کتنا زیاں اور کرنا ہے ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

1
86

دوستو فیس بک ” بہانوں کی دوکان ” ہو کر رہ گئی ہے۔ ہر طرف زمیداری کے لئے کندھے ڈھونڈتے لوگوں پر مجھے ترس آنے لگا ہے ۔

میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کون سی قوم آئے گی جو احتجاج بھی کرے گی ۔۔ جو سیاستدانوں کو جوتے بھی مارے گی ۔۔ جو بے حیائی کے سیلاب کو روکے گی بھی ۔۔ جو اسلام کا بول بالا کرے گی ۔۔ جو خواندگی کو سو فیصد تک لے جائے گی ۔۔۔ جو آدمی عورت کی باہم رشتوں میں اعتبار اور عزت کو لائے گی ۔۔۔ جو بچوں کی حفاظت کرے گی ۔۔۔ جو مولویوں کو راہ راست پر لائے گی ۔۔۔ جو پڑھے لکھے وطن سے چلے گئے ہیں انہیں واپس لائے گی ۔۔ ملک میں سائینسدان ۔۔ عالم اور موجد پیدا کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پولیس والوں کو بے گناہوں کو مارنے سے روکے گی ۔۔۔۔۔
وہ کون سی قوم ہو گی ؟
کب آئے گی ؟
پر دوستو ۔۔۔ وہ قوم کہیں سے نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کچھ بھی کرنا ہے وہ اسی قوم کو کرنا ہے ۔۔
بہت ہو گیا واویلا ۔۔۔۔ بس اب بہانے کی ٹوکری اپنے سروں اور کندھوں سے اتاریئے ۔۔ اور اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سب اپنا اپنا کام کریں گے اور جاہلوں کی بات پر اپنی ذاتی عقل کا استعمال کرنا شروع کر دیں تو ہر فرد حیران رہ جائے گا کہ قوم تو اس کے اندر ہی تھی جسے یہ سارے کام ایک زمیداری کے طور پر ملے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا میں تین فیصد آدمی اور ایک فیصد عورتیں برے کردارو قماش کے ہیں ۔ پھر بھلا 7 اچھے آدمیوں اور 9 اچھی عورتوں کے پاس معاشرے کی بدتدریج بگڑتی صورتحال کا جواز خوف ، کاہلی اور بہانے بازی کے علاوہ کیا رہ جاتا ہے ۔

کتنا زیاں اور کرنا ہے ۔۔۔۔ بہانے اور کتنے بنانے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ زمیداریاں تو روزانہ پڑھتی جایئں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرانی گلی سڑی فصلوں کو کاٹنے کا وقت آگیا ہے دوستو ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آج یہ فصل نا کاٹی تو کل یہی فصل سب کو کاٹ دے گی ۔۔۔ سب گل سڑ جائیں گے ۔۔۔۔۔ ہر طرف نفرت اور ہوس کی بدبو ہی بدبو ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY