علی حسینی خامنہ ائی کی شہادت کی خبر مسلم امہ پر بجلی کی طرح گری۔نصرت نسیم

0
1656

خامنہ ائی نے شہادت کی عجب تفسیر کی
جان دے کر رسم شبیر کی یوں تشہیر کی
ایسے ہوتے ہیں نبی کی آل کے صفدر غلام
گھر کا گھر کٹوا دیا تقلید میں شبیر کی
ایران کے سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ائی کی شہادت کی خبر مسلم امہ پر بجلی کی طرح گری ، پوری دنیا میں ان کی شہادت کا سوگ اور اور مرگ پر امریکہ کے نعروں نے ایک بار پھر گویا کربلا کی یاد تازہ کر دی، سید علی حسینی خامنہ ائ نے حسینی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے باطل کی انکھوں میں انکھیں ڈالے رکھیں ،وہ نہ کبھی دبے نہ کبھی جھکے ۔
ہزارہا پابندیوں کے باوجود انہوں نے ایران کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالے رکھا ۔
انقلاب کے بعد انقلاب کو سنبھالنے اور اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نبرد ازما ہوتے ہوئے انہوں نے ایران کو اقتصادی پابندیوں کے باوجود ترقی کی راہوں پر گامزن کیا۔
ایران ایک سیسہ پلائی دیوار اور مزاحمت کا ایک بڑااستعارہن کر رہا۔ گزشتہ جنگ میں بھی ایران کی اعلی قیادت کی جرات و شجاعت اور خودداری کے ساتھ ساتھ عوام کے جذبات اور ہمت بھی قابل داد رہی، باطل ہمیشہ غداروں ، میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگوں سے ساز باز کرتا ہے اور اندرونی جاسوسوں کے ذریعے اپنے گھناونے کھیل کھیلتا ہے۔ اسلام میں یہود و نصاری کا کردار ہو یا سراج الدولہ کا پلاسی کا میدان ، باطل نے ہمیشہ ایسے ہی گھناونے اقدام سے فتح حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
حالیہ دنوں میں دجالی قوتوں نے ایک بار پھر اپنے پرانے مظموم ہتھکنڈے استعمال کر کے ایک نڈر اور غیرت مند لیڈر کو شہید کر دیا ۔
شہادت ہےمقصود و محمود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
وہ شہید ہو کر امر ہو گئے ان کے کردار کی بلندی ،عملی زندگی میں سادگی اور ارادے کی پختگی، اپنی قوم کا سودا نہ کرنا اور اخری وقت تک ڈٹے رہنا ان تمام خوبیوں نے پوری دنیا میں انہیں سرخرو کیا ہے اور ان کی شہادت نے، ان تمام مکروہ چہروں سے وہ نقاب وہ پردے نوچ ڈالے جو انہوں نے اپنے چہروں پر چڑھا رکھے تھے، ان کی شہادت سے حق و باطل میں امتیاز واضح ہو گیا ، ان کی شہادت نے دنیا کو بتا دیا کہ کون لوگ ہیں جو اپنی قوم، غیرت اور حمیت کا استعارہ ہیں اور کون لوگ ہیں کہ جو غیر ملکی اقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والے، ملک و قوم کا سودا کرنے والے ، ملک کی سالمیت کو بیچنے والے ہیں۔ اپنی زمین پر ایسے اڈوں کے قائم رکھنے والے ہیں جہاں سے وہ اپنے ہی بھائیوں کے اوپر آگ برسا سکیں اور مسلم امہ کو کمزور کر سکیں۔یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکمران کسی کے ساتھ بھی ہوں لیکن پوری دنیا کے عوام حق و انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں اور عوام کا یہ کھڑا ہونا حکمرانوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں ، مسلم امہ کو متحد رکھیں، وہ ایسی قوتوں کے الہ کار نہ بنیں کہ جو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے درپے ہوں ۔
امام خمینی سے لے کر سید علی حسین خامنہ ائ تک ایرانی لیڈروں کے جرات مردانہ کردار نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا ہے۔
اس شہادت پر اپنے ملک کے تمام لوگوں کے ساتھ ساتھ میرا دل بھی اس شہادت پر رنجیدہ و غمزدہ ہے ۔
میں اس عظیم سانحے پر ایرانی قوم اور اپ کو پرسہ پیش کرتی ہوں۔
وہ شہید ہیں اور شہید زندہ رہتے ہیں اللہ کرے ان کی یہ شہادت مسلم امہ کے اتحاد کا سبب بن جائے ایران کے اندر چھپے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور ایران اس خطے میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح استعمار کے راستے میں کھڑا رہے، ایران کا اس طرح کھڑا ہونا پاکستان کے لیے بھی ایک سدراہ ہے ۔
جس طرح کربلا نے حسین کی شہادت میں یزید کے اقتدار اور یزید کے نام کو مٹا ڈالا اس طرح میری دعا ہے کہ خامنہ ائی کی شہادت تمام باطل کی قوتوں کی شکست اور ان کی شرمناک شکست خوردگی کا اولین باب ثابت ہو مسلم امہ ہوش کے ناخن لینے اور اپس میں متحد ہونے کا باعث بن جائے انہیں یہ ادراک ہو کہ اپنی سرزمین پر وہ غیر ملکی اقاؤں کے اڈوں کو قائم کر کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی اپنی قومی سلامتی کو داؤ پر لگائیں علامہ اقبال نے بہت عرصہ پہلے فرمایا تھا
رہے گا وادی نیل و فرات میں کب تک
تیرا سفینہ کہ ہے بحر بے کراں کے لیے
مسلم دنیا کے پاس تیل کی دولت، افرادی قوت ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک جذبہ اتحاد کا پیدا ہو جائے تو کوئی قوت ان کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتی کاش مسلم امہ میں کوئی ایسا مرد حر پیدا ہو کہ جو اقبال کے خوابوں کو سچ کر دکھائے اور مسلم امہ کو ایک مرکز پر اکٹھا کر لائے، سید علی خامنہ ائ اقبال شناس تھےخود کو ان کا مرید کہتے،انہوں نے اقبال پر کتاب بھی لکھی ،یہ حقیقت ہے کہ اقبال کے کلام اور فکر کو ہم سے زیادہ ایرانیوں نے سمجھا اور ان کی انقلابی فکر پر عمل پیرا ہونے۔
خدا کرے کہ تہران مشرق کا جنیوا بنے اور مسلم امہ متحد ہو سکے
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر
اقبال کے مرد مومن ،مردحر ،شہید ملت کو آنسوؤں بھراسلام عقیدت

SHARE

LEAVE A REPLY