شوال کا پہلا دن عید سعید فطرہے۔ زاہدہ خوشی

0
2273

شوال کا پہلا دن عید سعید فطر ہے اور یہ دن عالم اسلام کی مشترک عید
ہے ۔ مؤمنین رمضان مبارک کے گزرجانے اور اس مہینے میں عبادت وتقوی پرہیز
گاری و تہذیب نفس کے ساتھ گزارنے پر خوشی اور اللہ سے ان نعمات کا شکریہ
کرنے کیلۓ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے روابط قائم کرتے ہوۓ عید کی نماز پڑھتے
ہیں ۔

پیغمبر اسلام (ص) نے اس دن کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اذا کان اول
یوم من شوال نادی مناد : ایھا المؤمنون اغدو الی جوائزکم، ثم قال : یا
جابر ! جوائز اللہ لیست کجوائز ھؤلاء الملوک ، ثم قال ھو یوم الجوائز ۔

یعنی جب شوال کا پہلا دن ہوتا ہے ، آسمانی منادی نداء دیتا ہے : اے
مؤمنو! اپنے تحفوں کی طرف دوڑ پڑو ، اس کے بعد فرمایا: اے جابر ! خدا کا
تحفہ بادشاھوں اور حاکموں کے تحفہ کے مانند نہیں ہے ۔ اس کے بعد فرمايا”
شوال کا پہلا دن الھی تحفوں کا دن ہے ۔

امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے عید فطر کے ایک خطبے میں
ارشاد فرمایا:

اے لوگو! یہ دن وہ ہے جس میں نیک لوگ اپنا انعام حاصل کرتے ہیں اور برے
لوگ ناامید اور مایوس ہوتے ہیں اور اس دن کی قیامت کے دن کے ساتھ کافی
شباھت ہے اس لۓ گھر سے نکلتے وقت اس دن کو یاد جس دن قبروں سے نکال کرخدا
کی کی بارگاہ میں حاضر کۓ جاؤ، نماز میں کھڑے ہونے کے وقت خدا کے سامنے
کھڑے ہونے کو یاد کرو اور اپنے گھروں میں واپس آنے میں اس وقت کو یاد کرو
جس وقت بہشت میں اپنی منزلوں کی طرف لوٹو گے۔ اے خدا کے بندو ! سب سے کم
چیز جو روزہ دار مردوں اور خواتین کو رمضان المبارک کےآخری دن عطا کی
جاتی ہے وہ یہ فرشتے کی بشارت ہے جو صدا دیتا ہے :

اے بندہ خدا مبارک ہو ! جان لے تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف ہو گۓ ہیں اب
اگلے دن کے بارے میں ہوشیار رہنا کہ کیسے گذارو گے ۔

بزرگ عارف ربانی ملکی تبریزی نے عید کے دن کے بارے میں فرمایا ہے :

عید فطر ایسا دن ہے کہ جس کو اللہ نے دوسرے دنوں پر منتخب کیا ہے اور اس
دن کو اپنے بندوں کو تحفے دینے کیلۓ انتخاب کیا ہے ، تاکہ اس دن حاضر
ہوکر امید رکھتے ہوئے آئے اپنے خطاؤں کی معافی مانگے ، اپنی حاجات طلب
کرے اور اپنی آرزو بیان کرے ، اور خداند عالم نے بھی وعدہ کیا ہے کہ جو
مانگو گے وہ عطا کروں گا۔ اور توقع سے زیادہ دوں گا، اور خداوند عالم اس
کے حق میں اس قدر مھربانی ، بخشش اور نوازش کرے گا جس کا اسے تصور بھی
نہیں ہو گا ۔

شوال کے پہلے دن کو اس لۓ عید فطر کہتے ہیں کہ اس دن کھانے پینے کی
محدودیت ختم ہونے کا اعلان ہو جاتا ہے کہ مؤمنین دن میں افطار کریں فطر
اور فطور کا معنی کھانے پینے کا ہے، کھانے پینے کی آغاز کرنے کو بھی کہا
گیا ہے ۔ کسی وقت تک کھانے پینے سے دوری کرنے کے بعد جب کھانا پینا شروع
کیا جاۓ تو اسے افطار کہتے ہیں اور اسی لۓ رمضان المبارک میں دن تمام
ہونے اور مغرب شرعی ہونے پر روزہ کہولنے کو افطار کہا جاتا ہے یعنی کھانے
پینے کی اجازت حاصل ہوجاتی ہے ۔

عید فطر کیلۓ اعمال اور عبادات مخصوص بیان ہوۓ ہیں جن کو انجام دینے کی
بہت تاکید فرمائی ہے ۔

معصومین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عید فطر اپنے اعمال اور عبادات کا
انعام حاصل کرنے کا دن ہے اس لۓ مستحب ہے کہ اس دن بہت زیادہ دعا کی جاۓ
، خدا کی یاد میں رہا جاۓ ، لاپرواہی نہ کی جاۓ اور دنیا اور آخرت کی
نیکی طلب کی جاۓ ۔

عید کی نماز کے قنوت میں پڑھتے ہیں :

“… اسئلك بحق ھذا اليوم الذى جعلتہ للمسلمين عيدا و لمحمد صلى اللہ
عليہ و آلہ ذخرا و شرفا و كرامۃ و مزيدا ان تصلى على محمد و آل محمد و ان
تدخلنى فى كل خير ادخلت فيہ محمدا و آل محمد و ان تخرجنى من كل سوء اخرجت
منہ محمدا و آل محمد، صلواتك عليہ و عليہم اللہم انى اسالك خير ما سئلك
عبادك الصالحون و اعوذ بك مما استعاذ منہ عبادك المخلصون‏”

بار الھا ! اس دن کے واسطے کہ جسے مسلمانوں کیلۓ عید اور محمد صلی اللہ
علیہ والہ کیلۓ شرافت ، کرامت اور فضیلت کا ذخیرہ قرار دیا ہے ۔ تجھ سے
سوال کرتا ہوں محمد و آل محمد پر درود بھیج اور مجھے اس خیر میں شامل
فرما جس میں محمد و آل محمد کو شامل فرمایا ہے اور مجھے ہر بدی سے نکال
دے جن سے محمد و آل محمد کو نکالا ۔ ان پر آپ کا درود وسلام ہو، خدایا
تجھ سے وہی کچھ مانگتا ہوں جو تیرے نیک بندے تجھ سے مانگتے ہیں ، اور تجھ
سے ان چیزوں سے پنا ہ مانگتا ہوں کہ جن سے تیرے مخلص بندے مانگتے تھے ۔

صحیفہ سجادیہ میں امام زین االعابدین علیہ السلام کی ماہ مبارک رمضان اور
عید فطر کے استقبال کیلۓ دعا بیان ہوا ہے :

«اللهم صل على محمد و آله و اجبر مصيبتنا بشهرنا و بارك لنا فى يوم عيدنا
و فطرنا و اجعله من خير يوم مر علينا، اجلبه لعفو و امحاه لذنب و اغفرلنا
ما خفى من ذنوبنا و ما علن … اللهم انا نتوب اليك فى يوم فطرنا الذى
جعلته للمؤمنين عيدا و سرورا و لاهل ملتك مجمعا و محتشدا، من كل ذنب
اذنبناه او سوء اسلفناه او خاطر شرا اضمرناه توبة من لا ينطوى على

دو خوشیاں
عید الفطر کے دن مسلمانوں کے لئے دو بڑی خوشیاں ہیں ایک یہ کہ اس دن اللہ
تعالیٰ ”صدقة الفطر“ قبول فرماتا ہے یہ بہت بڑی سعادت ہے کہ اللہ تعالیٰ
ہمیں مال عطاء فرما کر پھر اس میں سے کچھ اپنے نام پر قبول فرما لے اور
اسے ہماری آخرت کے لئے محفوظ فرما دے اس لیے عید کے دن پہلا کام ”صدقة
الفطر“ ادا کرنا ہے دل کی خوشی کے ساتھ خوب زیادہ سے زیادہ ”صدقہ فطر“
اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے ادا کریں اور اللہ تعالیٰ
کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائی دوسری خوشی
مسلمانوں کے اجتماع میں اللہ تعالیٰ کے حضور دو رکعت نماز ادا کرنے کی ہے
اللہ اکبر کبیرا ۔

رمضان المبارک میں محبوب کی خاطر بھوکے پیاسے رہنے والے عاشقوں کو آج ایک
خاص ملاقات پر بلایا گیا ہے یہ خاص ملاقات ہے عید کی نماز اس لیے صبح اٹھ
کر خوب اچھی طرح نہا لیں ، پاک صاف ہوجائیں، اپنے لباس میں سے جو اچھا ہو
وہ زیب تن کریں ۔ خوشبو لگائیں، مسواک کرکے منہ کو معطر کریں ، جو عطر
میسر ہو وہ لگائیں ، سرمہ اور عمامہ سے زینت حاصل کریں ۔ الغرض محبوب سے
خصوصی ملاقات کی خوب اچھی طرح تیاری کرکے جلدی جلدی عید گاہ پہنچ جائیں۔
پہلی صف میں امام صاحب کے بہت قریب کیونکہ آج خاص نماز ہے اور خاص ملاقات
ایسا نہ ہو بچوں کی انگلیاں پکڑتے قیمتی جوتیاں سنبھالتے اور لوگوں کی
خاطر پہنے گئے کپڑوں کو سنوارتے ہماری عید کی نماز سڑک پر ادا ہو رہی ہو۔

