یہ ذکر ہے اس ایک چھوٹے سے ٹویٹ کا، جس میں پاکستان کے وزیراعظم عمران کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے گویا اپنی زندگی کی پوری کہانی بیان کردی
آپ نے سنا ہوگا کہ چند ہفتے قبل ملکہ برطانیہ کے چھوٹے پوتے یعنی شہزادی ڈیانا کے صاحبزادے شہزادہ ہیری شاہی زندگی کی تمام شان و شوکت ترک کر کے اپنی ایلیہ میگھن کے ہمراہ کینڈا منتقل ہو گئے، جہاں سے میگھن کا تعلق ہے
ان کے جانے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے ٹیبلائڈز یعنی سنسنی خیز خبریں پھیلانے والا میڈیا میں اپنی غیر
برطانوی اہلیہ کے لئے پائے جانے منفی رویوں اور نسلی تعصب سے بہت دل برداشتہ ہوگئے تھے
شہزادہ ہیری کے جانے سے یہ اور زیادہ منکشف ہوگیا کہ شاہی خاندان کو خود کو ملنے والی مراعات کی بھاری قیمت چکانی کرنی پرٹی ہے اور ٹیکس دہندگان کے پیسے کو جواز بناتے ہوئے یہاں کا کمرشل میڈیا شاہی افراد کی خانگی زندگیوں کے شب و روز پر غیر ضروی کڑی نظر رکھتا ہے اور بعض اوقات ان کی زندگیوں میں بیجا مداخلت کرتا ہے جو ظاہرہے ان کے لئے اذیت کا باعث ہوتا ہے
یوں لگتا ہے اس واقعے پر وزیراعظم عمران کی سابقہ اہلیہ جما ئما گولڈ سمتھ کو عمران خان سے علیحدہ ہونے کے سارے منظر سامنے آ کھڑے ہوئے، جیسے ان کے ذخم پھر سے ہرے ہوگئے
ان کے خاندانی پس منظر اور نسل کو جواز بنا کر جو نشتر انھٰیں چبھوئے گئے وہ درد وہ ذہنی اذیت وہ بھلا نہیں سکیں، عمران خان سے ان کی محبت کی طرح یہ دکھ بھری یادیں ابھی تک ان کے دل کے نہاں خانے میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔
وہ بہت کم ٹوئیٹ کرتی ہیں مگر
یوں لگا جیسے وہ شدت جذبات پرقابو نہ رکھ سکیں
اورانھوں نے اپنے ٹو ئیٹ میں لکھا
میں بخوبی جانتی ہوں
میگھن کس ذہنی اذیت سے گزرتی رہی ہونگی، کسی دوسرے ملک کے قومی ہیرو سے شادی کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، میرے سے زیادہ کون واقف ہوگا کیونکہ
میں نے بھی ایک دوسرے ملک کے قومی ہیرو سے شادی کی تھی، لیکن پاکستان میں ہمیشہ میرے خاندانی پس منظر کو جواز بنا کر مجھے طعن و تشیع کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ کرکٹر عمران خان نے ۱۹۹۵ میں ۴۳ برس کی عمر میں
اکیس سالہ برطانوی نثراد جمایما گولڈسمتھ سے شادی کی جو ایک ارب پتی یہودی تاجر کی صاحبزادی تھیں۔
عمران خان پاکستان کے وہ پہلے قومی ہیرو تھے جنھوں نے ایک برطانوی لڑکی سے شادی کی اور وہ بھی ایک یہودی خاندان کی، جسے پاکستان کے سماج میں بلکل ایک گالی سمجھا جاتا ہے
عمران خان کی زندگی میں داخل ہونے سے پہلے جمائما نے اسلام قبول کرلیا
اپنے ہیرو کے ساتھ محبت بھری زندگی گزارنے کے خوبصورت آنکھوں میں کتنے ہی خواب سجائے وہ پاکستان آئیں
جہاں عمران خان کے چاہنے والوں اور
جواں نسل نے جمائما کو ہاتھوں ھاتھ لیا لیکن کچھ عناصر نے انھیں یہودی کی لڑکی کے خطا ب سے نوازا
اس میں کٹر مذہبی عقائد کے علاوہ وہ پس پردہ طا قتور حلقے بھی شامل تھے جو عمران خان کو سیاست کے لئے تیار کر رہے تھے
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاسی جماعتیں کوئی مثبت کردار ادا کرتیں مگر انھوں نے اس بھر پور فائدہ اٹھایا اور اس منفی پرپیگنڈے کوعمران خان کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کیا
جس میں میاں نواز شریف کی مسلم لیگ اور مولانا فضل الرحمان پیش پیش تھے۔
سب ہی جانتے ہیں کہ جمائما نے عمران خان کے لیے اپنے خاندان، مال و دولت اور برظانیہ کی گلیمرس زندگی تیاگ دی
وہ ایک مختلف ثقافت سے آئیں تھیں
مگر ان کی زندگی کے ابتدائی برسوں کو دیکھا جائے تو بخوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے، انھوں نے پاکستان کے طرز معاشرت میں ڈھلنے کی ہر ممکن کوشش کی دو بچوں کی ماں بنٰیں اور عمران خان کی سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
وہ شوکت خانم ہسپتال کی شہرت اور ترویج کے لئے اپنے ذاتی تعلقات پر شہزادی ڈیانہ کو دو مرتبہ اپنے والد کے نجی طیارہ میں پاکستان لے کر آئیں، جب عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو جمائما بہت محنت سے تیاری کرکے انتخانی ریلیوں سے اردو میں خطاب کرتی رہیں
عمران خان جس عالی شان رہائش گاہ میں رہتے ہیں، اس کی زمین بھی اپنے شوہرکے لئے جمائما کا تحفہ تھا، جس کا اعتراف خود عمران خان کرچکے ہیں
مگرافسوس کہ کچھ بھی ان کے کا م نہ آیا ان کے احسانوں کا بدلہ یوں دیا گیا کہ
نسلی تعصب اور عدم برداشت سے بھرے رویوں نے ان کی ہنستے بستے گھر کی فضاؤں کو اتنا زہر آود اور بوجھل کردیا کہ گھر کے مکینوں عمران خان اور جمائما کو علیحدگی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا اور بلا آخر جمائما کو گھر چھوڑنا پڑا
علیحدگی کے بعد
جمائما نے عمران خان کو کبھی برا بھلا نہیں کہا کبھی غلط الفاظ استعمال نہیں کیے
ایک انٹرویو میں البتہ انھوں نے کہا کہ باوجود اس کے کہ میں دل سے اسلام قبول کرچکی تھی مگر میرے خاندانی پس منظر کی وجہ سے مجھے ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا گیا میرے خلاف کفر کے فتوے جاری کئے گئے یہاں تک کہ مجھے قتل کی دھمکیاں تک دی گیں
افسوس کہ ہم اس نبی کے ماننے والے ہیں جنھوں نے اسلام قبول کرنے والوں کو اپنے دل میں جگہ دی اور ساتھ لیکر چلے، مگر ہمارے معاشرے میں
منافقت، تنگ نظری اور نفرت کی یہ ایک بد ترین مثال ہے
ماہ پارہ صفدر













