ب سے پلواما کا حملہ ہوا عجیب و غریب صورتِ حال رہی ۔بھارت نے جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کر دئے ۔بھارتی میڈیا لگا کہ کوئی بے دماغ مشین ہے کہ جو کچھ بھی منہ میں آرہا ہے کہہ رہا ہے ۔پاکستانی میڈیا اور پاکستانیوں نے سب کچھ صبر سے سہا اور بات چیت کا عندیہ دیتے رہے یہاں تک کہا کہ کوئی ثبوت ہے تو لاؤ ہم تحقیق کرینگے اور جو بھی قصؤر وار ہوا اُسے سزا دینگے ۔مگر کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لئے انڈیا اپنی خوابی کیفیت میں رہا اور سہانے خواب دیکھتا رہا کہ بس اب پاکستان دنیا میں لعن طعن کا نشانہ بنے گا سب اُس کے مخالف ہو جائینگے مگر شاید یہ نہیں جانتا کہ سچ اور حق پر کبھی پردہ نہیں رہتا جس طرح جھوٹ کھل کر سامنے آتا ہے سچ کی بھی جیت ہوتی ہے اور وہ بھی سامنے آتا ہے ۔جیسا کہ ساری دنیا نے دیکھا ۔
پھر شاید انڈیا کے جنگی جنون میں کمی نہیں آئی اور اُس نے ایک اور بے وقوفی کر ڈالی کہ اپنے لڑاکا جہاز یہ سوچ کر پاکستان کی طرف اُڑا دئے کہ بس لو اب ایلیکشن میرے ہاتھ میں ۔لیکن قسمت خراب نکلی بلکہ بد نیتی کی قسمت ہمیشہ ہی خراب ہوتی ہے اس لئے جہاں سے بھگائے گئے وہاں دو چار گڑھے بنا کر چلے گئے کہ دیکھ لو ہم آئے تھے ۔اور بھاگتے ہوئے لنگوٹی چھوڑ گئے ۔انڈین میڈیا لگا کہ جھوٹ کا کوئی بازار ہے کہ جہاں سے ہر قسم کا سستے سے سستا اور مہنگے سے مہنگا جھوٹ خریدا جا سکتا ہے جو ہمیں مفت میں سوشل میڈیا اور انڈین چینلز پر سننے کو مل رہا تھا ۔اور ہمارا میڈیا انتہائی برد باری اور سنجیدگی سے ان کے جھوٹ کھول رہا تھا فرق صاف ظاہر تھا کہ پڑھے لکھے اور جاہل لوگوں میں کتنا فاصلہ ہوتا ہے کہ دور دور تک ہماری سچائی اور ان کا جھوٹ پھیل گیا اور سچ نے فتح پائی ۔ہمارے وہ لوگ بھی جو انڈیا کی طرف نرم رویہ رکھتے تھے سیدھے ہو گئے اور ہر کسی نے انڈیا کی ہر چیز سے کنارہ کشی کا عندیہ دے دیا اور کہا کہ ٹماٹر بھی اپنے ہی پاس رکھو کہ ایلیکشن کے جلسوں میں پھینکنے کو کام آئینگے ۔ہم تمہارے لال نہیں اپنے ہرے اور خوبصورت ٹماٹر کھائینگے جو زیادہ زائقہ رکھتے ہیں ۔اور سالن کو بھی زائقہ دار بنا دیتے ہیں ہم چٹوری قوم ہیں ہم بد زائقہ چیزیں استعمال نہیں کرتے ۔
پھر رات سونے سے پہلے ایک خبر نے ہمیں مزید جگا دیا کہ ہمارے شاھینوں نے دو لڑاکا جہاز مار گرائے جو ایک ہماری سرحد کے اندر گرا کیونکہ اُس نے جرائت کی تھی ہماری سرحد کے اندر آنئے کی اور دوسرا کشمیر میں ہم نے پائیلیٹ بھی پکڑ لیا ۔جو ہمارے جوانوں کی تعریفیں کر رہا ہے ۔واہ بھئی واہ یہ ہوتا ہے اصل کردار ۔ہم نے چائے بھی پلائی اور لوگوں سے اُسے بچایا بھی جو ہمارے مذہب کا ہمارے دین کا ضابطہ ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو ۔ہم نے وہ بھی کر کے دکھا دیا ۔ہمیں لگا کہ چائے کا ذائقہ بہت اچھا تھا یا پھر اُس پائلیٹ نے بہت دن بعد چائے پی تھی یا پھر پاکستانی چاشنی اُس میں کچھ زیادہ تھی جسے بہت شوق سے پیا جا رہا تھا ۔