عید کا دن خشیت الہٰی اور محبت رسول کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی ترغیب
دیتا ہے۔ دوسروں کے دکھ، درد اور تکلیف کو اپنے دل میں محسوس کرنے کی
ضرورت پر زور دیتا ہے اور ویسے بھی آقائے کونین کا ارشاد گرامی ہے کہ امت
مسلمہ ایک جسد واحد کی مانند ہے کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے گی تو سارا
بدن تکلیف محسوس کریگا۔ اور ان تعلیمات کا حقیقی عکس سرکا ر دو عالم کی
حیات مبارکہ میں جا بجا ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اور بظاہر یہ چھوٹا سا
واقعہ ہے مگر تاریخ انسانیت اور آبرو آدمیت کی پیشانی پر پوری آب و تاب
سے چمک رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہ آخری برگزیدہ نبی پاک جو کل جہانوں
کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اور کارکنان قضا و قدر جس کے اشارہ آبرو کے
منتظر رہتے تھے اور قدسیان فلک جن کے دیدار کی خواہش لیے ازل سے چشم براہ
تھے اورحورو ملائک کی بزم آرائیاں اور قدرت کی جلوہ آرائیاں جن کی ذات کی
بدولت استیادہ و آراستہ تھیں۔ آ پ نماز عید کی ادائیگی کے لیے نکلے تو
صحابہ کرام کے علاوہ آپ کے دونوں نواسے سیدنا اما م حسن اور سیدنا امام
حسین بھی ہمراہ تھے۔ دفعتاً نظر رحمت ایک ایسے بچے پر پڑی جو والدین کے
سایہ شفقت سے محروم تھا اور بوسیدہ لباس پہنے ہوئے تھا اور آنکھوں میں
آنسو لیے حسرت ویاس کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ رحمت عالم کی نگاہ رحمت پڑی
تو آنکھوں کے سامنے اپنا دور یتیمی آ گیا۔ آنکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑی
کی مانند گرنے لگے۔ آپ نے اپنی بابرکت چادر مبارک سے اس بچے کے آنسو
پونچھے اور اس کو اپنے سایہ عاطفت میں لے کر کاشانہ نبوت پر تشریف لائے
اور اس بچے کو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے سپرد کیا اور فرمایا کہ
اس کو نہلا کر اچھے اور نئے کپڑے پہنائے جائیں۔ پھر جب تک وہ بچہ تیار
ہوتا رہا وہ ہستی پاک جن کے نام کی برکت سے نبض ہستی تپش آمدہ اور خیمہ
افلاک ایستادہ ہے آپ محو انتظار رہے اور پھر اس بچے کی انگلی پکڑ کر اسے
اپنے ساتھ عید گاہ لے کر گئے۔

احساس جوابدہی اور پرسش احوال کا خیال ہمارے دل و دماغ سے رخصت ہوتا جا
رہا ہے ۔ ہمارا ہر قدم نمائشی اور ہر عمل آرائشی ہو کر رہ گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ کی ذات سے ہمارا تعلق بندگی دن بہ دن کمزور ہوتا چلا جا رہا ہے۔

عید کا دن ہو یا سال بھر کے دوسرے دن ہمیں ہر لمحہ رب العزت کی رضا کے
حصول کے لیے کمر بستہ رہنا چاہیے۔ ہمی اپنے کردار کو مضبوط بنانا چاہیے
کیونکہ یہی وہ حوالہ ہے جو انسان کو کبھی بھی طاق نسیان کی نذر نہیں ہونے
دیتا اور انسان آنے والے زمانے کے لیے نشان منزل مینارہ نور اور ایک مثال
بن جاتا ہے۔

عظمتوں کے تمام سر چشمے اور کبریائی کی تمام صورتیں رب العزت کی بارگاہ
کے شایان شان ہیں۔ ہمیں اپنی عبادات میں اخلاص اور بندگی کا جذبہ پیدا
کرنا چاہیے ۔ تحمل و بردباری کو زندگی میں اہم جگہ دینی چاہیے ۔ افق
روھانیت کے نیر و تاباں حضرت با یزید بسطامی نماز عید کی ادائیگی کے لیے
کپڑے پہن کر عید گاہ کی طرف جا رہے تھے کہ کسی نے نادانستگی میں گھر کی
چھت سے بہت سی راکھ نیچے پھینک دی اس راکھ سے آپ کا عمامہ ، چہرہ ، ریش
مبارک اور تمام کپڑے آلودہ ہو گئے۔ تحمل اور صبر کا اندازہ لگائیں کہ آپ
راکھ کو چہرے پر ملتے جاتے اور زبان سے بارگاہ ربوبیت میں شکر ادا کرتے
جاتے کہ با یزید تو تو دوزخ کے قابل ہے، ذرا سی راکھ سے منہ کیوں بنائے
اورآج ہم ہیں کہ ذرا سی مزاج کے خلاف بات ہو جائے تو ہم آگ بگولہ ہو جاتے
ہیں۔ اپنی بات پر معمولی سا اختلاف بھی ہماری انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

