مشال خان قتل کیس کی سماعت مکمل ، فیصلہ 7 فروری کو

0
612

توہین مذہب کے الزام میں عبدالوالی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خیبرپختونخواہ کے ضلع ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو 7 فروری کو سنایا جائے گا

عبدالوالی خان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم مشال خان کو اس کے ساتھی طالب علموں اور یونیورسٹی کے ملازمین نے پچھلے سال13 ایرپل کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا، جس کی ملک بھر کی مختلف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر اس قتل کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

بعد میں پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ہری پور سینٹرل جیل کے احاطے میں مقدمے کی سماعت پچھلے ستمبر میں اس وقت شروع ہوئی جب مشال خان کے والد نے مردان میں سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر مقدمے کی پیروی سے معذوری ظاہر کی تھی اور عدالت سے مقدمے کی سماعت ہری پورجیل میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران لگ بھگ 57 ملزموں اور 50 سے زیادہ گواہوں کے بیانات مکمل کیے گئے جبکہ اس دوران 57 ملزمان کے وکلاء نے بھی گواہوں پر جرح کی اور ملزمان کی صفائی میں دلائل پیش کئے۔

مشال خان کے والد کی پیروی پانچ وکلاء پر مشتمل ایک پینل نے کی ۔

پینل میں شامل ایک وکیل فضل خان کے مطابق 57 ملزموں میں سے لگ بھگ ایک درجن نے جزوی طور پر اپنے جرم یا جرم میں شریک ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

مشال خان کو قتل کرنے والے چار ملزم ابھی تک رو پوش ہیں جن میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک تحصیلدار بھی شامل ہیں۔

VOA

SHARE

LEAVE A REPLY