اگر کبھی اس کا دنیابین الاقوامی مقابلہ منعقد ہواتو پاکستانی قوم گولڈ میڈل لیکر آئے گی۔ حالانکہ ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وقت کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیئےایک چھوٹی سی سورت بہت ہی شروع میں نازل فرمادی تھی جس کا نام ہے سورہ والعصر۔ جو چند لائنوں پر مشتمل ہے۔ مگر جیسے اسے حرم شریف کے دروازے پر لگایا گیا۔ تو عرب جنہیں اپنی فصاحت پر ناز تھا وہ چلا اٹھے کہ یہ کسی انسان کلام نہیں ہوسکتا۔ اور حضرت امام شافعیؒ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ اگر اللہ سبحانہ تعالیٰ صرف یہ ہی ایک صورت نازل فرمادیتا تو کافی تھی؟ لیکن مسلمانوں نے اس ہدایت کے باوجود کہ قرآن پر زیادہ سے زیادہ غور کرو؟ غور نہ کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔لہذااسے چھوٹی صورت سمجھ کر نمازوں میں تو امام دوسری رکت میں پڑھتے ہیں اور مقتدی سنتے بھی ہیں، مگر معنی نہ معلوم ہونے کی وجہ سے ہماری اکثریت اس کی بڑائی کے بارے میں کچھ زیادہ واقفیت نہیں رکھتی؟ وہ روز سننتی ہے اور گھر چلی جاتی ہے؟جس کے معنی یہ ہیں کہ قسم ہے“ وقت“ کی کہ انسان خسارے میں ہے! سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک کام کیئے (پھر) دوسروں کو تلقین کی اور صبر اپنانے کی ہدایت کی“ ان چند آیات کو پڑھیے اور فیصلہ کیجئے کہ کیا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس میں پورا اسلام نہیں سمودیا ہے۔ کیا ہم اس پر عامل ہیں جوا للہ سبحانہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت فرمائی ہے اور جس پر ہمارادین اور دنیا بنتے ہیں ۔ اوراس پر عمل کرکے فلاح پانے والوں میں بآآسانی شامل ہوسکتےہیں۔ لیکن ہم اس کے برعکس وقت انتہائی فضول کاموں میں ضائع کرتے ہیں ۔ اور اس میں سب سے زیادہ وقت ہمارا میڈیا برباد کرتا ہے۔ جس میں دانشوروں کا تناسب سب سے زیادہ ہے جبکہ قرآن نے بار بار “اولالباب“ کہہ کران کو خاص طور مخاطب کیا ہے۔ اس لیے کہ قرآن قیامت تک کے لیے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے۔
دوتین دن پہلے کی بات ہے کہ ایم کیوایم(پار لیمانی گروپ) میں ا ختلافات پیدا ہوگئے ا ور دو گروپ بن گئے! اس کی تفصیل تو جانے دیجئے ؟ صرف ایک پٹی کو لے لیجئے کہ“ فاروق ستار صاحب اب پہونچے کہ تب بہادر آبادپہونچے “ وہ پٹی چار دن اور رات چلتی رہی اور گاہے، گاہے اس کی تفصیلات بھی چلتی رہیں اور ہر رپورٹراس فکر میں تھا کہ سب پہلے وہ انکی ایک جھلک دیکھے اور فوراً اینکر کو اطاع دیکراورا س فعل میں شرفِ اولیت حاصل کر کے فاتح ٹیم میں شامل ہوجائے ۔ہوا کچھ بھی نہیں اور وہی پٹی چوتھی رات کے ساڑھے تین بجے اس میں تبدیل ہوگئی کہ“ ا ب کل صبح نو بجے صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر میں دونوں گروپ ملیں گے۔ آپ ممکن ہے کہ ہم سے پوچھ بیٹھیں کہ آپ کیوں چاررات جاگتے رہے؟ ہم ایسی غلطی کرنے والے کہاں؟ یہ بات تو ڈاکٹر فاروق ستار نے ہی بعد میں خود پریس کانفرنس میں کہی کہ میں ٹیلیفون پر تھا میں ان سے کہتا رہا کہ تھوڑا“ انتظار کرو میں پہونچنے والا ہوں اور گلہ بھی کہ“ انہوں نے میرا انتظار نہیں کیا مجھے بھی تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنا تھا“ کیا واقعی یہ اتنا بڑ مسئلہ تھا ،جواب کراچی والوں پر چھوڑتا ہوں کہ سب کچھ تج دیا جائے؟
جبکہ کراچی بڑی بہت بڑی آبادی رکھنے والا شہر ہے ، جہاں پر ہر لمحے کچھ نہ کچھ رونما ہوتا رہتا ہے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ساری خبریں دب گئیں ۔ جو اس دوران رونما ہوئیں اور میڈیا میں وہ اہمیت نہ حاصل کرسکیں وہ جس کی حقدار تھیں ۔ اندازہ لگائیے کتنا وقت اس پر پوری قوم کا خراب ہوا ہوگا؟ چلیے مسلمان کہلانے کے باوجود اللہ کی بات نہ ماننا تو ہماری فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔ ان ہی کی بات مان لیتے ،جن کی باتیں آجکل فیشن میں داخل ہیں؟ ان کے یہاں انگریزی میں ایک معقولہ ہے منی ازٹائم اور ٹائم از منی
(Money is time and time is money
وہی مان لیتے , حالانکہ یہ بھی وہ کہیں اور سے لا ئے ہیں؟ بلکہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بھی ہمارے یہاں سے لیا ہے؟ کیونکہ وہ اس کے قائل ہیں کہ جہاں اچھی چیز ملے اسے حاصل کرلو؟ جبکہ ہمیں یہ تعلیم چودہ سو سال پہلے مل گئی تھی ایک حدیث کی شکل میں۔ کہ“ علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین جانا پڑے“ وہ ہماری چیزوں کو کس طرح اپناتے ہیں اس کی ایک مثال میں آپ کو دیتا ہوں کہ میں پندرہ بیس سال پہلے وینکور میٹرو کریکشن سینٹرز( جیلخانہ جات) کی ایڈوئزاری کمیٹی کا ممبر تھا میں ایک سینٹر کے دورے پر گیا تو دیکھا کہ جیلر صاحب نے اپنے دفتر میں بہت سے طغرے انگریزی میں لگا رکھے ہیں جن کے نیچے حوالے کی جگہ پر لکھا ہو ا کہ میں نے نگاہ ڈالی تو وہ قرآنی آیات کے ترجمے تھے؟ میں نے ان سے تصدیق چاہی کہ یہ تو قرئی آیات ہیں ؟ اس کاجواب ملا ہاں ! میں نے پھر پوچھا کہ آپ نےکیوں لکھا ہے قرآن کا حوالہ دینا چاہیئے تھا؟ تو جواب میں انہوں نے کہا کہ “ پھر اسے کوئی نہیں پڑھتا جبکہ میں ان اچھی باتوں کو قیدیوں تک پہونچانا چاہتا تھا“ حالانکہ یہ حکم ہمیں ملا تھاکہ جہاں اچھی باتیں ملیں لیلو؟ ہم نے اس کو اہمیت ہی نہیں دی بلکہ اپنے چیزیں بھی سنبھال کر نہیں رکھیں! جب کہ وہ ہماری ہی لائبریروں سے لے کر اور انہیں استعمال کرکے اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں؟ اور جب اپنی بعض چیزوں کوجب وہ ا ستعمال کرکے ان کی برائیں جان کر ترک کر چکے ہوتے ہیں تو ہم اپناتے ہیں تاکے ان کے کارخانے بند نہ ہوں؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں سوچنے سمجھ نے کی صلاحیتیں عطا فرما ئے (آمین)