یہ باتیں تو جملہ معترضہ سمجھیں مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگ کا نام بھی اس دور میں لینا ہمیں کم عقلی اور بے وقوفی لگتا ہے ۔کیونکہ اب جنگیں وہ نہیں ہیں جو پہلے لڑی جاتی تھیں اب تو ایک بٹن کی بات ہے جو پہلے دبا دے ۔۔لیکن تباہی مقدر ہو جائیگی اس لئے ہم جو ہمیشہ ہی امن کی بات کرتے ہیں اگر ہم نرمی کرتے ہیں تو کمزوری نہ سمجھا جائے کہ واحد فوج ہے جو بے خطر لڑتی ہے کہ شھید ہوا تو اوپر تمغے ملینگے غازی بنا تو زمین پر تمغے لوں گا ۔ پوری قوم کا محافظ ہونگا اس لئے اس قوم کو للکارنا آسان نہیں ہے اس کا چھوٹاسا نمونہ ابھی دیکھ ہی لیا ہے ۔
جنگوں سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں مرتے ہیں عوام یہ جنگیں کروانے والے نہیں مرتے کیونکہ یہ جو سوچ رکھتے ہیں بلا وجہ چھیڑ چھاڑ کی یہ شیطانی سوچ ہے ۔جو کسی کے بھی حق میں نہیں ہے ۔مودی صاحب شاید سمجھ نہیں رہے کہ کن آہنی دماغوں اور کس آہنی عزم کا سامنا کر رہے ہیں جہاں سب ایک ہیں ۔ویسے ہم کتنے ہی اختلاف رکھیں لیکن جب ملک کی قوم کی بات ہو تو ساری پارٹیاں متحد ہوتی ہیں اور یہ ہی ہماری شان ہے ۔اور یہ ہی ہماری طاقت ہے جسے سمجھنے کے لئے مودی جیسا نہیں افلا طون جیسا دماغ چاہئے ۔
ہم اپنے ملک کے چپے چپے کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ۔اگر ہمارا لیڈر بات چیت کی دعوت دے رہا ہے تو یہ ہمارا کردار ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جنگیں کسی کے مفاد میں نہیں ہوتیں ۔یہ نقصان پہنچاتی ہیں انسانیت کو معصوم لوگوں کو غریب عوام کو اور اُن کے مسائل بجائے کم ہونے کے بڑھ جاتے ہیں اور انڈیا پاکستان تو اس جنگ کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ دونوں ملکوں میں غربت بہت زیادہ ہے مڈل کلاس کا جینا مشکل ہو رہا ہے سفید پوش کو اپنی سفید پوشی قائم رکھنا دشوار ہو رہا ہے ایسے میں یہ حرکتیں جو انڈیا کر رہا ہے دونوں ملکوںکے لئے تکلیف اور تشویش کا باعث بنینگی ۔سپر طاقتیں جو صرف اور صرف اپنے ملک اور اپنے عوام کا مفاد دیکھتی ہیں انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ہم جنگ میں جھونک دئے جائیں ۔انہیں صرف اور صرف اپنا کھیل کھیلنا ہے ۔ہم جتنا صبر اور تحمل دکھا سکتے تھے دکھا دیا اب اگر تم خود اپنے لئے گڑھا کھود رہے ہو تو تم جانو ۔
پہلی جنگِ عظیم اور دوسری جنگِ عظیم کے اثرات آج تک دنیا پر پڑ رہے ہیں اگر ہم پڑھے لکھے سمجھدار ہو کر بھی نہ سمجھیں تو ہماری کوتاہی ہوگی۔ پاکستان تو اب کُندَن بن گیا ہے ہر قسم کی دھشت گردی اور دھماکے سہہ سہہ کر ہم سے زیادہ کسے اس تکلیف کا احساس ہوگا جو جنگ اور دھشت کردی سے پہنچتی ہے ۔ہم حساس قوم ہیں جس بات سے ہم تکلیف محسوس کرتے ہیں اُس بات وکو دوسروں کے لئے بھی پسند نہیں کرتے اس لئے اس جنگی جنون کو بھارت کو چاہئے کہ ختم کرے اور اپنے عوام کے بارے میں سوچے ۔جھوٹ بولنا ختم کرے اور حقائق کا سامنا کرے ۔ظلم جب بڑھتا ہے تو پھر مظلوم طاقت پکڑتا ہے پھر وہ چاہے فلسطینی ہو کشمیری ہو یا افغانی اور عراقی جن کے سامنے اُن کے خاندانوں کو ختم کر دوگے وہ بدلے کی آگ میں تمہیں بھی جھلسا دیں گے اور خود بھی ختم ہو جائین گے اس لئے انسانیت کا ساتھ دو ۔ہمدردی اور شفقت اختیار کرو تاکہ دنیا میں امن ہو ۔ہم امن پسند قوم ہیں اور امن سے رہنا چاہتے ہیں لیکن کمزور نہیں ہیں ۔
اللہ میرے ملک اور اس میں بسنے والوں کی حفاظت فرمائے ہر آفت ہر مصیبت سے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY