بچپن کے اس واقعہ کو بیتے ہوئے اب تو کئی دہائیاں گزر گئیں۔ میں پانچویں جماعت کی نٹ کھٹ کھلنڈری سی بچی تھی۔ سب ہی بچے اسی طرح ہی کے ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی سنگت میں ہنستے مسکراتے ہرن کی طرح چوکڑیاں مارتے لیکن میری ہم جماعت نسرین فاطمہ بالکل بھی ایسی نہ تھی۔ وہ ہلکے سے لنگ کے ساتھ جب کبھی بھاگتی تو سب ہنس پڑتے۔ کوئی اسے پارٹنر بھی نہ بناتا کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے ہارنے کا خدشہ رہتا۔ جب وہ خموشی سے کتاب میں منہ چھپائے بیٹھ جاتی تو کوئی گہری رنگت والی کم رو نسرین فاطمہ کی طرف نظر بھر کے بھی نہیں دیکھتا۔ وہ لنچ بھی اکیلے کرتی اور سبق یاد نہ ہونے پر اکثر مار بھی اکیلے ہی کھاتی۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ”مولا بخش‘‘ کا استعمال آزادانہ اور طنز و تمسخر کا موسم ”ہرا بھرا ‘‘رہتا تھا۔ ایک دن خبر آئی کہ نسرین مر گئی۔ گو وہ کسی کی بھی دوست نہ تھی۔ لیکن جانے کیوں یہ سن کر پوری کلاس میں ایک سناٹا سا طاری ہو گیا۔ پتہ نہیں سارے بچے کیا سوچ رہے تھے۔ شاید اس کی موت نے بچوں کو پہلی بار اس کے وجود کا احساس دلایا تھا۔
پچھلے دنوں کونکناسن شرما کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”اے ڈیتھ ان دی گنج‘‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ جس کی حقیقت پسندی اور خوبصورت ہدایت کاری نے مجھے جہاں مشہور ہدایت کار ستیہ جیت رائے کی فلموں کی یاد دلا دی۔ وہیں اس کے کردار شوٹو کی موت سے اس سناٹے کی یاد بھی عود آئی جو نسرین کی موت کی خبر سن کر طاری ہوا تھا۔
اس فلم کی ابتدا ہی میں نوجوان ”شوٹو ‘‘کی لاش کو کار کی ٹرنک میں رکھا جا رہا ہے تاکہ اسے کلکتہ لایا جا سکے۔ بقیہ فلم فلیش بیک ہے جو ستر کی دھائی (1978) کی عکاسی کرتی ہے۔ فلم کی کہانی انڈیاکے ٹاؤن ”گنج‘‘ میں بسنے والے اینگلو انڈین خاندان کے گرد گھومتی ہے۔ جہاں گرمیوں کی چھٹیوں میں کلکتہ جیسے بڑے شہر سے بوپی اور ننڈو(بیٹی اور داماد )اپنی بیٹی کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ بوپی کے والدین کے ساتھ اس کا نوجوان کزن ”شوٹو ‘‘بھی رہتا ہے۔ جس کی والدہ نے اسے اپنے متمول رشتہ داروں کی سرپرستی میں بھیج دیا ہے۔ ”شوٹو‘‘ کے باپ کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔ اس گھر میں بظاہر ایک گہما گہمی، خوش باشی کی فضا ہے۔ مگر اسی گھر میں خموش طبع، حساس اور عدم اعتماد کا شکار” شوٹو ‘‘کی موجودگی غیر محسوس طریقہ سے متاثر کرتی ہے۔
جسے ننڈو اور بوپی سے ملنے آنے والے دوست و کرم، برائین اور می می کسی نہ کسی طرح اپنی حکمرانی کا نشانہ بناتے ہوئے تکلیف دہ الفاظ اور تمسخر آمیز لہجہ میں ”شوٹو ‘‘کو اس کی کمزوری اور مس فٹ ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ تنہائی، عدم اعتماد، اداسی کے عالم میں وہ نہ صرف جذباتی بلکہ جنسی زیادتی کا بھی شکار بنتا ہے۔ اس کی واحد پناہ گاہ اپنی کزن کی چھ سالہ بیٹی کی صحبت ہے کہ جہاں وہ خود کو با اعتماد محسوس کرتا ہے۔ کسی کے پاس اس کے لئے دلجوئی اورہمدردی و محبت کا جذبہ نہیں۔ اسی عالم میں ”شوٹو ‘‘ایک دن خود کو ختم کر لیتا ہے۔ گو یہ بظاہر ایک فلم کا انجام ہے لیکن اس کہانی کی بنیاد حقیقی واقعات پہ رکھی گئی ہے۔
”شوٹو ‘‘ہو یا ”نسرین فاطمہ‘‘ اگر ہم اپنے اطراف نظر دوڑائیں تو ہمیں ایسے کتنے ہی افراد نظر آئیں گے جو حکمرانی سے بھرپور رویہ کی سرد مہری، تمسخر اور ہزیمت کے شکارکے باعث اداس اور الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔ بظاہر خاموشی کا لبادہ اوڑھے یہ افراد دراصل ایک جذباتی ٹائم ہیں۔ جو خود کشی کی صورت کسی وقت بھی پھٹ سکتے ہیں۔ ایسے تمام افراد جس رویہ کا شکار ہیں اس کو حرفِ عام میں بلنگ کہا جاتا ہے۔ جو بظاہر غیر مجرمانہ سا فعل ہے جس کی با آسانی پکڑ نہیں لیکن یہ رویہ اپنے شکار کو، خود کشی جیسے انتہائی قدم پہ اکسا سکتا ہے۔
انگریزی زبان کی اصطلاح بلنگ ہے جو کہ بالخصوص پچھلے کئی سالوں سے خاصی مستعمل ہے۔ خاص کر اسکول میں پڑھنے والے بچوں کی عمروں میں یہ رویہ عام ہے۔
اردو میں گو اس کے لئے بدمعاشی، غنڈہ گردی، ستانا جیسے الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں تاہم کوئی ایک متبادل لفظ اس کی معنویت کی گہرائی کو نہیں پہنچ پاتا۔ لہذا ہم مضمون میں اسی اصطلاح کو استعمال کریں گے۔
کسی فرد یا گروپ کے ناپسندیدہ جارحانہ رویہ کی شکل بلنگ ہے۔ جو دانستہ طور پر اور متواتر کسی کو زک پہنچانے کی غرض سے روا رکھا جائے۔ اس میں افراد کے مابین طاقت کا غیر متوازن (حقیقی یا تصوراتی)استعمال کیا جاتا ہے۔ تاکہ اس کے استعمال سے دوسرے کو قابو میں کیا جائے۔ مثلا کسی کو دھمکی دینا، طنز، ہتک آمیز اور تکلیف دہ الفاظ کا استعمال، افواہیں پھیلانا، جسمانی طور پر حملہ کرنا، دھکا دینا اور جان بوجھ کر گروپ سے نکال کر تنہا کر دیناوغیرہ بلنگ کے زمرے میں شمار ہوں گے۔
فی زمانہ الیکٹرانک یا سائبر بلیئنگ بھی اپنے عروج پہ ہے۔ کہ جس میں ای میل، ویب سائٹس، سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ٹیکسٹ میسنجر، فیس بک یا فون کے ذریعہ خوفزدہ کرنا شامل ہے۔ یہ پرخطر رویہ خودکشی پہ اکسا سکتا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ بُلّی کرنے والے افراد عموما اس رویہ کا شکار رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ بُلّی ہونے والے بُلّی کر بھی رہے ہوتے ہیں۔
امریکہ میں خودکشی کی تیسری بڑی وجہ بلنگ  ہے۔ بالخصوص 14 سے 10 سال کی عمر کے بچوں میں۔ تاہم بلیینگ  کے اثرات کسی خاص خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمگیر سطح پہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جو تشویش ناک ہیں۔ مثلا سائبر بلیینگ کے حوالے سے پاکستان کی نائلہ رند کا کیس جس نے جنوری 2017 میں چھت سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ جس کا لیکچرر مستقل اس کو اس کی تصویروں اور وڈیو کی مدد سے بلیک میل کر رہا تھا۔ غرض مغرب ہو یا مشرق کم عمر نوجوانوں میں خود کشی کا تناسب تشویش ناک صورتحال ا ختیار کر چکا ہے۔
بلیینگ کے منفی نتائج:۔ ڈیپریشن، اینگزائٹی، نیند میں بے قاعدگی، احساسِ تنہائی، وغیرہ ہیں جو کہ جو نوجوانوں اور بچوں کی تعلیمی استعداد اور دوسری سرگرمیوں پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے دور رس منفی نتائج میں الکوحل اور منشیات کا استعمال، مجرمانہ حرکات، تشدد کا رویہ شامل ہیں۔ گو محض بلنگ ہی خود کشی کی واحد وجہ نہیں اس کے اور عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلا گھریلو مسائل، والدین کے مابین لڑائیاں، قریبی رشتہ داروں میں موت، غربت وغیرہ تاہم اس کی وجہ سے خود کشی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
علامات:۔ اگر آپ والدین ہیں تو اپنے مشاہدہ میں بچہ کا رویہ بغور رکھیں۔ مثلا اگر بچہ اسکول جانے سے گریز کر رہا ہے، اس کے دوستوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وہ خاموش، خوفزدہ، شرمسار یا خجالت کا شکار ہے۔ سر یا پیٹ میں درد یا دوسری جسمانی شکایات میں مبتلا ہے۔ اس کے سونے کے معمول اور کھانے پینے کی عادات میں تبدیلی ہو گئی ہو۔ آن لائین جانے کے بعد یا فون پہ بات کرنے کے بعد اداس اور مضمحل نظر آتا ہو۔
انہیں اپنی بے وقعتی اور بے بسی کا احساس ہو اور رویہ گھر ُسے فرار ہو تو یہ تمام خطرہ کی علامات ہیں۔ ایسے بچوں یا نوجوانوں کو اعتماد میں لے کر محبت اور سکون سے اس کی بات سنیں اور اپنے تعاون کا اظہار کریں۔ انہیں بتائیں کہ یہ ان کا قصور نہیں۔ اپنے بچے کی صورتحال کو سمجھیں اور یہ کہ اس سے کس طرح نپٹا جا سکتا ہے۔ امکانات یہ ہیں کہ آپ کا بچہ خوف کے باعث صورتحال کا سامنا کرنے سے گریز کرے گا۔ مگر اسے بتائیں کہ اس سے کس طرح مقابلہ کیا جا سکتاہے۔ اس کے ساتھ ہونے والی تمام تفصیلات تاریخ وار رقم کریں۔ ای میل اور ٹیکسٹ پیغامات کو محفوظ کریں اور مناسب اتھارٹی مثلا ٹیچر، اسکول کے پرنسپل، کونسلر یا سوشل ورکر سے رابطہ میں رہیں اور سنگین صورتحال میں پولیس سے رابطہ میں گریز نہ کریں۔

از : گوہر تاج
مشی گن ، ڈیٹرائیٹ ، امریکہ

SHARE

LEAVE A REPLY