عید کے دن شکر کریں احتجاج نہیں
بعض لوگ خصوصاً خواتین عید کے دن احتجاج کا موڈ بنا لیتی ہیں۔ وہ گھرانے
جن میں کسی کا انتقال ہوگیا ہو یا گھر کا کوئی عزیز فرد جیل یا مصیبت میں
ہو ایسے گھرانوں کی خواتین عام طور سے کہتی ہیں اس سال ہم عید نہیں منا
رہے اور پھر پرانے کپڑے پہن کر بھوت کی صورت بنا کر احتجاج کرتی ہیں خود
بھی روتی ہیں، دوسروں کو بھی رلاتی ہیں ۔ یہ طریقہ ناشکری اور تکبر والا
ہے ۔ عید تو ایک ”دینی خوشی“ ہے ، رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں کی
خوشی، پس جس کی رمضان المبارک میں بخشش ہو گئی اس کی عید تو خود ہی
ہوجاتی ہے اور جو رمضان المبارک میں محروم رہا وہ لاکھ خوشیاں اور مستیاں
کر لے اس کی کوئی عید نہیں۔ عید کا دن شکر اور شکرانے کا دن ہے اگر آپ
کے کسی عزیز کا انتقال ہو گیا ہے تو آپ تلاوت کرکے اور نوافل ادا کرکے اس
کے لئے خوب ساری دعائیں کریں۔ اگر آپ کے عزیز جیل میں ہیں تو تلاوت اور
نوافل کے بعد ان کی رہائی کے لئے دعاء مانگیں مگر احتجاج والا ماحول نہ
بنائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ہم خدا نہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی
سے ہو۔ اللہ پاک کی مرضی جس کو چاہے زندہ رکھے اور جس کو چاہے موت دے
ہمارا کام اس کی تقدیر پر راضی ہونا ہے اور اس سے صبر کی دعاء کرنا ہے
اگر ہم اکڑیں گے اور کہیں گے کہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ تو یہ تکبر کی
علامت ہے مسلمان کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا بندہ اور غلام رہے اور خود
کو کچھ نہ سمجھے۔

عید کے دن غریبوں کا دل نہ دکھائیں
اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال دیا ہے تو اس کی اتنی نمائش نہ کریں کہ غریبوں
کے لئے زندہ رہنا مشکل ہوجائے۔ بہت قیمتی چیزیں اپنے بچوں پر نہ لا دیں ۔
بانٹ کر کھائیں اور ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور تو اور کسی غریب
کے گھر کے سامنے گوشت کی ہڈیاں اور پھلوں کے چھلکے تک نہ ڈالیں کہیں ایسا
نہ ہو کہ اس کے بچے بھی گوشت اور پھل مانگنے لگیں اور وہ بے چارہ غم کے
آنسو پی کر جلتا رہے۔

اللہ تعالیٰ نے جن کو غریب بنایا ہے وہ مالداروں سے افضل ہیں وہ مالداروں
سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے اور وہ انبیاءعلیہم السلام کے طریقے پر ہیں
وہ اپنی آنکھوں میں لالچ، محرومی اور سوال کی ذلت نہ بھریں۔ اپنے سر پر
قناعت کا تاج رکھیں عید کے دن نئے کپڑے بالکل ضروری نہیں ہیں ۔ بچوں کے
لئے نئے جوتے ہرگز ہرگز ضروری نہیں ہیں اس لیے ان چیزوں کا غم نہ کھائیں
اور نہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ لائیں۔ پیوند لگے کپڑوں میں جو
عزت اور شان ہے وہ ریشم کے لباس میں نہیں ہے کسی کو اس بات پر نہ کوسیں
کہ وہ ہمیں کیوں نہیں دیتا اور نہ اپنے بیوی بچوں کو کسی کے مال پر نظر
کرنے دیں ۔ قناعت اور استغنا کا تاج پہنیں اور قبر کی مٹی کو یاد رکھیں۔
رب کعبہ کی قسم دنیا انہیں لوگوں کو ستاتی ہے جو موت اور قبر کو بھول
جاتے ہیں اور جو لوگ موت اور قبر کو یاد رکھتے ہیں یہ دنیا ان کے قدموں
پر گرتی ہے ۔ عید کا ایک دن بھی گزر جائے گا چاروں طرف دنیا کے میلے دیکھ
کر اپنی غریبی اور فقیری کو داغدار نہ ہونے دیں۔

زاہدہ خوشی

SHARE

LEAVE A REPLY