ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے
کے مصداق ان عقل کے اندھوں نامعقولوں کو کون سمجھائے کہ 15ستمبر 1982کو بننے والے ریڈیو پاکستان فیصل آباد کو قائم ہوئے 99 سال نہیں ہوئے ( 99سالہ لیز کے حوالے سے)
اور ہاں بھولے بادشاہ نلکہ بدھو بادشاہ یہ کسی ایم این اے ، ایم پی اے۔وزیر مشیر قبضہ مافیا کا ڈیرہ ،ناجائز قبضہ شدہ گھر یا کمرشل پلازہ نہیں ایک قومی ادارہ ہے مثبت انداز فکر کے ساتھ عوام کوحالات حاضرہ سے آگاہی فراہم کرنے والا ،حکومتی پالیسیوں کی ترویج وتشریح کرنے ولا، مذہبی رہنمائی ،تفریحی مواقع،روز گار کی فراہمی افواہ سازی ،منافرت کی نفی کرتے ہوئے حقائق پر مبنی اطلاعات خبریں پیش کرنے والا کھیلوں ، صحت مند سر گرمیوں کی رپورٹس نشر کرنے والااور قومی یکجہتی کے فروغ اور اس کا احساس جاگر کرنے والا واحد قابل فخر سر کاری ادارہ ہےیہ کسی کی اماں کے جہیز میں نہیں آیاسرکاری رقبوں کو اونے پونے اور مال مفت سمجھ کر ہضم کرنے والے سول اور غیر سول اشرافیہ کے گھر ،ڈیرے اور پلازے خالی کروائے جائیں ڈی گراؤنڈ کی وسیع تفریح گاہ کے ایک کارنر پر یہ ریڈ یو پاکستان خود سرکار نے بنایا جس طرح پولیس ،ضلعی انتظامیہ پی ایچ اے ، کار پوریشن،ایف ڈی اے واسا اورمختلف دیگر محکموں کے دفاتر ان کی جگہ خریدی نہیں گئی نہ ان کے ذمہ داروں کو وراست میں ملی جہاں تک اس جگہ فوڈ سٹریٹ بنانے کی احمقانہ سوچ کا تعلق ہے وہ دماغ اور ذہن عقل کو ہاتھ مارے کہہی علاقہ پہلے ہی فوڈ سٹریٹ راؤنڈ ہے مالدار وں اور اور نو دولتیوں کے لئے خرچ کرنے کھانے پینے کے بہت سے ہوٹل ،ریسٹورینٹ ،سٹور شاپس یہاں پہلے سے موجود ہیں یہا کھاتے پیتے لوگوں نے ہی آنا ہےکچھ کرنا ہے تو ان لوگوں کیلئے کرو جو دو وقت کی روٹی سے جان مال کے تحفظ اور انصاف ، روز گارسے محروم ہیں ان کا سوچو ان کیلئے کچھ کروجو مہنگائی سے بھوک اور احساس محرومی سے مر رہے ہیں خود کشیاں کرنے اور بھوک سے بلکتے اپنے بچوں اپنے پیاروں کے گلے دبانے پر مجبور ہیں جو دعوے کرکے تم اقتدار میں آتے ہو انھیں پورا کرو ہے پٹرول ، بجلی ، گیس، فون تعلیم ، صحت ادویات،کے بلوں ، قیمتوں پر تو کنٹرول نہیں کر سکتے اربوں کھربوں کی کرپشن کا لوٹا ہوا قومی سرمایہ تو واپس نہیں لا سکے قرضوں کا بے مہار بوجھ قوم وملک پر ڈالے چلے جارہے ہو کشمیر کے مظلوم عوام کو محض طفل تسلیوں پر تڑ خا رکھا ہے ملازین بے چاروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوسکتا مگر افسر شاہی اور حکمرانوں کے اعزازیئے مراعات بڑھائے جارہے ہو شرم کرو ڈوب مرو۰۰۰۰ ۰ واپڈا سوئی گیس ٹیلی فون سمیت اکثرسرکاری دارے سروسز کی فراہمی کی بجائے ایک طرف قومی وسائل اجاڑنے لوٹنے پر لگے ہیں یا مختلف بہانوں سےعوام سے مبالغہ آمیز چارجز اور جگا ٹیکس وصول کر رہے ہیں انھیں لگام دو کنٹرول کرو خدارا حماقتوں بچگانہ پن دوعملی کا مظاہرہ کرنےاور خوامخواں کی بونگیاں مارنے کی بجائے حالات کے تقاضوں کو سمجھا جائے وہ اقدامات کئے جائیں جو متقاضی ہیں ضروری ہیں۔ریڈیو پاکستان جیسے ادارے پر جھپٹنے کی بجائے اسے مزیدمضبوط اور موئثر بنانے کا اہتمام کیاجائے
میاں سلیم شاہد













