سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس کے فیصلے کے خلاف سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے نظرثانی اپیل دائر کردی۔
عدالت عظمیٰ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل کے توسط سے دائر کی گئی اس اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) بینکنگ عدالت میں حتمی چالان داخل کرانے میں ناکام رہی جبکہ ایف آئی اے تمام اداروں کی مدد کے باوجود کوئی قابل جرم شواہد تلاش نہیں کرسکی۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ چاہتے تھے کہ معاملہ صاف اور شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچے اور اسے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے اور تحریری جواب دیا۔
سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کی درخواست کے مطابق ایف آئی اے کی استدعا پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی، تاہم جے آئی ٹی ہمارے خلاف براہ راست شواہد تلاش نہیں کرسکی۔
انہوں نے درخواست میں الزام لگایا کہ جے آئی ٹی نے ہمارے مؤقف کو شامل کیے بغیر رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی، یہ رپورٹ مفروضات اور شکوک و شبہات پر مبنی تھی۔
درخواست کے مطابق جے آئی ٹی نے بھی معاملے کی مزید تحقیقات کی سفارش کی جبکہ عدالت عظمیٰ نے تسلیم کیا کہ جے آئی ٹی قابل قبول شواہد نہیں لاسکی۔
درخواست میں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام جے آئی ٹی سے نکالنے کے زبانی حکم کو فیصلے کا حصہ نہیں بنایا۔
عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ آصف زرداری کو ساری زندگی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مقدمے کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔
سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور نے اپنی درخواست میں کہا کہ قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی نہیں بنائی جاسکتی جبکہ سپریم کورٹ کے حکم سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوگا، لہٰذا عدالت عظمیٰ اپنے 7 جنوری کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
خیال رہے کہ 7 جنوری 2019 کو اپنے مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجتے ہوئے معاملے کی ازسر نو تحقیقات کی ہدایت دی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ سے نکالنے کا حکم بھی دیا تھا۔
تاہم بعد ازاں 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاوٹنس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے فی الحال نکال دیا جائے۔
جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل تھا جس کو جسٹس اعجازالاحسن نے تحریر کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں رکھنے سے اُن کے کام میں مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔
جسٹس اعجازالاحسن نے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ بلاول بھٹو ذرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے تاہم بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے خلاف تحقیقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نیب مراد علی شاہ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر کے خلاف تحقیقات جاری رکھے اور دونوں کے خلاف شواہد آئیں تو نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔













