حضرت عبد القادر جیلانی(2)۔۔۔ شمس جیلانی

0
812

اس مضمون کی قسط نمبر(1) میں پہلے لکھ چکا ہوں مجھے بعد میں احساس ہوا کہ میں نے انکا یہ حصہ چھوڑ دیا ہے جو سب سے زیادہ اہم تھا کہ انہوں ؒ نے شافعی فقہ کیوں چھوڑااور حنبلی ؒفقہ کیوں اختیار فرما یا جس میں ان کا مقام حضرت احمد بن حنبل کے بعدؒ دوسرا ہے؟ میں نے اکثر عالموں سےدریافت کیا کہ انہوں نے شافعی فقہ چھوڑ کر حنبلی ؒ فقہ کیوں اختیار فرمایا؟لیکن کوئی مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا صرف ایک بزرگ نے جواب دیا جوکہ خود صاحب کشف بزرگ تھے (1972 ء) اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں اور وہ اس وقت ایک بہت بڑی درسگاہ کے امیر اور شیخ الحدیث بھی تھے!مرحوم نے ؒ بتایاکہ اس لیئے کہ وہ بھی قریش اور ہاشمی تھے؟ ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی رہی ہو اوربنو عباس نے اقتدار میں آنے کے بعد جن لوگوں پر ظلم ڈھائے ان میں حضرت احمد حنبل ؒبھی شامل اس لیئے ہوں کیونکہ ان کا تعلق بھی بنی ہاشم سے تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حکمرانوں کی نگاہ میں نگاہ میں ایسے لوگ زیادہ کھٹکتے ہیں؟ کیونکہ وہ بھی خلافت کے متوقع امید وار کسی وقت بھی بن سکتے ہیں یا بنا ئے جاسکتے ہیں اور حکمرانوں کے لئیے پریشانیوں کا باعث ہو سکتے ہیں؟انہیں میں ایک شخصیت حضرت امام حنبل ؒ کی بھی تھی۔جوکہ سنی فقہا کے چار اماموں میں سے ایک تھے جوباقی تھے تین اس وقت تک اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ لہذا انہیں نے ” فتنہ خلق قر آن ” کے سلسلہ میں بے انتہا نقصان اٹھایا قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ کوڑے کھائے کیونکہ وہ حکومت کے اس موقف کی تصدیق کرنے کو تیار نہ تھے کہ قرآن کومخلوق مان لیا جا ئے۔ ہارون الرشید جو کہ مالکی فقہ کے ماننے والے تھے انہوں نے حضرت مالک ؒسے جب وہ حیات تھے چاہا کہ مالکی فقہ کوسرکاری فقہ مان کر نافذ کرکے سب سے تسلیم کرا لیا جا ئے؟مگر حضرت امام مالک ؒ نے ہاروں رشید سے اتفاق نہیں کیا اور فرمایا سب کو رہنے دولہذا یہ منصوبہ ان کے ہوتے ہوئے قدم نہیں جما سکا؟ لیکن ان کے وصال بعد خلافت فرقہ معتزلہ کے گھیرے میں آگئی جو کہ ایک چھوٹا سا فرقہ تھا اور اس نے علامت کے طور نام پر خودکو معتزلہ کا دے رکھا تھا یعنی مذہب سے علٰحدہ ہونے والے لوگ کیونکہ وہ مذہب پر عقل کو تر جیح دیتا تھا اور انہوں نے اس نظریہ کو اتنا اچھا کر کے دکھا یا کہ خلیفہ کواس وقت جبکہ انہیں ایک جہاد در پیش تھا اور وہتشریف جارہے تھے! وہ یہ حکم دینا نہ بھولے کہ تمام علماء سے بزو شمشیر میری واپسی تک اسے تسلیم کرا لیا جا ئے۔؟اور لو گوں نے تو ہتھیار ڈالدیئے مگر حضرت احمد ؒ بن حنبل ؒ تیار نہیں ہوئے۔اوردوسرے فرد حضرت نو ح نیشا پوری تھے جن کااصل نام نوح بن مامون جنیدی سابوری تھا؟ان دونوں کی دربار ِخلافت میں طلبی ہوئی مگرحضرتؒ نوح تو راستے میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے جبکہ امام حنبل ؒ ظلم سہنے کے لئے تنہا رہ گئے۔ جو کہ اتنے متقی تھے کہ میرے خیال میں اس وقت کے علما ء میں سے کوئی اور نہ تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ حکمراں بیت المال کو اپنا مال سمجھتے تھے اور اسی طرح استعمال بھی کر تے تھے؟ جس کی طرح بنی امیہ نے طرح ڈالی تھی کہ ان کے نمائدے نے حضرت موسیٰ عشری سے جوکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نمائندگی کر رہے تھے کہ ” اب حکومت وہ شخص کریگاجس کی دو داڑھیں ہونگی ایک کھانے کی اور دوسری کھلانے کی ً مگر ابن ِ کثیرؒ نے نہ ماننے والوں کی تعداد پانچ بتا ئی ہے واللہ عالم؟ اس میں تین یہ اور بتائے ہیں؟ نعیم بن حمادد خزائی، ابو یعقوب البویطی، احمد بن نصر کزاعی تھے ؒ دو شا ہی قید خانہ میں اللہ کو پیارے ہوئے جبکہ آخری قتل کرادیئے گئے۔ اس وقت کے حالات جب ان کو پا بہ جولاں خلیفہ وقت کے سامنے بر ہنا کر کے پیش کیا گیا یہ تھے؟ کہ اس سے پہلے انہیں ایک خط حضرت ربیع بن سلیمان ؒ کے ذریعہ مل چکا تھا جو کہ حضرت ادریس شافعیؒ نے انہیں بھیجا تھا کہ ” انہوں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے کہ وہ فرما رہے ہیں کہ ” احمد بن حنبل کو بشارت دو کہ ا للہ قر آن کے بارے میں تمہیں آزمائش میں ڈالے گا ہمت نہ ہارنا ” ًانہوں نے اس کو لکھ کر ایک لفافے میں بند کر کے حضرت ربیع بن سلیمانؒ کے ہاتھ بھیجا جب وہ مصر میں تھے وہ یہ خط لیکر اس وقت پہنچے جب حضرت احمد بن حنبل فجر کی نماز پڑھ کر تشریف لا رہے تھے۔ چونکہ سنی عقیدہ ہے کہ جس نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا اس نے حضور ﷺ کو ہی دیکھا؟ جس کی بنیاد وہ حدیث ہے کہ” جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو مجھ ہی کو دیکھا ًان کے ایمان کا تو کوئی جواب ہی نہ تھا جس کی وجہ سے مذبذب ہوتے وہؒ اس کے لئیے کمر کس کر بیٹھ گئے۔ کیونکہ ان کے تقوے کا عالم یہ تھا کہ ان کے پاس ایک چھوٹا سا قطعہ زمین تھا جوکہ وراثت میں انہیں ملا تھا اس کو وہ خود ہی کاشت کرتے تھے اور اسی میں گزارا کرتے تھے۔ ان کے ایک بھائی اور صاحبزادے جو حکومت سے منسلک تھے وہ ان کے پیچھے نہ نماز پڑھتے اورنہ ان کے گھر کاکھانا کھاتے؟ جبکہ ان کے عقیدتمندوں کا یہ عالم تھا کہ وہ درہم لاکر ان کے قدموں میں ڈھیر لگا دیتے تھے مگر وہ قبول نہیں کرتے تھے؟۔ یہ ابتلا ان پرایک دو دن نہیں رہی انہوں نے چھ خلیفاؤ ں کا دور دیکھا لیکن ان کو خلیفہ وا ثق کی حکومت دوران بہت زیادہ تکلیف اٹھانا پڑی چونکہ قید میں ہونے کی وجہ سے انکا در س دینا بھی بند ہو گیا۔ اور معتقدین بھی تقریباً ختم ہو گئے کہ ان کا ساتھ دینا یا ان کے پاس آنا جاناحکو مت سے ٹکر لینا تھی؟ ان کے انتقال کے بعد ان کے ہم عصروں نے ان کے اس سلسلہ میں اتنے خواب دیکھے ہیں جن کی تعداد میں نہیں گن سکا جو ان کے اور جنت کے مطابق، ان کے ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بر تاؤ کے متعلق ہیں اور دیکھنے والے سارے کے سارے متقی لوگ تھے جن کے تقوے کی اسوقت دھوم تھی؟ ان کے انتقال کے بعد ان کے جنازے میں مختلف روایات کے مطابق دو کرورڑ شرکاء تھے ان کی گدی پر حضرت عبد القادر جیلانی نے بٹھا ئے گئے تاکہ تلافی مآفات ہوجائے اور انہوں نے آکرحنبلیؒ فقہ زندہ کیا اسی لئے ان کا لقب محی الدینؒ مشہور ہوا یعنی دین کو زندہ کرنے والا؟ کسی اس مورخ نے اسکا ذکر نہیں کیامگر یہ اغلب ہے کہ اس کا حکم بھی انہیں ذرائع سے آیا ہو گاجہاں سے ا ٓزما ئش کی اطلاع آئی تھی؟۔ کیونکہ وہ تمام اولیا ئے کرام میں انفرادی حیثیت کے حامل ہے جو انؒ کے یہ فرما نے سے ظاہر ہوتا ہے کہ “میرے قدم تمام اولیا ء کے کاندھوں پر ہیں ” اور پھر جو اسوقت جہاں تھا اس کے ہاں کہنے پر مزید ثابت کرتا ہے۔ چونکہ یہ مضمون ان دونوں کی پوری زندگی اپنے اندر نہیں سموع سکتانہیں بہتر ہے جنہیں شوق ہو وہ اس ؒعظیم شخصیت حضرت عبد القادر جیلانی کی زندگی کےحالات زندگی پر اور ابن کثیرؒ کی کتاب البدایہ والنہایہ کی جلد نمبر 10 کے صفحہ نم 872سے صفحہ 903 تک امام احمد حنبل ؒ کوپڑھ لیں تو ان تشنگی دور ہوسکتی ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY