا چاليس دن)مسند خلافت پر تمكن رہا اس كے بعد مروان بن حكم نے، سازش كے ذريعہ حكومت تك رسائي حاصل كى اور عبداللہ بن زبير كى مخالفت ميں اٹھ كھڑا ہوا_ شام كے بعد مصر پر اپنا قبضہ مضبوط كيا_ ليكن اس كى حكومت زيادہ دنوں تك باقى نہيں رہى اور تھوڑى ہى مدت ميں مرگيا_ اس كى جگہ

اس كا بيٹا عبدالملك مسند خلافت پر بيٹھا_ عبدالملك نے شام و مصر ميں اپنى پوزيشن مضبوط ہوجانے كے بعد 65 ھ ميں عبداللہ بن زبير كا مكہ ميں محاصرہ كيا اور ان كو قتل كرديا
عبدالملك كے بڑے جرائم ميں حجاج بن يوسف كو بصرہ اور كوفہ كا حاكم بنانا ہے_ حجاج ايك خون خوار اور جرائم پيشہ شخص تھا اس نے لوگوں كو اذيتيں پہنچائيں اور كشت و خون كا بازار گرم كيا_ خاص كر شيعيان علي(ع) كو ختم كرنے كا اس نے بيڑا اٹھايا اور اپنى حكومت كے زمانہ ميں تقريباً ايك لاكھ بيس ہزار افراد كو قتل كرڈالا –
عبدالملك بڑى سختى سے حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كى نگرانى كرتا تھا اور اس كوشش ميں تھا كہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كے خلاف كسى بھى طريقہ سے كوئي بہانہ ہاتھ آجائے تو وہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام پر سخت گيرى كرے يا آپ كى توہين كرے_
اس كو جب يہ اطلاع ملى كہ حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے اپنى آزاد كردہ كنيز سے عقد كر ليا ہے تو اس نے ايك خط ميں اس كام پر آپ كى شماتت كي_ اس نے چاہا كہ اس طرح وہ حضرت كو يہ سمجھا دے كہ ہم آپحضرت امام زین العابدین علیہا السلام كے تمام امور حتى كہ داخلى اور ذاتى امور سے بھى باخبر ہيں_ اور اس نے اپنى قرابت دارى كو بھى ياد دلايا، تو امام حضرت امام زین العابدین علیہا السلام نے جواب ميں آئين اسلام كو اس سلسلہ ميں ياد دلاتے ہوئے فرمايا: كہ مسلمان ہوجانا اور خدا پر ايمان لانا ہميشہ دوسرے امتيازات كو ختم كرديتا ہے، امامحضرت امام زین العابدین علیہا السلام نے طنز كے ذريعہ اس كے آبا و اجداد كى گذشتہ جہالت پر ( اور شايد اس كى موجودہ جہالت حالت پر ) سرزنش كى اور فرمايا:
فلا لوم على امرئ: مسلم: انّما اللّومُ لوم الجاہلية”
86 ھ ميں عبدالملك كے مرنے كے بعد اس كا بيٹا وليد اس كى جگہ پر مسند خلافت بيٹھا_ 25 سيوطى كے بيان كے مطابق وہ ايك ستمگر اور لا پرواہ شخص تھا اودوسرے بنى اميہ كے حكمرانوںكى طرح يہ بھى امام حضرت امام زین العابدین علیہا السلام كى شہرت اور محبوبيت سے خوف زدہ تھا اور آپحضرت امام زین العابدین علیہا السلام كى علمى و روحانى شخصيت سے اس كو تكليف تھي، اس وجہ سے وہ شيعوں كے چوتھے پيشوا كا وجود مسلمانوں كے معاشرہ ميں برداشتنہيں كر سكتا تھا، اس نے دھوكہ كے ساتھ آپ كو زہر دے ديا

اس طرز تصادم پہ اٹھی ضبط کی سمشیر
تھرانے گلی خون میں ڈوبی ہوئی زنجیر
ہتھکڑیوں کے ہونٹوں سے آُٹھا نعرہ تکبیر
آزادی غیرت میں ڈحلا طوق گلو گیر
غالب سر دربار ہوا رتبہ مظلوم
مانند اذان کوجن اُٹھا خطبہ مظلوم

ايك طرف تو حضرت امام زين العابدين علیہ السلام اپنے زمانہ كے ايسے ظالم و جرائم كا ارتكاب كرنے والے بادشاہوں اور ان كى شديد نگرانيوں كو برداشت كر رہے تھے، دوسرى طرف اپنے اطراف ميں ايماندار جاں نثاروں اور مجاہد دوستوں كا فقدان محسوس كرتے تھے_ لہذا آپحضرت امام زین العابدین علیہا السلام نے مخفى مبارزہ اورجہاد شروع كيا_ اپنے دروازہ كو دوسروں كے لئے بند كرديا، اس طرح آپحضرت امام زین العابدین علیہا السلام نے اپنى اور اپنے كچھ قابل اعتماد اصحاب كى جان بچالى اور اس محاذ پر صاحب امتياز عناصر كى پرورش، صالح افراد كى تيارى اور مخفى مبارزہ كے ذريعہ شيعى افكار كى تعليم ميں مشغول ہوگئے تا كہ اس راستہ كے سلسلہ كو جو بے شك منزل مقصود سے بہت قريب تھا _ اپنے بعد كے امام كے سپرد كرديں_
امام جعفر صادق _اپنى ايك حديث ميں امام حضرت امام زین العابدین علیہا السلام چہارم كے حالات اور ان كى كردار ساز خدمات كو اس طرح بيان كرتے ہيں:
” حسين ابن على حضرت امام زین العابدین علیہا السلام كے بعد تمام لوگ راستہ سے پلٹ گئے مگر تين افراد: ابو خالد كابلي، يحيى ابن ام طويل اور جبير بن مطعم، اس كے بعد دوسرے لوگ ان سے آملے اور شيعوں كا مجمع بڑھ گيا_ يحيى بن ام طويل مدينہ ميں مسجد پيغمبر اکرام محمد (ص) ميں آئے اور تقرير ميں لوگوں سے كہنے لگے: ہم تمہارے ( راستہ اور آئين كے ) مخالف ہيں اور ہمارے اور تمہارے درميان دشمنى اور كينہ ہے”_
مكہ كے راستہ ميں ايك شخص نے اعتراض كرتے ہوئے امام سجادحضرت امام زین العابدین علیہا السلام سے كہا كہ ” آپ نے جہاد اور اس كى سختى كو چھوڑ ديا اور حج جو آسان ہے اس كے لئے جا رہے ہيں؟ تو آپحضرت امام زین العابدین علیہا السلام نے فرمايا: اگر باايمان مددگار اور جان نثار اصحاب ہوتے تو جہاد اور مبارزہ حج سے بہتر تھا_
ابوعمر نہدى كا بيان ہے كہ ” حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے فرمايا: مكہ اور مدينہ ميں ہمارے بيس دوست (حقيقى اور جاں نثار ) نہيں ہيں_
اس طرح حضرت امام زين العابدين علیہ السلام كا كام بے حد دشوار ہمت شكن اور شجاعت كا كام تھا اور

آپ نہايت محدوديت كے عالم ميں اس بات ميں كامياب ہوگئے كہ ايك سو ستر ايسے نماياں شاگردوں كى تربيت كرديں جن ميں سے ہر ايك اسلامى معاشرہ ميں روشن چراغ تھا_ جن افراد كے نام رجال كى كتابوں ميں موجود ہيں ان ميں سعيد بن مسيب ،سعيد بن جبير، محمد بن جبير، يحيى بن ام طويل، ابوخالد كابلي، ابوحمزہ ثمالى جيسى شخصيتوں كے نام لئے جاسكتے ہيں_
حضرت امام زين العابدين علیہ السلام نے نماياں شاگردوں كى تربيت اور اسلامى معارف كى نشر و اشاعت كے ذريعہ اسلامى معاشرہ اور اموى حكومت كے صاحب حيثيت افراد كے دلوں ميں ايك مخصوص شكوہ و عظمت پيدا كرلى يہاں تك كہ ايك حج كے موقع پر جب آپحضرت امام زین العابدین علیہا السلام كا سامنا عبدالملك بن مروان سے ہوا تو نہ صرف يہ كہ آپ نے اس كو سلام نہيں كيا بلكہ اس كے چہرہ پر نظر بھى نہيں ڈالى عبدالملك اس بے اعتنائي پر بڑا ناراض ہوا_ اس نے آہستہ سے امام حضرت امام زین العابدین علیہا السلام كے ہاتھ كو پكڑ اور كہا:” اے ابومحمد مجھے ديكھئے ميں عبدالملك ہوں نہ كہ آپ كے باپ كا قاتل يزيد” امامحضرت امام زین العابدین علیہا السلام نے جواب ديا:” ميرے باپ كے قاتل نے اپنے اقدام كے ذريعہ اپنى آخرت خراب كر لى اگر تو بھى ميرے باپ كے قاتل كى طرح ہونا چاہتا ہے تو كوئي حرج نہيں ہے”_
عبدالملك نے غصہ ميں كہا:” ميں ہرگز ايسا ہونا نہيں چاہتا ليكن مجھے اس بات كى اميد ہے كہ آپحضرت امام زین العابدین علیہا السلام ہمارے وسائل سے بہرہ مند ہوں گے امام حضرت امام زین العابدین علیہا السلام نے جواب ميں فرمايا:” مجھ كو تمہارى دنيا كى اور جو كچھ تمہارے پاس ہے اس كى كوئي ضرورت نہيں_
دعائيں
امام زين العابدين (ع)كے مثبت اقدام ميں ايك قدم اور بنيادى كوشش يہ تھى كہ آپ حضرت امام زین العابدین علیہا السلام _ انفرادى اور اجتماعى _ تربيت و عقائد سے متعلق مسائل كى نشر و اشاعت دعا كے پيرايہ ميں كريں_

جو آپ كى يادگار كے طور پر محفوظ رہ گئي ہيں_
صحيفہ سجاديہ كے مضامين اور اس ميں بيان كى گئي باتوں پر غور و فكر نے بہت سے مسائل كو ہمارے لئے روشن كرديا ہے، اسلامى معاشرہ بلكہ انسانى معاشرہ كو اس كتاب نے عالم كى معلومات ،خدا كى معرفت، انسان كى معرفت و غيرہ كے ايك سلسلہ كا تعارف كرايا ہے_
ان حالات ميں جب امام _ كو بيان اور گفتگو كى آزادى ميسر نہ تھي، آپ نے دعا اور مناجات كے ذريعہ اعتقادى اور اخلاقى دستور العمل اور اجتماعى زندگى كے لائحہ عمل كو بيان كيا اور مسلمانوں كے درميان اس كو منتشر كرديا_
صيحفہ سجاديہ كى عظمت كو سمجھنے كے لئے مشہور مصرى مفسر طنطاوى كا قول كافى ہے، وہ كہتے ہيں كہ” صحيفہ سجاديہ وہ تنہا كتاب ہے جس ميں علوم و معارف اور حكمتيں موجود ہيں اس كے علاوہ كسى كتاب ميں ايسا ذخيرہ نہيں ہے اور يہ مصر كے لوگوں كى بد نصيبى ہے كہ وہ ابھى تك اس كى گراں بہا اور جاودانہ باتوں سے واقف نہيں، ميں اس ميں جتنا بھى غور كرتا چلا جاتا ہوں اس كو مخلوق كے كلام سے بالاتر اور خالق كے كلام سے نيچے ديكھتا ہوں
امام گوشہ نشينى اور محدوديت كے باوجود دعاؤں كے ذريعہ مسلمانوں كو قيام اور تحريك كا درس ديتے ہيں اور اپنے خدا سے راز و نياز كى باتيں كرتے ہوئے فرماتے ہيں” خدايا مجھ كو ايسى طاقت اور دست رسى عطا كر كہ جو لوگ مجھ پر ظلم كرتے ہيں ميں ان پر كاميابى حاصل كروں اور ايسى زبان عنايت فرما كہ مقام احتجاج ميں غلبہ حاصل كرسكوں، ايسى فكر اور سمجھ عطا فرما كہ دشمن كے حيلوں كو درہم برہم كردوں اور ظالم كے ہاتھ كو ظلم و تعدى سے روك دوں
صحيفہ سجاديہ ميں ايسے بہت سارے نمونے موجود ہيں_
چھوٹی سی بہن چومتی تھی بھائی کی زنجیر
یا سارے زمانے سے جدا درد کی بصویر
ننھی سی زباں خشک تو آواز گلو کیگر
آہستہ سے کہتی تھی وہ شہزادی تطہیر
کیا حکم رہائی نہ کبھی پائوں گی بھیا
کیا اب میں اس قید میں مرجائوں گی بھیا

شہادت
امام زين العابدين حضرت امام زین العابدین علیہ السلام57 سال تك رنج و مصيبت برداشت كرنے كے بعد وليد بن عبدالملك كے دور حكومت ميں اس كے حكم سے جس نے اپنى خلافت و حكومت كا محور ظلم و جور اور قتل و غارت بنا ركھا تھا، مسموم ہوكر، 25 محرم 95 ھ ق كو شہادت پائي اور قبرستان بقيع ميں امام حسن مجتبى حضرت امام زین العابدین علیہا السلام كى قبر مطہر كے پہلو ميں سپرد خاك كئے گئے_ 33

تابوت خیالوں میں اٹھامے لگے سجادّ
زندان میں اک قبر بنانے لگے سجادّ

رب العزت سے دعا گو ہوں کہ ہو اس سعی کو قبول فرمائے اور ہماری بیماروں کو اس بیمار کربلا کے صدقے میں صحت کاملہ عطا فرمائے۔ اور اس دینا میں ہر شخص کو جناب سجاد علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرائے۔ آمین

اس مضمون کو تیار کرنے میں مختلف ویب سائٹ سے مدد حاصل کی گئی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY