وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ۔نصرت نسیم

0
238

وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ مگر خود اس کی زندگی میں خون جگر کارنگ نمایاں اداسی وغم کے رنگ گھلےملے رنج و غم کی سیاہ شال میں لپٹی ہوئی زرد رو مخلوق وہ جس کی آمد پر آج بھی چہروں غم کا رنگ نمایاں
عورتوں کی مساوات کےنعرے لگانے والے آزادی نسواں کا دم بھرنے والے کئ مثالیں پیش کریں گے عورتوں کی ترقی اورمساوات کے مگر ان چندفیصد کو چھوڑ کر آج بھی خواتین کی اکثریت بنیادی اسلامی حقوق سے محروم
اورمیں تو یہ سمجھتی ہوں کہ اونچے طبقے کی خواتین رشتے ناطے بھی دولت،سیاست، اقتدارکی بھینٹ چڑھا دئیے جاتے ہیں مال و دولت کی فراوانی ہو تو اس خوف سے کہ جائداد پرایا بیٹا نہ لے سکے برادری میں بے جوڑ رشتے طے کر دے جاتے ہیں تو کبھی قرآن مجید کے ساتھ نکاح پڑھایا جاتا ہے یا پھربابل کی دہلیز پر بیٹھے بیٹھے بالوں میں چاندنی اتر آتی ہے
مردوں کے اس معاشرے میں مردشوہر ہو تو حق مہر دینے میں ڈنڈی مار جاتا ہے اف ہمارے خود ساختہ واسلامی قوانین سے متصادم اخلاقی میعار واقدار کہ بیوی نیک پروہن بن کر مہر معاف کر دے اور وراثت کامعاملہ در پیش ہو تواچھی پیاری بہن بن کر بھائیوں کے حق میں دستبردار ہو جائے اوراگر اپنا شرعی حق لینا چاہئے تو پھر وہ وہ القابات کہ توبہ ہی بھلی بھائیوں کے گھر کے دروازے بند ہونے کی دھمکی اسلئے بیشتر بہنیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے حق سے دستبردار ہو جاتی ہیں کہ ملنا بھی کچھ نہیں تو میل جول کیوں خراب کریں آج تک ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ بھائی ارب پتی ہوتے ہوئے اپنا حصہ غریب بہن کو دے دےکہ لوبہن میں تمہارے حق میں دستبردار ہوتا ہوں جبکہ بہن اپنے جائزاسلامی حق لینا چاہئے توسب خاندان اورمعاشرہ سنگ بدست ملتا ہے اوردشنام طرازی کے کیا کہنے
سورہ نساء میں مہراوروراثت کےاصول وضوابط تفصیل سے بیان کر دیا گئےہیں بلکہ ہر ایک کے حصے اللہ سبحان و تعالٰی نے خود متعین کر دئیے ہیں اورفرما دیا کہ یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ان کو مت توڑنا ورنہ انجام کار دوزخ میں ٹھکانہ ہوگا لیکن حرص و ہوس اور دولت کی محبت اللہ سبحان و تعالٰی کے بناے قانون کی دھجیاں یوں بکھیرتے ہیں کہ زندگی میں ہی جائداد بیٹوں کے نام لکھ دی جاتی ہے
بات صرف وراثت اور مہر نہیں کی نہیں ہمارے دوہرے میعار کی ہے مردوں کو نہایا دھویا گھوڑا کہہ کر اسکی ہر برائی سے صرف نظر کرتے ہیں اسلام مردعورت دونوں کوحیا وپاکیزگئ کردار کا حکم دیتاہے بلکہ مرد کی دوسری نگاہ پر بھی پابندی عائد کرتاہےجب کہ عورت کےمعمولی جرم پربھی کاری کیاجاتاہےتیزاب پھینکا جاتا ہے بھائی کی جان بچانے کے لیے صلح کی میز پر رکھ دی جاتی ہے سورہ کی رسم اسلامی شریعت کامنہ چڑاتی ہوئی جب کہ مرد کتنا بھی بدکردار ہو کلف لگے سفید لباس میں کردار کی سیاہی کوچھپاےوالدین اور سماج کاچہیتا
اس معاشرے میں ہم عورت کے حقوق کی کیا بات کریں جہاں گالی گلوچ بھی ماں بہن کی گالی سےشروع ہوتی ہو
اسلام نے تو 14 سو سال پہلے عورت کو جینے کا اور معاشی خودمختاری کے ساتھ سر اٹھا کر جینے کا حق دیا لائق عزت و احترام بیٹی کی حیثیت سے بہن کی حیثیت سے بیوی کی حیثیت سے اورماں کو وہ بلند ترین مرتبہ جنت قدموں تلے،
اوراپنی محبت کی وضاحت یوں کی کہ اللہ سبحان و تعالٰی اپنے بندوں سے 70 ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے سبحان اللہ
کاش ہمارے علماء کرام جمعہ کے خطبہ عورت کے مقام اوراسلامی قوانین سے عوام کو آگاہ کریں
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

نصرت نسیم 

SHARE

LEAVE A REPLY