الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈز لیے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آج 8 سال بعد چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنایا۔
…………………………
پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کا معاملہ الیکشن کمیشن میں کوئی سیاسی مخالف جماعت نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اپنے بانی اراکین میں سے ایک اکبر ایس بابر سنہ 2014 میں لے کر آئے تھے۔
اکبر ایس بابر نے الزام عائد کیا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے، جس کی پاکستانی قانون اجازت نہیں دیتا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ مبینہ طور پر ممنوعہ ذرائع سے پارٹی کو ملنے والے فنڈز کا معاملہ اُنھوں نے سنہ 2011 میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے سامنے اٹھایا تھا اور یہ کہا تھا کہ پارٹی کے ایک اور رکن جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس معاملے کو دیکھے لیکن اس پر عمران خان کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہونے کی بنا پر وہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں لے کر گئے۔
اکبر ایس بابر کے مطابق امریکہ اور برطانیہ میں جماعت کے لیے وہاں پر رہنے والے پاکستانیوں سے چندہ اکھٹے کرنے کی غرض سے لمیٹڈ لائبیلیٹیز کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں آنے والا فنڈ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیا گیا۔
اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے بھی ممنوعہ ذرائع سے پارٹی کو فنڈز ملے اور یہ رقم پاکستان تحریک انصاف میں کام کرنے والے کارکنوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بھی ہنڈی کے ذریعے پارٹی کے فنڈ میں رقم بھجوائی گئی۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کا الیکشن کمیشن میں اس درحواست کو لے کر جانے کا مقصد کسی جماعت پر پابندی لگوانا نہیں اور نہ ہی کسی کی عزت کو اُچھالنا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ممنوعہ ذرائع سے حاصل ہونے والے فنڈز سے ملکی سلامتی پر سمجھوتہ ہوتا ہے۔
پاکستان کی محتلف سیاسی جماعتوں نے بالخصوص امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ترقی یافتہ ملکوں میں لمیٹیڈ لائبلیٹیز کمپنییاں بنا رکھی ہیں جس کے انچارج اس ملک میں مقیم ایسے پاکستانی ہوتے ہی جس کے پاس دوہری شہریت ہوتی ہے۔
ان ذمہ داران یا ایجنٹس کی تقرری فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے۔
یہ نمائندے ان ملکوں میں موجود دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں یا جن کے پاس نائیکوپ کارڈ ہے، سے اپنی جماعت کے لیے فنڈز اکھٹے کرتے ہیں اور پھر اُنھیں پاکستان بھجواتے ہیں۔ ان ایجنٹس کو پارٹی کا منشور بھیجا جاتا ہے اور یہ ہدایات بھی دی جاتی ہیں کہ پاکستانیوں کے علاوہ کسی غیر ملکی حکومت، شخصیت یا ادارے سے پارٹی کے لیے فنڈز حاصل نہ کریں۔
ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟
الیکشن کمیشن ایکٹ سنہ 2017 کے سیکشن 204 کے سب سیکشن 3 کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کو بلواسطہ یا بلاواسطہ حاصل ہونے والے فنڈز جو کسی غیر ملکی حکومت، ملٹی نینشل یا پرائیویٹ کمپنی یا فرد سے حاصل کیے گئے ہوں وہ ممنوعہ فنڈز کے زمرے میں آتے ہیں۔
اس ایکٹ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی یا جن کو نینشل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نے نائیکوپ کارڈ جاری کیا ہے، ان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ سیکشن 204 کے سب سیکشن چار کے تحت اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی سیاسی جماعت نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز اکھٹے کیے ہیں تو جتنی بھی رقم پارٹی کے اکاؤنٹ میں آئی ہے اس کو بحق سرکار ضبط کرنے کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایکٹ سنہ2017 جو کہ پارلیمنٹ میں موجود پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر پاس کیا تھا، میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں بنائے گیے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ سنہ 2002 کی دفعات 204 سے لے کر 212 تک کو شامل کیا گیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ تمام دفعات سیاسی جماعتوں کی فارن فنڈنگز سے متعلق ہیں۔













